• Tue, 27 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

کلکتہ ہائی کورٹ کی سبیر بھاٹیہ کی ویڈیو ’’ہاؤ مودی-اڈانی اسٹول انڈیا‘‘ پر روک

Updated: October 27, 2026, 10:06 PM IST | Kolkata

کلکتہ ہائی کورٹ نے سبیر بھاٹیہ کی ویڈیو ’’ہاؤ مودی-اڈانی اسٹول انڈیا‘‘ کی اسٹریمنگ پر روک لگا دی، تاہم عدالت نے واضح کیا کہ یہ حکم تعمیری تنقید، سچی رپورٹنگ، یا ثبوتوں پر مبنی تبصرے پر پابندی نہیں لگاتا۔

Calcutta High Court. Photo: INN
کلکتہ ہائی کورٹ۔ تصویر: آئی این این

کلکتہ ہائی کورٹ نے ٹیک پلیٹ فارمز کو عبوری حکم جاری کرتے ہوئے اڈانی انٹرپرائزز لمیٹڈ کے خلاف بنائی گئی ویڈیو،’’ ہاؤ مودی اینڈ اڈانی اسٹول انڈیا - دی فرینڈشپ فائلز‘‘ تک رسائی بلاک کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ ویڈیو ہندوستانی نژاد امریکی کاروباری اور یوٹیوب تخلیق کار سبیر بھاٹیہ نے پوسٹ کی تھی، جس میں دہشت گردی کی فنڈنگ اور منشیات کی اسمگلنگ جیسے سنگین الزامات لگائے گئے تھے۔جسٹس اریک دت نے۲۶؍ اکتوبر کو اڈانی انٹرپرائزز کی جانب سے دائر کردہ سول ہتک عزت کی عرضی پر سماعت کی، جس میں کمپنی کی ساکھ اور نیک نامی کو پہنچنے والے نقصان کے لیے مالی معاوضے اور چھ منٹ کی ویڈیو کو مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔عدالت نے کہا، ’’درخواست گزار یا حکومتی پالیسی پر ثبوتوں پر مبنی تعمیری تنقید یا سچی رپورٹنگ پر پابندی نہیں ہے۔ آن لائن مواد ری پوسٹ اور ری اپ لوڈ کے ذریعے تیزی سے پھیلتا ہے، اور مسلسل اشاعت سے ساکھ کو جو نقصان پہنچتا ہے اس کا ازالہ صرف پیسوں سے نہیں کیا جا سکتا۔ اگر ابھی حکم جاری نہ کیا گیا تو مدعا علیہان کی سماعت سے پہلے ہی مزید پھیلاؤ سے اس کا مقصد ناکام ہو جائے گا۔تاہم عدالت نے واضح کیا کہ یہ حکم تعمیری تنقید، سچی رپورٹنگ، یا ثبوتوں پر مبنی تبصرے پر پابندی نہیں لگاتا، چاہے وہ درخواست گزار، اڈانی گروپ یا حکومتی پالیسیوں کے بارے میں ہی کیوں نہ ہو۔

یہ بھی پڑھئے: ہندوستان کے امیر ترین افراد کے خبر رساں اداروں کا مودی کے پرائیویسی قانون کو چیلنج

اڈانی نے سول ہتک عزت کی عرضی دائر کی
درخواست گزار اڈانی انٹرپرائزز لمیٹڈ نے ہائی کورٹ میں سبیر بھاٹیہ، جو یوٹیوب چینل ’’بی کیوبڈ‘‘ کے تخلیق کارہیں، ان کے ایکس ہینڈل، بڑے سوشل پلیٹ فارمز یوٹیوب، ایکس اور انسٹاگرام، اور ویڈیو کی گردش کو مربوط کرنے والے نامعلوم افراد کے خلاف عرضی دائر کی۔۹؍ اکتوبر کو بھاٹیہ نے ’’شیڈو سٹیزنز‘‘کے ساتھ مل کر۳۶؍ منٹ کی ویڈیو یوٹیوب پر اپ لوڈ کی اور ایکس پر پوسٹ کی، جسے دونوں پلیٹ فارمز پر ہزاروں ویوز ملے۔عنوان میں واضح طور پر الزام لگایا گیا تھا کہ کارپوریٹ گروپ نے ایک عوامی عہدہ دار کے ساتھ مل کر ’’انڈیا کو چرایا‘‘ ہے۔ مزید برآں، ویڈیو میں سنگین حقائق پر مبنی دعوے کیے گئے، جن میں یہ دعویٰ بھی شامل تھا کہ یہ گروپ دہشت گردی کی فنڈنگ کے لیے استعمال ہونے والی منشیات کی اسمگلنگ سے منسلک ہے اور اس نے ایک کسان کے خلاف پولیس تشدد اور جھوٹے مقدمے کی کارروائی کی ہے۔
بعد ازاں آئی ٹی رولز کے تحت درخواست گزار کی شکایت کے بعد، اصل یوٹیوب ویڈیو تک رسائی ہندوستان میں بند کر دی گئی تھی۔ اڈانی انٹرپرائزز کی جانب سے سینئر ایڈووکیٹ انیربن رے اور ان کی ٹیم سنجے باسو، امیت کمار ناگ، پیوش اگروال، شیوانگی تھرڈ، رنجابتی رے، شری والی کجاریہ، اور دیبوجیوتی داس نے دلیل دی کہ اس کے باوجود کلپس، مختصر ورژن اور ری اپ لوڈ یوٹیوب، ایکس اور انسٹاگرام پر گردش کرتے رہے، اور بھاٹیہ نے۲۲؍ اکتوبر کو ایکس پر مواد دوبارہ پوسٹ کیا۔

یہ بھی پڑھئے: جرنگے کی متنازع آڈیو کلپ کی جانچ کیلئے وزیراعلیٰ فرنویس نے ایس آئی ٹی بنانے کا حکم دیا

مجرمانہ الزامات کی حمایت میں کوئی ثبوت نہیں
عدالت نے تسلیم کیا کہ عوامی مفاد سے متعلق ہتک عزت کے معاملات میں مقدمے سے پہلے روک لگانے کا حکم بڑی احتیاط سے دیا جانا چاہیے۔عدالت نے یہ کہتے ہوئے کہ یہ ویڈیو کوئی نیوز رپورٹ یا کارروائی کا احوال نہیں ہے ۔ یہ ایک ڈرامائی بیانیہ ہے، اور اس کا عنوان واضح طور پر چوری کا الزام لگاتا ہے، اور اس کی کہانی اور مناظر کو حقیقت کے طور پر پیش کیا گیا ہے،  اس کیس کو غیر معمولی زمرے میں رکھا۔ مزید براں حکم میں مشاہدہ کیا گیا، ’’یہ الزام کہ درخواست گزار کا گروپ دہشت گردی کی فنڈنگ سے جڑی منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث ہے یا اسے جوابدہی سے بچایا گیا ہے، اور یہ کہ اس نے ایک کسان کے خلاف پولیس تشدد اور جھوٹے مقدمے کی کارروائی کرائی، حقائق پر مبنی دعوے ہیں نہ کہ رائے کا اظہار۔ میرے سامنے ایسی کوئی چیز نہیں رکھی گئی جس سے کسی اتھارٹی کا اس حوالے سے کوئی نتیجہ ظاہر ہو۔علاوہ ازیں عدالت نے نشاندہی کی کہ ویڈیو میں بار بار ’’اڈانی‘‘ اور ’’اڈانی گروپ‘‘ کا نام لیا گیا ہے اور اس کے مخصوص کاروباروں کا حوالہ دیا گیا ہے، جو براہ راست الزامات کو درخواست گزار سے جوڑتا ہے۔ اس نے مزید کہا کہ اصل ویڈیو کو حکومت نے آئی ٹی رولز۲۰۲۱ء کے رول۳؍(۱؍)(ڈی) کے تحت ہندوستان میں پہلے ہی ڈس ایبل کر دیا تھا۔ بھاٹیہ کی جانب سے ویڈیو کو دوبارہ پوسٹ کرنا بظاہر بدنیتی کو ظاہر کرتا ہے۔
عدالت نے معاملے کو جنوری۲۰۲۷ء کی ماہانہ فہرست میں باقاعدہ بنچ کے سامنے سماعت کے لیے درج کرنے کا حکم دیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK