شہری ووٹر ایس آئی آر کے دوران اپنا پتہ گاؤں میںمنتقل کرنے کا فارم بھررہے ہیں،جس سے شہری علاقوںمیںبی جےپی کا ووٹ بینک شدید متاثر ہوسکتا ہے
EPAPER
Updated: December 16, 2025, 8:21 AM IST | Lucknow
شہری ووٹر ایس آئی آر کے دوران اپنا پتہ گاؤں میںمنتقل کرنے کا فارم بھررہے ہیں،جس سے شہری علاقوںمیںبی جےپی کا ووٹ بینک شدید متاثر ہوسکتا ہے
لکھنؤ کے اندرا نگر میں رہنے والے راجیو تیواری۱۵؍سال سے شہر میں کام کر رہے ہیں۔ ان کے بچے بھی وہیں پڑھ رہے ہیں۔ اس کے باوجود، جیسے ہی ووٹر لسٹ کی اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) شروع ہوئی، انہوں نے اپنے پورے خاندان کے ساتھ بلرام پور میں اپنے آبائی گاؤں میں ووٹ منتقل کرنے کیلئے ایک فارم بھرا۔ جب ان سے وجہ پوچھی گئی تو انہوں نے صرف اتنا کہا کہ ان کی گاؤں میں کھیتی ہے ۔ ا ن کے آدھار کارڈ پر بھی جو پتہ ہے وہ گاؤں کا ہے،اس لئے اگر ان کا نام ووٹر لسٹ سے ہٹ بھی گیا تو مستقبل میں کوئی پریشانی نہ ہو۔راجیوتیواری اس معاملے میں تنہا نہیں ہیں ۔ ایسے ہزاروں شہری ووٹروں نے اس بار شہروں کے بجائے دیہاتوں میں ووٹ ڈالنے کا انتخاب کیا ہے۔ البتہ یہ واضح نہیں ہےکہ ان کا سیاسی جھکاؤ کس طرف ہےلیکن یہ تبدیلی بی جے پی کیلئے تشویش کا باعث ہے۔ شہری علاقوں میں ووٹروں کی تعداد میں کمی بی جے پی کو نقصان پہنچا سکتی ہے، کیونکہ شہری علاقے حالیہ برسوں میں بھگوا پارٹی کیلئے مضبوط سیاسی گڑھ ثابت ہوئے ہیں۔شہری ووٹروں کی ان کے دیہی پتوں پر تیزی سے واپسی کا براہ راست اثر ان نشستوں پر پڑ سکتا ہے جو طویل عرصے سے بی جے پی کا گڑھ رہی ہیں۔ الیکشن کمیشن نے اب اس مشق کی آخری تاریخ۱۱؍ دسمبر سے بڑھا کر ۲۶؍ دسمبر کر دی ہے۔ اگرچہ یہ یقینی طور پر پارٹی کیلئے ایک راحت ہے لیکن زمینی رجحانات نے خدشات کو جنم دیا ہے۔شہری ووٹ بینک میں اس ہلچل نے اچانک بی جے پی کو چوکنا کر دیا ہے۔ گزشتہ ہفتے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے تمام ممبران پارلیمنٹ اور ایم ایل ایز کے ساتھ آن لائن میٹنگ کی اور انہیں صورتحال کا سنجیدگی سے جائزہ لینے کی ہدایت دی ۔ اس کے بعد، دونوں نائب وزرائے اعلیٰ، کیشو پرساد موریہ اور برجیش پاٹھک، تنظیم کے جنرل سیکریٹری دھرم پال سنگھ اور ریاستی صدر بھوپیندر چودھری نے مختلف اضلاع کا دورہ کرکے ایس آئی آر کے کام کا جائزہ لینا شروع کیا۔
پارٹی نے اپنے ایم پی اور ایم ایل اے سے کہا ہے کہ وہ ایس آئی آر کے دوران کسی بھی سماجی تقریبات، یہاں تک کہ شادیوں میں شرکت سے بھی گریز کریںاور صرف مہم کی نگرانی پر توجہ دیں۔ لکھنؤ میں، پارٹی کا اندازہ ہے کہ تقریباً۱۰؍سے۱۲؍ فیصد ووٹر دیہی علاقوں میں منتقل ہو سکتے ہیں۔ شہر کی ۳؍ لوک سبھا سیٹوں پر کل ۲۱ء۷۳؍لاکھ ووٹرز ہیں جن میںسے۱۲؍ فیصد تقریباً ۲ء۶؍ لاکھ ووٹوں کے برابر ہے ۔ یہ تعداد کسی بھی الیکشن کا نتیجہ بدلنے کیلئے کافی ہے۔بی جے پی لیڈران بھی اس تبدیلی سے پریشان ہیں ۔ یوپی بی جے پی کے ایک سینئر لیڈرکے مطابق ’’پارٹی کی اصل تشویش یہ ہے کہ بڑی شہری آبادی عام طور پر پولنگ کے دن زیادہ جوش و خروش کا مظاہرہ نہیں کرتی ۔ اگر ان کے ووٹ گائوں میں منتقل ہوتے ہیں، تو ان کیلئے پولنگ کے دن۵۰؍سے۳۰۰؍کلومیٹر کا سفر کرنا مشکل ہو جائے گا۔ یہ براہ راست نقصان کا باعث بنے گا۔‘‘
درحقیقت، بہت سے شہری ووٹرز جو اپنے آبائی گائوں میں زمین یا جائیداد کے مالک ہیں، ڈرتے ہیں کہ اگر وہ اپنے گاؤں میں دیہی باشندوں کے طور پر درج نہیں ہوتے تو مستقبل میں ان کے املاک وجائیداد پر دعوے متنازع ہوسکتے ہیں ۔ یہ خوف انہیں دیہاتی پتوں پر واپس لے جا رہا ہے۔بی جے پی کی تشویش اس لئے بھی بڑھ گئی ہے کہ شہری علاقے اس کا انتخابی گڑھ رہے ہیں۔ ۲۰۲۴ء کے لوک سبھا انتخابات میں اپنی نصف سیٹیں کھونے کے باوجود، پارٹی نے۱۷؍شہری سیٹوں میں سے۱۲؍ پر کامیابی حاصل کی۔ ۲۰۲۲ء کے اسمبلی انتخابات میں بھی اس نے۸۶؍شہری سیٹوں میں سے۶۵؍ پر کامیابی حاصل کی تھی۔ یہ علاقے۲۰۱۷ء میں بی جے پی کی تاریخی جیت کی بڑی بنیاد بھی تھے ۔۲۰۲۳ء کے میونسپل انتخابات میں،بی جےپی نے میونسپل کارپوریشنوں میں میئر کی تمام ۱۷؍ سیٹیں جیتیں اور۵۷؍فیصد کونسلرز بھی اسی کے جیتے۔ بی جے پی نے طویل عرصے سے شہری ووٹروں کو اپنی حمایت کی بنیاد کے طور پر دیکھا ہے۔ اب انہی علاقوں میں کم ہوتی حمایت پارٹی کی حکمت عملی کو متزلزل کر رہی ہے۔الہ آباد (پریاگ راج) میں، پارٹی نے تقریباً۲ ؍ لاکھ ووٹروں کی شناخت کی ہے جنہوں نے اپنے نام شہر سے دیہات میںمنتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مقامی بی جے پی لیڈران اور بوتھ لیول ایجنٹس مسلسل فون کالز اور دوروں کے ذریعے انہیں یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ باقی شہری ووٹروں کو ان کے گاؤں کی املاک کو کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔۲۰۲۴ء کے لوک سبھا انتخابات میں کانگریس نے الہ آباد سیٹ پر۵۸۷۹۵؍ ووٹوں سے کامیابی حاصل کی۔ پارٹی کا حساب ہے کہ۲؍ لاکھ ووٹروں میں سے ایک چوتھائی بھی جو بی جے پی کے حامی تھے،۲۰۲۷ء کے اسمبلی انتخابات میں پارٹی کے امکانات کو روک سکتے ہیں۔
ایودھیا میں بھی صورتحال مختلف نہیں ہے۔ پارٹی کا اندازہ ہے کہ یہاں تقریباً۴۱؍ ہزار ووٹر ایس آئی آر میں اپنے گاؤں کے پتے درج کر رہے ہیں۔۲۰۲۴ء کے لوک سبھا انتخابات میں پارٹی کو یہاں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ایڈوکیٹ شیلندر کمار سنگھ بتاتے ہیں’’ان ووٹروں کے گاؤں واپس آنے کی کئی وجوہات ہیں۔ ایک جائیداد سے متعلق خدشات، جنہیں سیاسی پارٹیاں دور کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ دوسرا، کرائے پر رہنے والے نوجوان جو ملازمت کیلئےرہتے تو شہروں میں ہیں لیکن یہ بھی چاہتے ہیںکہ ان کے خاندان کا ریکارڈ گاؤں میں باقی رہے۔
بی جے پی تنظیم لوگوں کو یقین دلانے کی کوشش کر رہی ہے کہ شہروں کی ووٹر لسٹ میںنام ہونے سے دیہی املاک پر کوئی اثر نہیں پڑتا لیکن یہ دلیل ہر جگہ کام نہیں کر رہی ہے۔ کئی خاندانوں کا کہنا ہے کہ اگر زمین کا تنازع کھڑا ہوتا ہے تو گاؤں میں نام درج ہونے پر ہی مقدمہ مضبوط ہوتا ہے ۔اس دوران ایک مختلف قسم کا چیلنج بھی سامنے آیا ہے۔ وارانسی، متھرا۔ورنداون اور ایودھیا جیسے مذہبی شہروں میں سادھوؤں اور سنیاسیوں تک پہنچنا اور انہیں ایس آئی آر فارم بھروانا پارٹی کیلئے مشکل ہو گیا ہےکیونکہ یہ طبقہ اکثر سرکاری دستاویزات میں اپنے روحانی گرو کو باپ کے طور پر لکھتا ہےاورماں کے نام کا کالم خالی چھوڑ دیتا ہے۔مقامی لیڈروں نے خدشہ ظاہر کیا کہ نامکمل فارموں کی وجہ سے ان کے نام فہرست سے نکالے جا سکتے ہیں۔ ایس آئی آر ڈیٹا آنے والے ہفتوں میں ایک واضح تصویر سامنے لے آئے گا۔ تاہم، موجودہ اشارے بتاتے ہیں کہ یوپی میں بی جے پی کیلئے یہ محض ایک انتظامی مشق نہیں ہے، بلکہ اس کے روایتی ووٹ بینک کو بچانے کا امتحان ہے۔n(بشکریہ انڈیا ٹوڈے)