اوم پوری بچپن میں اداکارنہیں بلکہ موٹرمین بننے کا خواب دیکھتے تھے

Updated: January 08, 2020, 2:41 pm IST | Agency | Mumbai

بالی ووڈ میں اپنی بااثر اداکاری اور مکالموں کی ادائیگی سے اوم پوری نے تقریباً۳؍دہائیوں تک مداحوں کو اپنا دیوانہ بنایالیکن کچھ ہی لوگوں کومعلوم ہےکہ وہ اداکار نہیں بلکہ ریلوےڈرائیور بننا چاہتے تھے۔

اوم پوری بچپن میں اداکارنہیں بلکہ موٹرمین  بننے کا خواب دیکھتے تھے
اوم پوری

 ممبئی : بالی ووڈ میں اپنی بااثر اداکاری اور مکالموں کی ادائیگی سے اوم پوری نے تقریباً۳؍دہائیوں تک مداحوں کو اپنا دیوانہ بنایالیکن کچھ ہی لوگوں کومعلوم ہےکہ وہ اداکار نہیںبلکہ ریلوےڈرائیور بننا چاہتے تھے۔
 اٹھارہ اکتوبر۱۹۵۰ءکو ہریانہ کے انبالہ میں پیدا ہوئے اوم پوری کا بچپن بہت پریشانی میں گزرا۔ خاندان کی کفالت کیلئےانہیں ایک ڈھابے میں نوکری تک کرنی پڑی تھی، لیکن کچھ دنوںکے بعد ڈھابے کے مالک نے ان پر چوری کا الزام لگا کر ہٹادیا۔ بچپن میں اوم پوری جس مکان میںرہتے تھے اس کے پیچھے ایک ریلوے یارڈ تھا۔ رات کےوقت اوم پوری اکثر گھر سے بھاگ کر ریلوے یارڈ میں کھڑی کسی ٹرین میں سونے چلے جاتے تھے۔ ان دنوں انہیں ٹرینوں سے کافی لگاؤ تھا اور وہ سوچاکرتے تھے کہ  بڑے ہوکر وہ ریلوے ڈرائیور بنیں گے۔ کچھ وقت بعد اوم پوری اپنی ننہال پنجاب کے پٹیالہ شہر چلے آئے جہاں انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم مکمل کی۔
 اس دوران ان کا رجحان اداکاری کی جانب ہو گیا اور وہ ڈراموں میں حصہ لینےلگے۔اس کے بعد اوم پوری نے خالصہ کالج میں داخلہ لے لیا۔اسی دوران وہ ایک وکیل کے یہاں بطور منشی کام کرنے لگے۔اس درمیان ایک بار ڈرامہ میں حصہ لینے کی وجہ سے وہ وکیل کے یہاں کام پر نہیں گئےجس کی وجہ سےانہیں نوکری سے ہٹا دیا گیا۔جب اس بات کاپتہ کالج کے پرنسپل کو چلا تو انہوں نے اوم پوری کو کیمسٹری لیب میں اسسٹنٹ کی نوکری دے دی جہاں وہ  کالج میں چل رہے ڈراموں میں بھی حصہ لیتے رہے۔ یہاں ان کی ملاقات ہرپال اور نینا توانا سے ہوئی جن کے تعاون سے وہ پنجاب اسٹیج تھیٹر سے جڑ گئے۔تقریباً ۳؍سال بعد اوم پوری نے دہلی میں نیشنل تھیٹر اسکول میں داخلہ لے لیا۔اس کے بعد اداکار بننے کا خواب لےکر انہوں نے پونے فلم انسٹی ٹیوٹ میں داخلہ لیا۔ ۱۹۷۶ءمیں پونےفلم انسٹی ٹیوٹ سے تربیت حاصل کرنے کے بعد اوم پوری نے تقریبا ڈیڑھ برس تک ایک اسٹوڈیو میں اداکاری کی تعلیم بھی دی۔بعد میں انہوںنے اپنا ذاتی تھیٹر گروپ مجمع کے نام سے قائم کیا۔
 اوم پوری نےاپنے فلمی کریئر کا آغاز ۱۹۷۶ءمیں آئی فلم’ گھاسی رام کوتوال‘ سے کیا۔ مراٹھی ڈرامہ پر بنی اس فلم میںانہوں نے گھاسی رام کا کردار نبھایا تھا۔اس کے بعد گودھولی، بھومیکا، بھوک، شاید، سانچ کو آنچ نہیں، جیسی آرٹ فلموں میں اداکاری کی لیکن اس سے انہیں کوئی خاص فائدہ نہیں پہنچا۔۱۹۸۰ءمیں فلم’ آکروش‘  اوم پوری کے فلمی کریئر کی پہلی ہٹ فلم ثابت ہوئی۔ گووند نہلانی کی ہدایت کاری میں اس فلم میں اوم پوری نے ایک ایسے شخص کا کردار نبھایا جس پربیوی کے قتل کا الزام لگایا جاتا ہے۔فلم میں اپنی بااثر اداکاری کے لیے انہیں بہترین معاون اداکار کے فلم فیئر ایوارڈ سے نوازاگیا۔

om puri Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK