Inquilab Logo Happiest Places to Work

فٹ پاتھوں کو بہتر بنانے کی مہم کے تحت ۱۵؍ سے زائد ٹینڈر

Updated: August 09, 2026, 5:55 PM IST | Shahab Ansari | New Delhi

ہر وارڈ میں ریلوے اور میٹرو اسٹیشنوں، تعلیمی اداروں، اسپتالوں اور دیگر طبی سہولیات کے مقامات، بی ایم سی اور سرکاری دفاترجیسے ۵؍ مقامات کو ترجیحی طور پر بہتر بنایا جائے گا

BMC Commissioner Ashwini Bhide inspecting a footpath with other officers. Photo: INN
بی ایم سی کمشنر اشو ینی بھیڈے دیگر افسران کے ساتھ ایک فٹ پاتھ کا جائزہ لیتے ہوئے۔۔ تصویر: آئی این این
راہگیروں کو ترجیح دینے کی ’پیڈیسٹرین فرسٹ‘ مہم شروع ہونے کے چند ہی روز بعد برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) نے فٹ پاتھوں کو بہتر بنانے کیلئے ۱۵؍ سے زائد ٹینڈر جاری کردئیے ہیں۔بی ایم سی کے وارڈ آفسوں کے ذریعہ ۳؍ سے ۷؍ اگست کے درمیان مضافات کے ماٹنگا، ماہم، ملنڈ، اندھیری اور بوریولی جیسے ۱۵؍ سے زائد علاقوں میں فٹ پاتھوں کی مرمت، ان کی چوڑائی میں اضافہ، خوبصورت بنانا، فٹ پاتھ پر پیدل چلنے والوں کی رسائی آسان بنانا اور عوام کے بیٹھنے کیلئے جو فرنیچر رکھے جاتے ہیں ان میں سے ایسے فرنیچر جو پیدل چلنے والوں کیلئے اڑچن پیدا کرتے ہیں کو دیگر مقامات پر منتقل کرنا، راہگیروں کیلئے راستوں کی رہنمائی کے بورڈ آویزاں کرنا اور درختوں کے اطراف کھلی جگہ بنانا جیسے کاموں کیلئے ٹینڈر جاری کئے گئے ہیں۔ پیڈیسٹرین فرسٹ مہم کے تحت ایف نارتھ وارڈ میں ماٹنگا سے ماہم کے فٹ پاتھوں کیلئے ۱۱، کے ویسٹ وارڈ اندھیری کیلئے ۲، ٹی وارڈ ملنڈ کیلئے ۲؍ اور آر سائوتھ بوریولی سے کاندیولی کے درمیان کیلئے ایک ٹینڈر جاری کئے گئے ہیں جن کی قیمت ۵۰؍ لاکھ روپے سے زائد بتائی گئی ہے۔
 
 
ان ٹینڈروں کے تحت ’ایف نارتھ وارڈ‘ میں دوستی ایلیٹ۔ تھیرو ملائی بلڈنگ، این ایس مانکیکر روڈ، سائن تالاب گارڈن، کامگار سوسائٹی۔ سائن کولی واڑہ، روڈ نمبر ۲۹، سردار نگر اور کلپترو رائل۔ چمپاکلی اُدیوگ بھون۔ ’ٹی وارڈ‘ میں مُروگن پیلیس۔ آر آر ٹی روڈ جنکشن، رتنا سپر مارکیٹ، ملنڈ ویسٹ۔ ’کے ویسٹ وارڈ‘ میں ایم اے روڈ اندھیری (مغرب)، ’آر۔سائوتھ وارڈ‘ اور کاندیولی (مغرب) میں چنندہ فٹ پاتھ شامل ہیں۔ ساتھ ہی بی ایم سی کے صدر دفتر سے وارڈ آفسوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ فٹ پاتھ کو بہتر بنانے کے کام کو ترجیح دیں۔اگرچہ پیڈیسٹرین فرسٹ کے تحت مختلف فٹ پاتھوں کو غیرقانونی قبضہ جات، تعمیرات، تجاوزات اور ہاکروں سے پاک کرنے کی کارروائی شروع کی جاچکی ہے لیکن کئی مقامات ایسے ہیں جہاں خالی کرانے کے بعد فٹ پاتھ پر دوبارہ ہاکر وغیرہ قابض ہوگئے ہیں اور پہلے جیسے حالات پیدا ہوگئے ہیں۔
یاد رہے کہ حال ہی میں سپریم کورٹ نے نشاندہی کی ہے کہ شہریوں کو فٹ پاتھ پر چلنے کیلئے لازمی طور پر محفوظ، قابل رسائی اور رکاوٹوں سے پاک راستہ فراہم کئے جانے کا حق آئین میں دیا گیا ہے۔ عدالت کے اس فیصلے کی روشنی میں بی ایم سی نے ’پیڈیسٹرین فرسٹ‘ مہم کے نفاذ کیلئے ’یونیورسل فٹ پاتھ پالیسی ۲۰۲۳ء‘ کو اپنایا ہے۔ یہ پالیسی منصوبہ بندی، ڈیزائن، تعمیر اور دیکھ بھال کے لئے ضروری اصولوں کا تعین کرتی ہے اور پیدل چلنے والوں کے حق میں بہتر ہے۔بی ایم سی کے مطابق اگرچہ شہر کی بیشتر سڑکوں پر فٹ پاتھ دستیاب ہیں لیکن غیرقانونی تجاوزات، رکاوٹیں اور بنیادی ڈھانچے کی سہولیات میں عدم مساوات پیدل چلنے والوں کی نقل و حرکت میں اکثر رکاوٹیں پیدا کرتی ہیں۔
 
 
ترجیحی فٹ پاتھ
اس پالیسی کو مرحلہ وار نافذ کیا جائے گا اور پہلے مرحلے میں تمام اسسٹنٹ میونسپل کمشنروں کو اپنے دائرہ اختیار میں واقع ۵؍ فٹ پاتھوں کر ترجیحی طور پر بہتر بنانے کو کہا گیا ہے۔ ان میں ریلوے اور میٹرو اسٹیشنوں، تعلیمی اداروں (اسکول، کالج)، اسپتال اور دیگر طبی سہولیات کے مقامات، بی ایم سی اور سرکاری دفاتر، مذہبی مقامات اور دیگر ایسے مقامات جہاں ٹریفک زیادہ ہونے کی وجہ سے پیدل چلنے والوں کو دقت ہوتی ہے کو فوقیت دینے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ان مقامات کے فٹ پاتھوں پر۱۵؍ دنوں میں بہتر بنانے کو کہا گیا ہے۔
بی ایم سی کمشنر اشو ینی بھیڈے  دیگر افسران کے ساتھ  ایک فٹ پاتھ کا جائزہ لیتے ہوئے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK