اب سونو سود بھینسوں کی مدد کیلئے آگے آئے،رکشے پرچارا لے کر پہنچے

Updated: July 26, 2021, 2:30 PM IST | Agency | Mumbai

مشہور اداکار سونو سود نے ایسے وقت میں لوگوں کی مدد کی جب کورونا وائرس کی وبا پورے ملک بلکہ پوری دنیا میں پھیلی ہوئی تھی۔ایسے میں لوگوں نے انہیں اپنا مسیحا سمجھنا شروع کردیا۔

Sonu Sood.Picture:INN
اداکار سونو سود۔۔تصویر: آئی این این

 مشہور اداکار سونو سود نے ایسے وقت میں لوگوں کی مدد کی جب کورونا وائرس کی وبا پورے ملک بلکہ پوری دنیا میں پھیلی ہوئی تھی۔ایسے میں لوگوں نے انہیں اپنا مسیحا سمجھنا شروع کردیا۔ یہاں تک کہ اداکار بھی لوگوں کی کسی نہ کسی طرح مددکیلئے سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتے رہتے ہیں۔ اسی دوران لوگوں کے حقیقی ہیرو بن چکےسونو سود نےحال ہی میں ایک ایسا ویڈیو شیئر کیا ہے جو سرخیوں میں آگیا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ اس ویڈیو میں اداکار سونو سود کو رکشہ چلاتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے اور ان کے پیچھے بیٹھا ہوا شخص دودھ فروخت کرنے والا ہے۔
 اس ویڈیو کو اداکار سونو سود نے خود انسٹاگرام پر شیئر کیا ہے۔ اداکار نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئےکیپشن میں لکھا’’یہ وقت ہے بھینس کو کھانا کھلانے کا۔ سونو سود دی ملک مین۔‘‘
 اس ویڈیو میں آپ دیکھیں گے کہ ایک دودھ والا  رکشہ پراپنی بھینس کو کھلانے کے لئےپرچارا لے جارہا ہے۔ سونو سود اس دودھ والے کو رکشہ پر پیچھے بٹھاتے ہیں اور خودرکشہ چلاتے ہوئےنظرآرہے ہیں۔ویڈیو میں ، سونو سودنے نیلے رنگ کا شرٹ ،کالے رنگ کی ڈھیلی ڈھالی پینٹ اور اسی رنگ کے جوتے پہنے ہوئے ہیں۔ رکشہ چلاتے وقت سونو سود دودھ والے سے مسلسل باتیں کررہےہیں۔
 اس گفتگو کے دوران ، سونو سود دودھ والے سے پوچھتے ہیںکہ’’وہ انہیں کتنے روپے میں دودھ دے گا؟‘‘کمل کمار نامی یہ دودھ والا کہتا ہے’’۵۰؍ روپے۔‘‘ تبھی سونو سود کہتے ہیں کہ وہ رکشہ چلانے میں اتنی محنت کررہے ہیں توکیا انہیں کوئی ڈسکائونٹ نہیں ملے گا۔تو دودھ والا ڈسکائونٹ دینے سے منع کردیتا ہے۔
 اس کے بعد سونو سود کہتے ہیںکہ دودھ میںپانی ملا ہواتو نہیں ہوگا اور کیا اس میں ملائی جمے گی۔دودھ والا ہاں میں جواب دیتا ہے۔اس مزےدار ویڈیوں کو اب تک۲۹؍لاکھ سے زیادہ مرتبہ دیکھا جاچکا ہے۔اس کے ساتھ ہی لوگ اس ویڈیو پر لگاتار تبصرے بھی کررہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK