• Wed, 28 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

فلم ’’میری کوم‘‘میں میری جدوجہد کا صرف ۱۰؍ فیصد دکھایا گیا تھا، سیکوئل سے انکار:میری کوم

Updated: October 27, 2026, 8:06 PM IST | Mumbai

ہندوستان کی معروف باکسر اور چھ مرتبہ عالمی چیمپئن رہنے والی میری کوم نے اپنی زندگی پر بننے والی بالی ووڈ فلم ’’میری کوم‘‘ کے بارے میں اہم انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلم میں ان کی جدوجہد اور محنت کا صرف ۱۰؍ فیصد حصہ دکھایا گیا، جبکہ ان کی حقیقی زندگی کی مشکلات کہیں زیادہ وسیع تھیں۔

Marykom And Priyanka.Photo;INN
پرینکا اور میری کوم۔ تصویر:آئی این این

ہندوستان کی معروف باکسر اور چھ مرتبہ عالمی چیمپئن رہنے والی میری کوم نے اپنی زندگی پر بننے والی بالی ووڈ فلم ’’میری کوم‘‘ کے بارے میں اہم انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلم میں ان کی جدوجہد اور محنت کا صرف ۱۰؍ فیصد حصہ دکھایا گیا، جبکہ ان کی حقیقی زندگی کی مشکلات کہیں زیادہ وسیع تھیں۔ ۲۰۱۴ءمیں ریلیز ہونے والی اس فلم میں پرینکا چوپڑا نے مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ میری کوم کے مطابق فلم میں ان کی زندگی کے بعض واقعات حقیقی صورت حال کی مکمل عکاسی نہیں کرتے، اسی لیے وہ اسے اپنی اصل جدوجہد کی مکمل تصویر نہیں سمجھتیں۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ اس فلم کا دوسرا حصہ بنانے کے حق میں نہیں ہیں، کیونکہ ان کے خیال میں ان کے کریئر اور زندگی کی کہانی فلم اور ان کی خودنوشت کتاب Unbreakable میں پہلے ہی بیان کی جا چکی ہے۔ میری کوم نے یہ بات سلمان خان کے ریئلٹی شو’’ بگ باس ۲۰‘‘ سے باہر ہونے کے بعد ایک انٹرویو میں کہی۔ انہوں نے بتایا کہ فلم دیکھنے والوں کو ان کے کریئر کے اہم مراحل تو نظر آئے، لیکن ان کامیابیوں کے پیچھے موجود طویل محنت، قربانیوں اور مشکلات کی پوری کہانی پردے پر نہیں آ سکی۔ ان کے مطابق اگر لوگ ان کی جدوجہد کو حقیقی انداز میں سمجھنا چاہتے ہیں تو انہیں ان کی خودنوشت Unbreakable پڑھنی چاہیے، جس میں ان کی زندگی اور کامیابیوں کے پیچھے چھپی محنت کی زیادہ تفصیل موجود ہے۔ ان کا یہ بیان اس بحث کو بھی دوبارہ سامنے لے آیا ہے کہ حقیقی شخصیات کی زندگی پر بننے والی فلمیں کس حد تک ان کے تجربات اور قربانیوں کی درست عکاسی کر پاتی ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے:’’جیلر ۲‘‘: رجنی کانت نے اپنی ہی فلم کو پیچھے چھوڑدیا

 جب میری کوم سے پوچھا گیا کہ کیا ان کی زندگی پر بننے والی فلم کا دوسرا حصہ بنایا جانا چاہیے، تو انہوں نے اس خیال کو مسترد کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے کریئر اور زندگی کا سفر پہلے ہی فلم اور کتاب کے ذریعے لوگوں کے سامنے آ چکا ہے، اس لیے فی الحال سیکوئل بنانے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ انہوں نے اپنی مستقبل کی زندگی کے بارے میں بھی امید ظاہر کی کہ آنے والا وقت خوش گوار ہو، تاہم ذاتی زندگی اور محبت سے متعلق فیصلے وہ خود کرنا چاہیں گی۔ 
 ہدایت کار اومنگ کمار کی فلم ’’میری کوم‘‘ میں پرینکا چوپڑا نے منی پور سے تعلق رکھنے والی باکسر کے کردار کو نبھایا تھا۔ فلم میں میری کوم کے ابتدائی سفر، عالمی باکسنگ میں ان کی کامیابیوں، شادی، ماں بننے کے بعد کھیل میں واپسی اور اپنے پیشہ ورانہ سفر میں درپیش چیلنجز کو دکھایا گیا تھا۔ فلم کو سنجے لیلا بھنسالی نے پروڈیوس کیا تھا اور پرینکا چوپڑا کو اس میں اداکاری کے لیے قومی فلم ایوارڈ برائے بہترین اداکارہ ملا۔ تاہم، میری کوم کے حالیہ بیان نے واضح کیا ہے کہ فلم کی کامیابی کے باوجود ان کی نظر میں ان کی حقیقی زندگی کی جدوجہد پوری طرح پیش نہیں کی جا سکی۔ 

یہ بھی پڑھئے:تھیری ہنری پر الامین جمال کی بے عزتی کا الزام

میری کوم ہندوستان کی کامیاب ترین باکسرز میں شمار ہوتی ہیں۔ انہوں نے چھ مرتبہ عالمی باکسنگ چیمپئن شپ جیتی اور ۲۰۱۲ء کے لندن اولمپکس میں کانسہ کا تمغہ حاصل کیا۔ ان کا سفر صرف کھیلوں کی کامیابیوں تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس میں مسلسل تربیت، مقابلوں کی تیاری، خاندانی ذمہ داریوں اور ذاتی قربانیوں کا بھی اہم کردار رہا ہے۔ ان کی خودنوشت Unbreakable میں ان کی زندگی اور جدوجہد کے بارے میں مزید تفصیلات ملتی ہیں۔ اپنی فلم کے بارے میں حالیہ تبصرے کے ذریعے میری کوم نے ایک بار پھر اس فرق کی طرف توجہ دلائی ہے جو کسی حقیقی شخصیت کی زندگی پر بنائی گئی فلم اور اس شخصیت کے مکمل حقیقی تجربات کے درمیان موجود ہو سکتا ہے۔ میری کوم کے اس بیان کے بعد پرینکا چوپڑا کی بایوپک، فلم میں حقیقی واقعات کی عکاسی اور کھیلوں سے وابستہ شخصیات کی زندگی پر بننے والی فلموں کے بارے میں نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔ میری کوم نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اپنی کہانی کا سیکوئل نہیں چاہتیں اور ان کی جدوجہد کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے ان کی خودنوشت کتاب ایک اہم ذریعہ ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK