مرکزی وزیرخزانہ نرملا سیتارمن نے ۲۷۔۲۰۲۶ءکا عام بجٹ پیش کرتے ہوئے اقلیتوں کے بجٹ میں چار کروڑ روپے کااضافہ کرتے ہوئے۳۴۰۰؍ کروڑ کا بجٹ مختص کیا ہے۔۲۰۲۵ء میں ۳۳۹۵؍ کروڑ۶۲؍ لاکھ روپے مختص کیا تھا۔
EPAPER
Updated: February 01, 2026, 10:05 PM IST | New Delhi
مرکزی وزیرخزانہ نرملا سیتارمن نے ۲۷۔۲۰۲۶ءکا عام بجٹ پیش کرتے ہوئے اقلیتوں کے بجٹ میں چار کروڑ روپے کااضافہ کرتے ہوئے۳۴۰۰؍ کروڑ کا بجٹ مختص کیا ہے۔۲۰۲۵ء میں ۳۳۹۵؍ کروڑ۶۲؍ لاکھ روپے مختص کیا تھا۔
مرکزی وزیرخزانہ نرملا سیتارمن نے ۲۷۔۲۰۲۶ءکا عام بجٹ پیش کرتے ہوئے اقلیتوں کے بجٹ میں چار کروڑ روپے کااضافہ کرتے ہوئے۳۴۰۰؍ کروڑ کا بجٹ مختص کیا ہے۔۲۰۲۵ء میں ۳۳۹۵؍ کروڑ۶۲؍ لاکھ روپے مختص کیا تھا۔ مرکزی حکومت نے وزارت اقلیتی امور کو مختص کیے گئے۳۴۰۰؍ کروڑ کے بجٹ میں مرکزی علاقے کے منصوبوں کے لیے ۱۸۴؍ کروڑ ۴۵؍ لاکھ روپے دیئے ہیں جبکہ۲۰۲۵ء میں یہ ۱۸۰؍ کروڑ ۷؍ لاکھ روپے دیے تھے۔ اس بار بجٹ میں چار کروڑ ۳۸؍لاکھ کا اضافہ کیا گیا ہے۔
وزارت اقلیتی امور ملک کے لیے مختص کردہ ۳۴۰۰؍ کروڑ روپے جس میں سے وزارت کی اہم اسکیموں کے لیے ۲۰۰۰؍ کروڑ روپے کا انتظام کیا گیا ہے، اس کے علاوہ وزارت اقلیتی امور کے اہم منصوبوں میں سے ایک پردھان منتری جن وکاس کاری کرم کے لیے اس بار۱۱۹۹؍ کروڑ ۹۷؍ لاکھ مختص کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:الکاراز نے جوکووچ کو شکست دے کر آسٹریلین اوپن اپنے نام کر لیا
اگلے پانچ سال میں ۲۰؍ اضافی قومی آبی گزرگاہیں فعال ہوں گی: سیتارمن
وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے کہا ہے کہ ملک کے تمام علاقوں میں مالی ڈھانچے کو مضبوط کرتے ہوئے اگلے پانچ سال میں ۲۰؍ اضافی قومی آبی گزرگاہیں (نیشنل واٹر ویز) شروع کی جائیں گی۔ سیتارمن نے اتوار کو لوک سبھا میں مالی سال ۲۷۔۲۰۲۶ء کا بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگلے ۵؍ سالوں میں ۲۰؍ اضافی قومی آبی گزرگاہیں شروع کی جائیں گی۔ اس کا آغاز ادیشہ میں قومی آبی گزرگاہ-۵؍ سے ہوگا جو تالچر اور انگول کے معدنیات سے مالا مال علاقوں اور کلنگ نگر جیسے اہم صنعتی مراکز کو پارادیپ اور دھامرا بندرگاہوں سے جوڑے گی۔
یہ بھی پڑھئے:سرمائی اولمپکس میں امریکی ادارے آئی سی ای کی شمولیت پر عوامی غم و غصہ
انہوں نے کہا کہ میں سابقہ دنکنی سے مغرب میں سورت تک نیا مخصوص مال برداری کوریڈور قائم کرنے کی تجویز پیش کرتی ہوں۔ ساتھ ہی اگلے پانچ سالوں میں ۲۰؍نئے قومی آبی گزر گاہیں شروع کی جائیں گی۔ ان آبی گزرگاہوں کے لیے ضروری انسانی وسائل تیار کرنے کی غرض سے علاقائی ایکسیلنس سینٹر کے طور پر تربیتی ادارے قائم کیے جائیں گے۔ اس سے آبی گزرگاہوں کے خطے میں نوجوانوں کو تربیت اور ہنر حاصل کرنے کے مواقع میسر آئیں گے۔ یہ اعلانات ہندوستان کے انفراسٹرکچر کی ترقی، علاقائی رابطے اور اقتصادی یکجہتی کو نئی رفتار دینے کی سمت میں ایک اہم قدم سمجھے جا رہے ہیں۔