اس سیریز میں دکھایا گیا ہے کہ ضروری نہیں کہ ایک ماں ہی بچے کو پالے بلکہ ایک باپ بھی بچے کو پالنے کا کام کر سکتا ہے اور اسے کرنا چاہئے۔
ویب سیریز’سنگل پاپا‘ کےایک منظر میں کنال کھیمو کو دیکھا جاسکتاہے۔ تصویر: آئی این این
سنگل پاپا (Single Papa)
اسٹریمنگ ایپ :نیٹ فلکس(۶؍ایپی سوڈ)
اسٹار کاسٹ:کنال کھیمو، منوج پاہوا،عائشہ رضا، ایشا تلوار،انکور راٹھی، ہامی علی حامل،پراجکتا کولی
ڈائریکٹر:ہتیش کیولیا، نیرج ادھوانی
رائٹر:اشیتا موئترا، نیرج ادھوانی
پروڈیوسر:سمر خان، آدتیہ پٹی
ایڈیٹر:منن ساگر
کاسٹنگ ڈائریکٹر:وکاس سنگھ
آرٹ ڈائریکٹر:رجت کڈو
ریٹنگ: ***
عام طور پر اس بات کو تسلیم کرلیا گیا ہے کہ بچوں کو پالنا صرف ایک عورت یعنی ماں کا کام ہے اور وہی اس کام کو بہتر انداز میں انجام دے پاتی ہے لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہےکہ ایک مرد بھی بچوں کو اچھی طرح پال سکتا ہے۔ لیکن دنیا اس بات کو ستلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ ماں کی ممتا پر تو ہم نے بے شمار کہانیاں دیکھی اور سنی ہیں، مگر باپ کی ’باپتہ‘ یعنی بچے کی پرورش میں باپ کی اہمیت پر مبنی قصے کم ہی نظرآتے ہیں۔ سماج میں رچے بسے اسی اسٹیریو ٹائپ کو توڑنے کی ایک قابلِ ستائش کوشش ویب سیریز ’سنگل پاپا‘ میں کی گئی ہے۔
یہ سیریزایک ایسے اکیلے مرد کی کہانی بیان کرتی ہے جو بچے کو گود لینے اور تنہااس کی پرورش کرنے کے خواب کو پورا کرنے کے لیے جدوجہد کرتاہے۔یہ داستان کہیں مسکراتی ہے، تو کہیں دل کو چھو لینے والی جذباتی کیفیت میں لے جاتی ہے۔
کہانی
کہانی گروگرام کے گبرُو نوجوان گورو گہلوت (کنال کھیمو) کےگرد گھومتی ہے، جس کےدل و دماغ پر باپ بننے کا جنون سوار ہے۔حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ خود ایک طرح کا ’مین چائلڈ‘ ہے، جس کے زیادہ تر کام یا تو ماں کرتی آئی ہے یا پھر بیوی۔ ایسے میں باپ بننےکی اس کی ضد ہی اس کی بیوی اپرنا (ایشا تلوار) سے علیحدگی کی ایک بڑی وجہ بن جاتی ہے۔
اسی دوران اچانک اس کی زندگی میں ایک معصوم سا بچہ آ گرتا ہے،اور گورو کو لگتا ہے کہ یہ بچہ اوپر والے نے اسی کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے بھیجا ہے۔اس بچے امول سے گورو کو ایسی محبت ہو جاتی ہے کہ وہ اسے گود لینے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتا ہے۔ مگر دوسری طرف یتیم خانے اور ایڈاپشن ایجنسی کی سربراہ روملا نہرا (نیہا دھوپیا) غیر ذمہ دار گورو کو بچہ دینے پر تیار نہیں ہوتیں۔
گورو کے اپنے والدین (منوج پاہوا اورعائشہ رضا) اور بہن نمرتا(پراجکتا کولی) بھی اس کے اس فیصلے کے خلاف ہوتے ہیں۔ اس سب کے باوجود گورو اس بچے کے لیے نہ صرف اپنا گھر چھوڑ دیتا ہے،بلکہ خود کو بھی بدل ڈالنے پر آمادہ ہو جاتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا گورو اپنے اس مشن میں کامیاب ہو پاتا ہے یا ناکام، اس کا جواب جاننے کے لیے سیریز دیکھنی ہوگی۔
ہدایت کاری
نیراج اُدھوانی اور اشیتا موئترا کی تخلیق کردہ، اور ششانک کھیتان،نیرج اُدھوانی اور ہتیش کیولیا کی ہدایت کاری میں بنی یہ سیریزبچوں کی پرورش میں مردوں کے کردار، یا یوں کہیے کہ مرد بھی اچھی طرح بچے پال سکتے ہیں،جیسے نئے اور سنجیدہ موضوع کو نہایت ہلکے پھلکے اور دل خوش کر دینے والے انداز میں پیش کرتی ہے۔ اسی وجہ سے یہ ایک ’فیل گڈ فیملی انٹرٹینر‘ کا احساس دلاتی ہے۔ البتہ کہیں کہیں ڈراما کچھ زیادہ اونچا اور میلوڈرامیٹک ہو جاتا ہے، اور چند واقعات غیر حقیقی بھی محسوس ہوتے ہیں۔
اداکاری
اداکاری کے معاملے میں کنال کھیمو نے شاندار کام کیا ہے۔ وہ اپنی زبردست کامک ٹائمنگ کے لیے پہلے ہی مشہور ہیں، مگر یہاں جذباتی مناظر میں بھی وہ دل کو چھو جاتے ہیں۔ بچے امول کے ساتھ ان کی محبت بھری بونڈنگ واقعی دیکھنے لائق ہے۔ خاندان کے دیگر کرداروں میں منوج پاہوا،عائشہ رضا، پراجکتا کولی، سخت مزاج مسز نہراکے روپ میں نیہا دھوپیا، اور ان کے بیٹے کا کردار ادا کرنے والے ننھے فنکار اجنکیا مشرا سبھی نے عمدہ اداکاری کی ہے۔
خاص طور پر ’مینی‘ یعنی میل نینی پروت سنگھ کے کردار میں سی آئی ڈی کے دیا، یعنی دیانند شیٹی، محفل لوٹ لیتے ہیں اور سیریز میں جان ڈال دیتے ہیں۔
نتیجہ
پیرنٹنگ سے جڑے اسٹیریو ٹائپس کو توڑنے والی یہ دل کو خوش کر دینےوالی، تفریح سے بھرپور سیریز ضرور دیکھی جانی چاہیے، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو خاندانی کہانیوں اور معنی خیز موضوعات سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں۔