Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’آج ہماری پوری زندگی اسکرین تک محدود ہوکر رہ گئی ہے‘‘

Updated: August 09, 2026, 5:39 PM IST | Abdul Karim Qasim Ali | Mumbai

فلم اور ویب سیریز کے معروف اداکار پنکج ترپاٹھی کا کہنا ہے کہ کتابیں اور اخبار پڑھنے اپنا ایک الگ ہی مزہ ہے، اسی لئے میں پرنٹ میڈیا کو زیادہ پسند کرتا ہوں۔

Pankaj Tripathi. Photo: INN
پنکج ترپاٹھی۔ تصویر: آئی این این

پنکج ترپاٹھی ہندوستانی سنیما کا ایک معروف نام ہے۔ انہیں اب کسی تعارف کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ فلم اور ویب سیریز کی دنیا کے معروف اور باصلاحیت اداکار ہیں، جو اپنی فطری اداکاری، سادہ انداز اور مضبوط کردار نگاری کیلئے جانے جاتے ہیں۔ وہ بالی ووڈ کے ان چند اداکاروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی محنت اور صلاحیت کے بل بوتے پر انڈسٹری میں منفرد مقام حاصل کیا ہے۔ پنکج ترپاٹھی نے ابتدائی تعلیم بہار میں حاصل کی۔ وہیں پٹنہ میں تعلیم کے دوران تھیٹر سے وابستہ ہوئے۔ اس کے بعد انہوں نے دہلی کے معروف نیشنل اسکول آف ڈراما (این ایس ڈی) میں داخلہ لیا اور ۲۰۰۴ء میں اداکاری کی تربیت مکمل کی۔ وہ اپنی سادہ زندگی، عاجزی اور زمین سے جڑے ہوئے مزاج کیلئے مشہور ہیں۔ فلموں میں آنے سے پہلے وہ پٹنہ میں تھیٹر کیا کرتے تھے۔ این ایس ڈی میں داخلہ حاصل کرنے کیلئے کئی برس محنت کی۔ وہ اکثر کہتے ہیں کہ وہ آج بھی خود کو’’ اداکاری کا طالب علم‘‘ سمجھتے ہیں۔ ان کی گفتگو، لہجہ اور حقیقت سے قریب اداکاری نے انہیں ہندوستان کے مقبول ترین اداکاروں میں شامل کر دیا ہے۔ جلد ہی پنکج ترپاٹھی کی نئی فلم ’مرزا پور: دی مووی‘ ریلیز ہونے والی ہے۔ نمائندہ انقلاب نے پنکج ترپاٹھی سے گفتگو کی جسے یہاں پیش کیا جارہا ہے:
جب ایسی جگہوں سے بھی عزت اور تعریف ملے، جہاں سے آپ نے کبھی سوچا بھی نہ ہو تو اس وقت کیسا محسوس ہوتاہے؟
ج: ۱۹۹۱ء میں جب میں اپنے گاؤں سے نکلا تھا تو میری صرف اتنی ہی خواہش تھی کہ آس پاس کے گاؤں کے لوگ میرا نام جانیں، کچھ ایسا کروں کہ لوگ مجھے پہچانیں۔ پھر جب پٹنہ میں تھیٹر کرنا شروع کیا تو خواہش ہوئی کہ پورے بہار کے لوگ مجھے اس حوالے سے جاننے لگیں کہ میں ایک فنکار ہوں، تھیٹر کرتا ہوں۔ آج جس اداکاری کے فن (کرافٹ) کا میں طالب علم تھا اور آج بھی خود کو طالب علم ہی سمجھتا ہوں، اگر اس فن کو سات سمندر پار بھی پہچان ملے اور دنیا بھر میں اس کی قدر کی جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ اوپر والے نے بہت کچھ عطا کر دیا۔ جس بچے کی خواہش صرف اپنے گاؤں تک محدود تھی، اگر آج اسے پوری دنیا جانتی ہے تو یہ بہت بڑی خوشی کی بات ہے۔ اصل میں یہ میرے نام کا نہیں بلکہ میرے فنِ اداکاری کا احترام ہے۔ میں گزشتہ بیس پچیس برسوں سے پوری لگن کے ساتھ اداکاری کر رہا ہوں۔ آج اگر اسی فن کو بین الاقوامی سطح پر سراہا جا رہا ہے تو اس سے بڑھ کر خوشی اور کیا ہو سکتی ہے۔ 
آپ اپنے ابتدائی دور کا کوئی واقعہ سناسکتے ہیں؟
ج:مجھے یاد ہے، ۱۹۹۹ء یا۲۰۰۰ء کی بات ہوگی۔ میں دہلی میں تھا اور وہاں کے ’بھارت رنگ مہوتسو‘ میں ہم نے ایک ڈراما پیش کیا تھا۔ پورے فیسٹیول کا جائزہ ایک بڑے اخبار میں شائع ہوا، جس میں پانچ بہترین ڈراموں اور پانچ بہترین اداکاروں کا ذکر تھا، اور ان میں میرا نام بھی شامل تھا۔ اس زمانے میں اخبار میں نام آنا بہت بڑی بات ہوتی تھی۔ وہ جائزہ پڑھ کر لگا کہ شاید میں صحیح راستے پر چل رہا ہوں۔ اس سے پہلے بھی پٹنہ کے ہندوستان اخبار نے میرے بارے میں لکھا تھا کہ’’اس اداکار میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ ‘‘اس ایک چھوٹے سے جملے نے بھی مجھ میں حوصلہ بھر دیا تھا۔ پھر جب ’بھارت رنگ مہوتسو‘ کے جائزے میں بھی میرا نام آیا تو یقین ہو گیا کہ میں درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہوں۔ 
آج کے دور کو الیکٹرانک میڈیا کا دور کہتے ہیں۔ کیا واقعی ایسا ہے؟ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں آپ کو کیا پسند ہے؟
ج:میرے خیال سے ایسا نہیں ہے۔ اگر میں اپنی بات کروں تو آج بھی مجھے لگتا ہے کہ اگر انٹرویو دینا ہو تو اخبار یا رسالے کیلئے ہو۔ میں اس میں زیادہ آسانی محسوس کرتا ہوں۔ ایسا نہیں ہے کہ الیکٹرانک میڈیا سے کوئی پریشانی ہے، لیکن میں پرنٹ میڈیا کو زیادہ پسند کرتاہوں کیونکہ اس میں تفصیل بتانے میں آسانی ہوتی ہے۔ میرے لیے ہمیشہ اصل اہمیت اس بات کی ہوتی ہے کہ گفتگو میں کیا کہا جا رہا ہے۔ ویڈیو میں اکثر لوگوں کی توجہ اس بات پر زیادہ ہوتی ہے کہ سامنے والا کیسا نظر آ رہا ہے یا کیسے بول رہا ہے؟
آپ کا تو بیشتر کریئر کیمرے کے سامنے ہی گزرا ہے، پھر بھی آپ پرنٹ میڈیا کو پسند کرتے ہیں ؟ کوئی خاص وجہ؟
ج:لوگوں نے مجھے اسکرین پر صرف اداکاری کرتے دیکھا ہے کیونکہ میرا کام ہی اسکرین پر ہے، لیکن آج ہماری پوری زندگی اسکرین تک محدود ہو کررہ گئی ہے۔ تفریح اسکرین پر، سوشل میڈیا اسکرین پر، ہر چیز اسکرین پر ہے۔ ایسے میں کہیں نہ کہیں اسکرین سے کچھ فاصلے کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ کتابیں پڑھنے اور اخبار پڑھنے کا لطف ہی الگ ہے۔ ہمارے گھر پر بچپن میں دو اخبار آ یا کرتے تھے، ایک انگریزی اور ایک ہندی۔ ہم انہی کو پڑھتے تھے۔ مجھے وہ دن آج بھی یاد ہے جب میری پہلی کہانی اخبار میں شائع ہوئی تھی۔ اس کا تراشہ میں نے آج تک سنبھال کر رکھا ہے کیونکہ اسے دیکھ کر لگتا ہے کہ بچپن کا خواب کسی حد تک پورا ہو گیا۔ 
آج جب آپ کو کوئی ایوارڈ یا اعزاز ملتا ہے تو کیا آپ کو ویسی ہی خوشی ہوتی ہے جیسی پہلے ہوتی تھی؟
ج: اب پہلے جیسی کیفیت نہیں رہی۔ پہلے اعزاز ملنے پر بے حد جوش اور خوشی ہوتی تھی۔ اب زندگی کے اس مرحلے پر ہوں جہاں عزت اور بے عزتی، دونوں کا اثر تقریباً ایک جیسا ہونا چاہئے۔ انسان کو ہر حال میں اپنا توازن برقرار رکھنا چاہئے۔ اعزاز ملنے پر یقیناً خوشی ہوتی ہے، اوپر والے کا شکر ادا کرتا ہوں، یہ احساس ہوتا ہے کہ محنت رنگ لائی لیکن یہ خوشی انسان پر اس حد تک غالب نہیں آنی چاہئے کہ وہ خود کو دوسروں سے بڑا سمجھنے لگے۔ 
کیا یہ احساس نہیں آنا چاہئے کہ میں کون ہوں؟
ج:جی بالکل، میں تو صرف ایک اداکار ہوں، بس۔ میں اپنے کام سے مطلب رکھتاہوں۔ میری کوشش یہی ہوتی ہے کہ اپنے کام سے شائقین کی تفریح کروں۔ اس کے ساتھ ہی اپنے کام کے ساتھ انصاف کرنے میں بھی یقین رکھتا ہوں۔ میں اپنے کردار کو پردے پر بہترین انداز میں پیش کرکے خود کو مطمئن کرنا جانتاہوں۔ 
آپ کو کام کرنے کا جذبہ کہاں سے ملتا ہے، خود سے یا شائقین سے؟
ج: جب تھیٹر میں پانچ سو یا ہزار لوگ ایک ساتھ بیٹھ کر کوئی ڈراما دیکھتے ہیں تو اس کا لطف ہی الگ ہوتا ہے۔ او ٹی ٹی پر لوگ زیادہ تر اکیلے دیکھتے ہیں، وہ ایک ذاتی تجربہ ہوتا ہے، لیکن جب سنیما ہال میں سیکڑوں لوگ ایک ساتھ بیٹھ کر فلم دیکھتے ہیں تو وہ ایک اجتماعی تجربہ بن جاتا ہے اور اس کا اثر بھی بالکل مختلف ہوتا ہے۔ حال ہی میں اپنی نئی فلم کی ڈبنگ کر رہا تھا۔ کچھ مناظر دیکھے تو مجھے بہت مزہ آیا۔ پھر میں نے اپنے ہدایت کار سے پوچھا کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ چونکہ میں خود اس فلم کا حصہ ہوں، اس لیے مجھے زیادہ اچھی لگ رہی ہے؟ انہوں نے کہا، ’’ نہیں، فلم واقعی اچھی بن رہی ہے۔ ‘‘ یہ سننے کے بعد تو میرا جوش اور بھی بڑھ گیا ہے۔ ۱۱؍ اگست کو اس فلم کا ٹریلر آئے گا، اسلئے میں اس کا بے صبری سے انتظار کر رہا ہوں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK