• Thu, 29 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

نوواک جوکووچ کی باسل میں واپسی، مشکل حالات کا سامنا کرتے ہوئے کورٹ پر اترے

Updated: October 29, 2026, 6:04 PM IST | Basel

ٹینس کی دنیا کے معروف کھلاڑی نوواک جوکووچ کی باسل میں واپسی سے متعلق خبر میں ان کی کارکردگی اور میچ کے دوران پیش آنے والے مشکل حالات خاص توجہ کا مرکز ہیں۔ ’’Djokovic weathers the storm on return to Basel‘‘ کا مطلب ہے کہ جوکووچ نے باسل میں واپسی کے موقع پر دباؤ اور مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے کھیل جاری رکھا۔

Novak Djokovic.Photo:X
نوواک جوکووچ۔ تصویر:ایکس

ٹینس کی دنیا کے معروف کھلاڑی نوواک جوکووچ کی باسل میں واپسی سے متعلق خبر میں ان کی کارکردگی اور میچ کے دوران پیش آنے والے مشکل حالات خاص توجہ کا مرکز ہیں۔ ’’Djokovic weathers the storm on return to Basel‘‘ کا مطلب ہے کہ جوکووچ نے باسل میں واپسی کے موقع پر دباؤ اور مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے کھیل جاری رکھا۔ تاہم، میچ کے حتمی نتیجے، حریف کھلاڑی اور سیٹوں کی تفصیلات کی تصدیق کے بغیر ان کے میچ کی مکمل روداد بیان کرنا درست نہیں ہوگا۔

یہ بھی پڑھئے:پی وی سندھو اور لکشیا سین ہائیلو اوپن کے دوسرے دور میں

سربیا سے تعلق رکھنے والے ۳۹؍ سالہ جوکووچ نے بدھ، ۲۸؍ اکتوبر کو فرانس کے یوگو امبر کو سخت مقابلے کے بعد۶۔۴، ۳۔۶، ۴۔۶؍ سے شکست دی۔ اس جیت کے ساتھ وہ سوئس اِنڈورز باسل ٹورنامنٹ کے دوسرے دور میں پہنچ گئے۔ جوکووچ تقریباً ۱۵؍ سال بعد اس ٹورنامنٹ میں واپس آئے ہیں؛ انہوں نے آخری مرتبہ ۲۰۱۱ء میں باسل میں حصہ لیا تھا۔ مقابلے کے پہلے سیٹ میں امبر نے جارحانہ کھیل کا مظاہرہ کیا اور جوکووچ کی سروس توڑ کر ۴۔۶؍ سے سیٹ جیت لیا۔ فرانسیسی کھلاڑی نے تیز شاٹس کے ذریعے جوکووچ کو مسلسل دباؤ میں رکھا اور انہیں اپنی معمول کی رفتار حاصل کرنے کا موقع کم دیا۔ جوکووچ کو انڈور ہارڈ کورٹ کے حالات سے ہم آہنگ ہونے میں بھی کچھ وقت لگا۔
دوسرے سیٹ کے آغاز میں امبر نے دباؤ برقرار رکھنے کی کوشش کی، لیکن جوکووچ نے اہم موقعوں پر اپنی سروس بچائی اور پھر حریف کی سروس توڑ کر مقابلے کا رخ بدل دیا۔ انہوں نے دوسرا سیٹ ۳۔۶؍ سے جیت کر میچ برابر کر دیا۔ فیصلہ کن تیسرے سیٹ میں بھی مقابلہ سخت رہا، لیکن پانچویں گیم میں امبر کی سروس توڑنا جوکووچ کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوا۔ آخرکار انہوں نے ۴۔۶؍ سے سیٹ جیت کر میچ اپنے نام کر لیا۔   میچ کے بعد جوکووچ نے اعتراف کیا کہ انہیں پہلے ہی پوائنٹ سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے مطابق امبر انتہائی جارحانہ انداز میں کھیل رہے تھے اور انہیں شاٹس کھیلنے کے لیے زیادہ وقت نہیں دے رہے تھے۔ جوکووچ نے کہا کہ انہیں اس دباؤ سے نکلنے اور اپنی تال حاصل کرنے میں وقت لگا، لیکن دوسرے سیٹ کے آغاز میں اہم پوائنٹس جیتنے کے بعد ان کا اعتماد بحال ہوا۔انہوں نے اس کامیابی کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں معلوم ہے کہ اپنے کھیل میں مزید بہتری کی گنجائش موجود ہے، لیکن مشکل مقابلے میں کامیابی حاصل کرنا بھی اہم ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:آسکر کے لیے نامزد معروف اداکارہ باربرا بیری ۹۵؍ برس کی عمر میں انتقال کر گئیں

باسل میں یہ کامیابی جوکووچ کے لیے صرف ایک میچ جیتنے تک محدود نہیں، بلکہ سال کے اختتام پر ہونے والے اے ٹی پی فائنلز میں جگہ بنانے کی کوشش کے لیے بھی اہم ہے۔ اس ٹورنامنٹ میں سال بھر کی کارکردگی کی بنیاد پر سرفہرست کھلاڑی حصہ لیتے ہیں۔ تازہ اطلاعات کے مطابق جوکووچ ٹورین میں ہونے والے اے ٹی پی فائنلز کی دوڑ میں ۱۱؍ویں مقام پر تھے اور اسپین کے رافیل جودار سے ۳۱۹؍  پوائنٹس پیچھے تھے۔ باسل میں جیت نے انہیں مزید اہم پوائنٹس حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ جوکووچ اس سال بیجنگ میں چائنا اوپن کا خطاب بھی جیت چکے ہیں، جہاں انہوں نے اپنے کریئر کا  ۱۰۲؍واں اے ٹی پی ٹور ٹائٹل حاصل کیا تھا۔ 
باسل ٹورنامنٹ کے دوسرے دور میں جوکووچ کا مقابلہ جرمنی کے جان لینارڈ شٹرف سے ہونا ہے۔ جوکووچ اس سے پہلے شٹرف کے خلاف اپنے تمام آٹھ مقابلے جیت چکے ہیں، تاہم باسل میں اگلا میچ ان کے لیے ایک نیا امتحان ہوگا۔ مجموعی طور پر، باسل میں نوواک جوکووچ کی واپسی ایک مشکل مگر کامیاب آغاز ثابت ہوئی۔ پہلا سیٹ ہارنے کے باوجود انہوں نے اپنی حکمت عملی بہتر بنائی، اہم پوائنٹس پر گرفت مضبوط کی اور یوگو امبر کو شکست دے کر اگلے دور میں جگہ بنائی۔ اب ان کی نظریں باسل میں مزید کامیابیوں اور اے ٹی پی فائنلز کے لیے کوالیفائی کرنے پر مرکوز ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK