سیکڑوں مظاہرین نے منہ پر کالی پٹی باندھ کر اور ترنگا لے کر مظاہرہ کیا۔ پُر امن مظاہرین میں خواتین اور لڑکیوں نے منفرد نعروں پر مبنی پلےکارڈ اور پوسٹر لے کر بڑ ی تعداد میں شرکت کی۔
EPAPER
Updated: October 13, 2026, 10:12 AM IST | Iqbal Ansari | Mumbai
سیکڑوں مظاہرین نے منہ پر کالی پٹی باندھ کر اور ترنگا لے کر مظاہرہ کیا۔ پُر امن مظاہرین میں خواتین اور لڑکیوں نے منفرد نعروں پر مبنی پلےکارڈ اور پوسٹر لے کر بڑ ی تعداد میں شرکت کی۔
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ اور ایس آئی آرکو منسوخ کرنے کے مطالبات پر اتوار کے ہنگاموں کے بعد پیر کو ایک بار پھر مظاہرین دادر میں واقع شیواجی پارک کے قریب مینا تائی ٹھاکرے ( بال ٹھاکرے کی اہلیہ) کے مجسمے کے پاس جمع ہونا شروع ہوئے۔ اس خاموش مظاہرے میں کوئی لاؤڈ اسپیکر یا اسٹیج نہیں بنایا گیاتھا بلکہ شرکاء نے اپنے منہ پر کالے فیتہ باندہ رکھا تھا اور ہاتھوں میں ترنگا لیا ہوا تھا۔ مظاہرے میںشیو سینا(ادھو) کے لیڈر آدتیہ ٹھاکرے اور مہاراشٹر نو نرمان سینا(ایم این ایس) کے لیڈر امیت ٹھاکرے، سندیپ دیشپانڈے، اور رکن اسمبلی ورون سر دیسائی سمیت دیگر لیڈر میں بھی اپنے منہ پر کالی پٹی باندھ مظاہرہ میں شرکت کی۔ اس دوران مہاراشٹر نونرمان سینا کی جانب سے گیانیش کمار کو عہدے ہٹانے اور ایس آئی آر رد کرنے کیلئے دستخطی مہم میں منعقد کی گئی جس میں متعدد مظاہرین نے اپنے دستخط کئے۔کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کیلئے پولیس نے انتہائی سخت سیکوریٹی اور بھاری نفری تعینات کر رکھی تھی۔
گرفتاریوں سے گریز کی غیر سرکاری ہدایت
پیر کو ہونے والے پرامن خاموش احتجاج کے دوران پولیس کو مبینہ طور پر یہ غیر سرکاری ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ مظاہرین پر گہری نظر رکھیں لیکن فی الحال کسی کو گرفتار یا حراست میں لینے سے گریز کریں تاکہ امن و امان کی صورتحال قابو میں رہے۔ شیواجی پارک میں ٹھاکرے برادران (راج ٹھاکرے اور ادھو ٹھاکرے) کی قیادت میں منعقدہ احتجاج کے دوران سیاسی ماحول انتہائی گرم رہا۔ یہ احتجاج کسی ایک جماعت کا نہیں بلکہ اپوزیشن کی مشترکہ قوت کا مظہر تھا، جہاں دونوں لیڈران نے مرکزی اور ریاستی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف سخت مؤقف اپنایا۔
مشترکہ قیادت اور صف بندی
طویل عرصے کے بعد ٹھاکرے خاندان کے دونوں اہم چہرے ایک ہی اسٹیج پر ایک ساتھ نظر آئے، جس نے مہاراشٹر کی سیاست میں ایک نیا پیغام دیا۔ ان کی موجودگی نے کارکنان میں زبردست جوش بھر دیا۔
یہ بھی پڑھئے: امریکی مواصلاتی کیبل اور اے آئی تنصیبات پرحملے کا انتباہ
حکومت کو انتباہ
اس موقع پر راج ٹھاکرے اور دیگر مہا وکاس اگھاڑی کے سرکردہ رہنماؤں نے حاضرین سے خطاب کیا۔ اپنے خطابات میں رہنماؤں نے مرکزی حکومت کی جانب سے ملک میں جمہوریت کا گلا گھونٹنے، اپوزیشن آوازوں کو دبانے اور دہلی میں پرامن مظاہرین پر پولیس کے مظالم کا شدید الفاظ میں ردعمل ظاہر کیا۔ مظاہرے میں شامل اپوزیشن کے لیڈروںنے واضح کیا کہ حکمرانوں کی تند و تیز پالیسیاں اور آمریت اب زیادہ دن نہیں چل سکتی۔ عوام اور نوجوان اپنے حقوق کے تحفظ کیلئے سڑکوں پر آ چکے ہیں اور حکومت کا یہ غرور جلد خاک میں ملایا جائے گا۔
پرامن احتجاج اور پولیس بندوبست
اگرچہ یہ احتجاج شیواجی پارک کے احاطے میں ایک بڑے دھرنے اور جلسے کی شکل اختیار کر گیا تھا، تاہم انتظامیہ کی جانب سے سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئےگئے تھے تاکہ امن و امان کی صورتحال برقرار رہے۔اتوار کو شیواجی پارک میں مظاہرہ کرنے والوں پر پولیس کے مظالم پر پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں آدتیہ ٹھاکرے نے الزام لگایا ہے کہ ممبئی پولیس نے خود سے کوئی فیصلہ نہیں لیا تھا، بلکہ انہیں نئی دہلی سے ملنے والی خصوصی ہدایات پر عمل کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ اسی بیرونی دباؤ اور سیاسی اشارے پر عمل کرتے ہوئے اتوار کے روز پولیس نے پرامن شہریوں اور سیاسی کارکنوں کے خلاف انتہائی سخت اور جارحانہ انداز میں طاقت کا استعمال کیا۔ انہوں نے حکومت کے اس رویے کو جمہوری حقوق کا گلا گھونٹنے کے مترادف قرار دیا ہے۔آدتیہ نے مزید کہا کہ’’ گیانیش کمار اور بی جےپی حکومت کے خلاف ہمارا احتجاج ہمیشہ پر امن طریقے سے ہی کیاگیا ہے پولیس نے دہلی کے حکم پر جارحانہ انداز میں کارروائی کی تھی جس سے ماحول خراب ہوا تھا۔ ‘‘ آدتیہ ٹھاکرے ، امیت ٹھاکرے ، رکن اسمبلی ورن سردیسائی سمیت دیگر پر مقدمہ درج کئے جانے سے متعلق آدتیہ نے کہا کہ ’’ پولیس کی جارحانہ کارروائی کے خلاف ہم سڑکوں پر اترے تھے ۔اس کیلئے اگر ہم پر کیس درج کیاجاتاہے تو ہم اس کیلئے تیار ہیں۔