وندے ماترم کو لازمی قرار دئے جانے کے خلاف درخواستوں پر سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت سے جواب طلب کیا ہے،مرکزی حکومت کی جانب سے وندے ماترم کے تمام ۶؍ بند گانے پر احامات جاری کئے گئے تھے ،اس معاملے کی اگلی سماعت اب ۳۰؍ نومبرتک کیلئے ملتوی کر دی گئی ہے۔
EPAPER
Updated: October 27, 2026, 10:05 PM IST | New Delhi
وندے ماترم کو لازمی قرار دئے جانے کے خلاف درخواستوں پر سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت سے جواب طلب کیا ہے،مرکزی حکومت کی جانب سے وندے ماترم کے تمام ۶؍ بند گانے پر احامات جاری کئے گئے تھے ،اس معاملے کی اگلی سماعت اب ۳۰؍ نومبرتک کیلئے ملتوی کر دی گئی ہے۔
سپریم کورٹ نے منگل کو وزارتِ داخلہ کے ان احکامات کو چیلنج کرنے والی دو درخواستوں پر مرکزی حکومت سے جواب طلب کیا ہے، جن کے تحت تمام سرکاری تقاریب میں قومی گیت وندے ماترم کے تمام چھ بند گانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔چیف جسٹس آف انڈیا سوریا کانت، جسٹس جوئے مالیہ باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ نے ایک ناگپور کے بودھ کارکن کی درخواست پر نوٹس جاری کیا، جنہوں نے مکمل گیت سے متعلق دو حکومتی احکامات کو اسلامو فوبک قرار دیا ہے اور ایک سابق آئی اے ایس افسر کی درخواست پر نوٹس جاری کیا جنہوں نے وندے ماترم کے مکمل ورژن کو ’’مذہبی جنگی ترانہ‘‘کہا ہے۔ ان درخواستوں میں مرکزی وزارتِ داخلہ کی طرف سے ۲۸؍ جنوری اور ۹؍ جولائی ۲۰۲۶ء کو جاری کردہ سرکاری احکامات کو چیلنج کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ہندوستان کے امیر ترین افراد کے خبر رساں اداروں کا مودی کے پرائیویسی قانون کو چیلنج
ناگپور کے رہنے والے بودھ اور شہری حقوق کے کارکن بی ڈی بورکر نے موقف اختیار کیا ہے کہ ان حکومتی احکامات نے ۷۹؍ سال سے چلی آ رہی اس روایت کو غیر قانونی طور پر بدل دیا ہے جس کے تحت کسی مذہبی تصور سے پاک صرف دو بندوں پر مشتمل وندے ماترم گایا جاتا تھااور اس کی جگہ پورا گیت لازم کر دیا گیا ہے جس میں کھلے عام مسلمان مخالف جملے اور الفاظ شامل ہیں۔ ان کی درخواست میں نشاندہی کی گئی ہے کہ ۱۸۷۰ء کی دہائی کے اوائل میں لکھا گیا وندے ماترم کا دو بندوں پر مشتمل ابتدائی ورژن، وندے ماترم کے مصنف بنکم چندر چٹرجی کے ناول آنند مٹھ سے بھی پہلے کا ہے۔ درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ آنند مٹھ سے پہلے کا یہ ورژن کسی مذہبی دیوی دیوتا یا فرقہ وارانہ تنازع کو شامل کئے بغیر صرف قدرتی مناظر اور سرزمین کو خراجِ عقیدت پیش کرتا ہے۔ تاہم، آنند مٹھ میں شامل کئے گئے تیسرے سے چھٹے بند اس گیت کو ہندو دیوی دیوتاؤں درگا، لکشمی اور سرسوتی کی عبادت میں تبدیل کر دیتے ہیں تاکہ مسلمانوں کے خلاف جنگ چھیڑی جا سکے، جنہیں ناول میں دشمن کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:کسانوں نے یوگی حکومت کیخلاف محاذ کھولا، الہ آباد میں زبردست احتجاج
بورکر نے دلیل دی ہے کہ شہریوں کو چھ بندوں کا پورا متن گانے پر مجبور کرنا قومی اخوت کو نقصان پہنچاتا ہے اور فرقہ وارانہ تقسیم کو مزید گہرا کرتا ہے۔ اسی طرح کے خدشات بالاکرشنن ستیہ بھاما ماووجی کی دائر کردہ درخواست میں بھی اٹھائے گئے ہیں، جو ایک سابق آئی اے ایس افسر ہیں اور فی الوقت انُو پاتھیکا پرتینیدھیتا پرکشوبھا کمیٹی (اے پی پی ایس ) کے چیئرمین ہیںجو ہندوستان میں ایس سی ایس ٹی اور قبائلیوں کی فلاح و بہبود کیلئے کام کرنے والی ایک تنظیم ہے۔ماووجی کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ گیت کے چھ بندوں کے ورژن کو بجانا یا گانا لازمی قرار دینا ان کے مذہب اور ضمیر کی آزادی کی خلاف ورزی ہے اور آئینِ ہند میں درج سیکولرازم اور اخوت کے اصولوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔مزید برآں ماووجی نے یہ دلیل دی ہے کہ وہ ایک ہندو ہیں اور ان کا تعلق ایک ایس سی برادری سے ہے جو ویشنو یا شاکتیہ مذہبی طریقوں یا کسی بھی دیگر فرقہ وارانہ عقیدے کو صریحاً مسترد کرتی ہے، جبکہ ناولآنند مٹھ اور اس کے اندر موجود ’’مذہبی جنگی ترانے‘‘ کے چھ بند اسی قسم کے نظریات پر مبنی ہیں۔علاوہ ازیں ان کی درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تاریخی طور پر وندے ماترم کو قومی گیت کا درجہ دینے کیلئے کوئی باضابطہ قانونی فیصلہ نہیں کیا گیا تھا، اگرچہ گزشتہ سالوں میں رسم و رواج اور مشق کے ذریعے اس کے دو بندوں والے ورژن کو قومی گیت کے طور پر تسلیم کیا جاتا رہا ہے۔درخواست میں مزید کہا گیا ہے، ’’لہٰذا، ۲۰۲۶ء تک ریاستی تقاریب میں وندے ماترم کے ۲؍ بندوں والے، غیر آنند مٹھ ورژن کا استعمال ایک قانونی طور پر پابند روایت بن چکا تھا، اس لئے مرکزی حکومت کے پاس اس وندے ماترم کا استعمال منسوخ کرنے اور اس کی جگہ آنند مٹھ کے نئے ۶؍ بندوں کے گیت کو شامل کرنے کا کوئی اختیار نہیں تھا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: مہاراشٹر ایس آئی آر پر الیکشن کمیشن کو نوٹس
بعد ازاں ماووجی نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ جنوری اور جولائی ۲۰۲۶ء میں جاری کئے گئے دونوں حکومتی احکامات کو آئین کے خلاف اور کالعدم قرار دے کر منسوخ کیا جائے۔انہوں نے یہ اعلان کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے کہ وندے ماترم کا دو بندوں پر مشتمل ورژن ہی ہندوستان کا قومی گیت ہے۔ یہ درخواستیں ایڈوکیٹ ویبھو چودھری کے توسط سے دائر کی گئی ہیں، جنہیں ایڈوکیٹس جی موہن گوپال، ویبھو چودھری، مینک سنگھ راوت اور زید احمد نے تیار کیا ہے۔قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اسی طرح کے مسائل کرناٹک سے تعلق رکھنے والے نامور کلاسیکی گلوکار ٹی ایم کرشنا کی دائر کردہ ایک اور درخواست میں بھی اٹھائے گئے ہیں۔ کرشنا نے پریوینشن آف انسلیٹس ٹو نیشنل آنر ایکٹ (قومی وقار کی اہانت کی روک تھام کا قانون) میں ۲۰۲۶ء کی ایک ترمیم کے آئینی جواز کو چیلنج کیا ہے۔اس ترمیم کے تحت وندے ماترم گانے میں جان بوجھ کر رکاوٹ ڈالنے یا اسے گانے والے اجتماع میں خلل ڈالنے پر تین سال تک کی قید کی سزا کا بندوبست کیا گیا ہے۔ یہ ترمیم وندے ماترم پر وزارتِ داخلہ کے جنوری اور جولائی کے احکامات جاری ہونے کے فوراً بعد لائی گئی تھی۔جب گزشتہمہینے کرشنا کی درخواست پر سماعت ہوئی تھی، تو سولسٹر جنرل تشر مہتا کی درخواست پر عدالت نے باضابطہ نوٹس جاری کرنے سے گریز کیا تھا، کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ نوٹس جاری کرنے سے اس معاملے کو سنسنی خیز بنایا جا سکتا ہے۔تاہم، عدالت نے مرکزی حکومت کو دو ہفتوں کے اندر اپنا جواب دائر کرنے کی ہدایت دی تھی۔ اس وقت عدالت نے یہ بھی ملاحظہ کیا تھا کہ اگر کوئی شخص ضمیر کی بنیاد پر وندے ماترم کا ایک یا تمام بند نہیں گاتا ہے تو اس کے خلاف مجرمانہ مقدمہ یا کارروائی نہیں ہونی چاہئے۔تاہم ٹی ایم کرشنا کی درخواست اور وندے ماترم سے متعلق حکومتی احکامات کو چیلنج کرنے والی ان تازہ ترین درخواستوں پر اگلی سماعت ۳۰؍ نومبر کو مقرر کی گئی ہے۔