• Wed, 14 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ملک میں جمہوریت کی بحالی تک ہماری لڑائی جاری رہے گی: راہل گاندھی

Updated: October 14, 2026, 2:33 PM IST | Agency | New Delhi

انڈیااتحاد کے لیڈروں کی چائے پارٹی کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس ،مودی ، شاہ اور گیانیش کمار کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا عزم۔

All key opposition leaders can be seen at the joint opposition press conference. Photo: PTI
اپوزیشن کی مشترکہ پریس کانگریس میں تمام اہم اپوزیشن لیڈروں کو دیکھا جاسکتا ہے۔ تصویر: پی ٹی آئی
لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا کہ ہندوستان میں جمہوریت کی بحالی  تک اپوزیشن کی لڑائی جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں جمہوریت اور انتخابی نظام کو تباہ کر دیا گیا ہے ۔ راہل  نے وزیر اعظم مودی، وزیر داخلہ امیت شاہ اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہیں سمجھ لینا چا ہئے کہ ہندوستان کے آئین کو تباہ کر کے بچ نکلنا آسان نہیں ہوگا۔انڈیا بلاک کے لیڈروں  اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کیلئے منعقدہ چائے پارٹی  اور حکمت عملی طے کرنے کے اجلاس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ اپوزیشن کی تمام جماعتیں مل کر جمہوریت کی بحالی اور ملک میں حقیقی جمہوری نظام قائم کرنے کیلئے جدوجہد کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ الگ الگ احتجاج نہیں ہیں، بلکہ ان سب کا ایک ہی مقصد ہے اور وہ ہندوستان میں جمہوریت کو بحال کرنا ہے۔
 
 
راہل گاندھی نے جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت اور جمہوری اظہار کے مواقع محدود کرنے پر بھی اعتراض کیا۔  انہوں نے کہا کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ جنتر منتر کو اب جمہوری جذبات کے اظہار کیلئے استعمال نہیں کیا جا سکتا، لیکن اپوزیشن اس سوچ کو چیلنج کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت یہ نہ سمجھے کہ ہندوستان کے عوام اپنی آواز کیلئےجدوجہد نہیں کریں گے۔انہوں نے کہا کہ کل کے احتجاج میں صرف سیاسی جماعتوں کے نمائندے ہی نہیں، بلکہ ملک کے عام شہریوں کے جذبات بھی شامل تھے۔ راہل نےاحتجاج میں شامل تمام افراد کا شکریہ ادا کیا۔

  راہل نے کہا کہ یہ لڑائی کسی سیاسی جماعت کے مفاد کے  لئے نہیں ہے بلکہ ہندوستان کے عوام اور ان کے مستقبل کے لئے ہے۔راہل گاندھی نے کہا کہ اس سازش کے اصل ذمہ دار وزیر اعظم  مودی ہیں، جبکہ امیت شاہ اس پر عمل درآمد کر رہے ہیں۔ انہوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور دیگر افراد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آئین اور جمہوری نظام کو نقصان پہنچانے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ انہوں نے ایک خاتون کا بھی ذکر کیا جو ان کے بقول اس وقت دہرادون میں چھپی ہوئی ہیں(راہل نے اس خاتون کا نام نہیںبتایا لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ  الیکشن کمیشن کی ڈائریکٹر جنرل سیما کھنہ ہو سکتی ہیں )۔راہل گاندھی نے کہا کہ اپوزیشن کی جدوجہد فوری طور پر ختم ہونے والی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ لڑائی آج، کل، چند ماہ یا ایک دو سال میں ختم نہ بھی ہو، تب بھی ان کی ٹیم اپنے آخری مقصد کے حصول تک آگے بڑھتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج کی آئندہ حکمت عملی ظاہر نہیں کی جا سکتی کیونکہ اس سے منصوبے کی رازداری اور حیرت کا عنصر ختم ہو جائے گا۔ واضح رہے کہ اس پریس کانفرنس سے ملکارجن کھرگے ، تیجسوی یادو ، سنجے رائوت اور نیہا بورا نے بھی خطاب کیا۔ ان لیڈروںنے بھی وہی باتیں دہرائیں اور اس عزم کا اظہار کیا کہ ملک سے جمہوریت ختم کرنے کی کوششوں کے خلاف پوری اپوزیشن متحد رہے گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK