آسکر ایوارڈ یافتہ موسیقار اے آر رحمان، جو حال ہی میں ہندی فلم انڈسٹری کے فرقہ پرست ہونے کے حوالے سے اپنے مبینہ بیان کی وجہ سے سرخیوں میں رہے تھے، انہوں نے ’’دی گریٹ انڈین کپل شو‘‘ کی تازہ ترین قسط میں بالواسطہ طور پر اس مسئلے پر بات کی۔
EPAPER
Updated: February 01, 2026, 10:03 PM IST | Mumbai
آسکر ایوارڈ یافتہ موسیقار اے آر رحمان، جو حال ہی میں ہندی فلم انڈسٹری کے فرقہ پرست ہونے کے حوالے سے اپنے مبینہ بیان کی وجہ سے سرخیوں میں رہے تھے، انہوں نے ’’دی گریٹ انڈین کپل شو‘‘ کی تازہ ترین قسط میں بالواسطہ طور پر اس مسئلے پر بات کی۔
آسکر ایوارڈ یافتہ موسیقار اے آر رحمان، جو حال ہی میں ہندی فلم انڈسٹری کے فرقہ پرست ہونے کے حوالے سے اپنے مبینہ بیان کی وجہ سے سرخیوں میں رہے تھے، انہوں نے ’’دی گریٹ انڈین کپل شو‘‘ کی تازہ ترین قسط میں بالواسطہ طور پر اس مسئلے پر بات کی۔ انہوں نے شو کے وہسپر گیم کو ایک استعارے کے طور پر استعمال کرتے ہوئے بتایا کہ کس طرح پیغامات کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جاتا ہے۔
گیم کا حوالہ دیتے ہوئے رحمان نے تبصرہ کیا کہ یہ دیکھنے کے لیے ایک اچھی مشق ہے کہ معلومات سے کیسے غلط فہمی پیداہوتی ہے ۔ مختلف ریاستیں، مختلف ثقافتیں۔ دنیا کا مسئلہ یہی ہے کہ پیغامات درمیان میں کیسے بگڑ جاتے ہیں۔ ان کے یہ تبصرے ان کے سابقہ بیانات سے پیدا ہوئے تنازع کی عکاسی کرتے ہوئے نظر آئے، جس کی بعد میں انہوں نے وضاحت کی تھی کہ ان کی بات کو غلط سمجھا گیا ہے۔
رحمان اس شو میں کشور پانڈورنگ بیلیکر کی ہدایت کاری میں بننے والی خاموش فلم ’’گاندھی ٹاکس‘‘ کی تشہیر کے لیے آئے تھے، جس کے موسیقارہیں ۔ ان کے ساتھ فلم کی کاسٹ بھی موجود تھی جس میں وجے سیتوپتی، ادیتی راؤ حیدری اور سدھارتھ جادھو شامل تھے۔
خاموش فلم کے لیے موسیقی ترتیب دینے کے بارے میں بات چیت کرتے ہوئے رحمان نے کہا کہ اگرمکالمے نہ ہوں تو یہ موسیقی کا جشن ہے کیونکہ آپ کے پاس موسیقی پیش کرنے کے لیے پوری جگہ ہوتی ہے، لیکن یہ ڈراؤنا بھی ہے کیونکہ لوگ پرکھیں گے۔ ہر ایک نوٹ ایکسپوز ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بیلیکر ان کے تخلیقی عمل میں غیر معمولی معاون رہے ہیں۔ رحمان نے مزاحیہ انداز میں کہاکہ وہ پہلے ہدایت کار ہیں جنہوں نے کبھی آکر مجھے کوئی منفی بات نہیں کہی یا یہ نہیں کہا کہ مجھے یہ پسند نہیں آیا۔ میں جو بھی دیتا ہوں، وہ اسے قبول کر لیتے ہیں۔ یہاں تک کہ اگر میں صرف ٹینگ کی آواز بھی نکالوں، تو وہ ہاں کہہ دیں گے۔
یہ بھی پڑھئے:باکس آفس پر فلم ’’بارڈر۲‘ ‘ اور ’’مردانی ۳‘‘ میں زبردست مقابلہ آرائی
اس سے قبل، دی ہالی ووڈ رپورٹر انڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں موسیقار نے خودپراعتماد کی کمی اور تخلیقی دباؤ کے بارے میں کھل کر بات کی تھی۔ گزشتہ برسوں میں فلم سازوں کے ساتھ اپنے تجربات پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سچ بات تو یہ ہے کہ پچھلے چھ برسوں سے، جب لوگ آپ کے پاس آتے ہیں، تو ۹۰ء کی دہائی کی نسل کی آپ کی موسیقی کے ساتھ ایک خاص وابستگی اور لگاؤ ہوتا ہے۔ یہی حال ۲۰۰۰ء کی دہائی اور اس سے اگلی دہائی میں پیدا ہونے والوں کا ہے۔ وہ آتے ہیں اور آپ کوشکوک وشبہ میں مبتلاکردیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ۹۰ء کی دہائی میں آپ نے روجا (۱۹۹۲ء) کی تھی۔ سر وہ بہت اچھی موسیقی تھی! اس سے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اب آپ اچھی موسیقی نہیں دے رہے۔ اگر آپ اچھے موڈ میں نہ ہوں تو یہ آپ کی سوچ کو نقصان پہنچاتا ہے۔ رحمان نے انکشاف کیا کہ اسی ذہنیت نے انہیں پچھلے چھ برسوں میں۲۰۔۳۰؍ پروجیکٹس لینے پر مجبور کیا تاکہ وہ تخلیقی طور پر خود کو نکھار سکیں اور اپنے کام میں اعتماد بحال کر سکیں۔
یہ بھی پڑھئے:سرمائی اولمپکس میں امریکی ادارے آئی سی ای کی شمولیت پر عوامی غم و غصہ
بی بی سی ایشین نیٹ ورک کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے حالیہ برسوں میں کم آفرز ملنے کے بارے میں بھی بات کی تھی اور اس کی وجہ انڈسٹری کے اندر ہونے والی تبدیلیوں کو قرار دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ شاید پچھلے ۸؍ برسوں میں کیونکہ طاقت کا رخ بدل گیا ہے اور اب وہ لوگ بااختیار ہیں جو تخلیقی نہیں ہیں۔ یہ ایک فرقہ وارانہ چیز بھی ہو سکتی ہے لیکن یہ میرے منہ پر نہیں کہی جاتی۔ یہ میرے پاس چائنیز وہسپرز کی طرح پہنچتی ہے کہ انہوں نے آپ کو بُک کیا تھا لیکن میوزک کمپنی نے آگے بڑھ کر اپنے پانچ موسیقاروں کو رکھ لیا۔ ان تبصروں نے بڑے پیمانے پر بحث اور تنقید کو جنم دیا، جس کے بعد رحمان کو چند دن بعد وضاحت جاری کرنی پڑی کہ ان کے تبصروں کو غلط معنی دیے گئے تھے۔