Updated: September 13, 2026, 8:06 PM IST
| Mumbai
اداکارہ اور گلوکارہ شہناز گِل نے ریئلیٹی شو ’’ بگ باس ۱۳‘‘ کے دوران پیش آنے والی ٹرولنگ اور تنقید کے بارے میں کھل کر بات کی ہے۔ شہناز نے بتایا کہ شو کے دوران انہیں نہ صرف ان کے جسم اور وزن بلکہ ان کے بولنے کے انداز اور پنجابی لہجے کی وجہ سے بھی شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
شہنازگِل۔ تصویر:آئی این این
اداکارہ اور گلوکارہ شہناز گِل نے ریئلیٹی شو ’’ بگ باس ۱۳‘‘ کے دوران پیش آنے والی ٹرولنگ اور تنقید کے بارے میں کھل کر بات کی ہے۔ شہناز نے بتایا کہ شو کے دوران انہیں نہ صرف ان کے جسم اور وزن بلکہ ان کے بولنے کے انداز اور پنجابی لہجے کی وجہ سے بھی شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض لوگوں نے انہیں ’’ان پڑھ‘‘ اور ’’گنوار‘‘ تک کہا، لیکن وقت کے ساتھ انہوں نے انہی چیزوں کو اپنی طاقت اور شناخت میں تبدیل کردیا۔
شہناز گل نے حالیہ پوڈکاسٹ گفتگو میں ’’ بگ باس ۱۳‘‘ کے اپنے تجربات کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ انہیں شو کے دوران مسلسل ٹرول کیا جاتا تھا۔ ان کے مطابق ان کے جسم، وزن اور زبان کو نشانہ بنایا گیا اور پنجابی انداز میں بات کرنے کی وجہ سے انہیں ’’ان پڑھ‘‘ اور ’’گنوار‘‘ جیسے الفاظ بھی سننے پڑے۔ تاہم شہناز کا کہنا ہے کہ جو چیزیں کبھی لوگوں کی تنقید کا سبب بنتی تھیں، بعد میں وہی ان کی شخصیت کا اہم حصہ بن گئیں۔ شہناز ’’ بگ باس ۱۳‘‘میں اپنے بے باک، معصوم اور دیسی انداز کی وجہ سے تیزی سے مقبول ہوئی تھیں۔ اگرچہ وہ شو کی فاتح نہیں بن سکیں، لیکن وہ ٹاپ ۳؍ میں شامل رہیں اور بگ باس کے بعد ان کی مقبولیت میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ ان کے مخصوص پنجابی لہجے، برجستہ گفتگو اور منفرد شخصیت نے انہیں دیگر رئیلیٹی شو اسٹارز سے الگ شناخت دی۔
شہناز نے اپنے وزن اور جسم میں آنے والی تبدیلیوں کے بارے میں بھی تفصیل سے بات کی۔ انہوں نے کہا کہ بگ باس سے باہر آنے کے بعد انہوں نے وزن کم کیا اور لوگوں کو یہ دکھایا کہ وزن کم کرنا ان کے لیے کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ تاہم اب وہ اس بات کو لے کر پریشان نہیں ہوتیں کہ ان کا وزن کچھ کلو بڑھ گیا ہے۔اداکارہ کے مطابق اگر کبھی ان کا وزن چار یا پانچ کلو بڑھ بھی جائے تو انہیں اس پر برا محسوس نہیں ہوتا۔ ان کا کہنا ہے کہ انسان کو اپنے جسم کے ساتھ مطمئن اور پُراعتماد رہنا چاہیے، خاص طور پر اس وقت جب صحت کے حوالے سے کوئی مسئلہ نہ ہو۔
یہ بھی پڑھئے:ریباکینا نے سبالینکا کو شکست دے کر پہلی بار یو ایس اوپن کا تاج اپنے نام کیا
ان کے مطابق اگر کوئی شخص وزن کم کرتا ہے تو لوگ پوچھتے ہیں کہ اس نے وزن کیوں کم کیا اور اگر وزن بڑھ جائے تو یہی لوگ کہتے ہیں کہ وہ موٹا ہوگیا ہے اور اسے خود پر کام کرنا چاہیے۔ شہناز نے اسی دُہرے معیار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ آخر دنیا چاہتی کیا ہے؟ ان کا ماننا ہے کہ اگر انسان صحت مند ہے اور اپنے جسم میں خود کو اچھا محسوس کرتا ہے تو دوسروں کو اس کے جسم کے بارے میں فیصلہ کرنے کی ضرورت نہیں۔
شہناز نے زور دیا کہ خوبصورتی کو صرف ایک مخصوص جسمانی ساخت سے نہیں جوڑنا چاہیے۔ ان کے مطابق اگر مستقبل میں صحت مند جسم کو خوبصورتی کا معیار ماننے کا رجحان شروع ہوجائے تو وہ بھی ایک نیا معیار بن سکتا ہے، لیکن اس کے لیے کسی نہ کسی کو پہل کرنا ہوگی۔ انہوں نے اپنی فلم ’’عشق نامہ‘‘ کے دوران پیش آنے والے ایک تجربے کا بھی ذکر کیا۔ شہناز کے مطابق فلم کے ہدایت کار نے انہیں کردار کے مطابق چہرے کو زیادہ بھرا ہوا دکھانے کے لیے کچھ وزن بڑھانے کا مشورہ دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اپنی کچھ پرانی فلمیں دیکھتے ہوئے وہ خود کو قدرے گول مٹول دیکھتی ہیں تو انہیں اپنا وہ انداز بھی اچھا لگتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم نے ہندوستان دورے میں باندھا بالی ووڈ کا سماں
’’ بگ باس ۱۳‘‘شہناز گل کے کریئر کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔ شو میں شرکت سے پہلے وہ پنجابی میوزک ویڈیوز اور تفریحی دنیا میں کام کر رہی تھیں، لیکن بگ باس کے بعد انہیں پورے ملک میں پہچان ملی۔ بعد ازاں انہوں نے فلمی دنیا میں بھی قدم رکھا اور ’’کسی کا بھائی کسی کی جان‘‘ کے ذریعے بالی ووڈ میں ڈیبیو کیا۔ وہ ’’حوصلہ رکھ‘‘ اور’’تھینک یو فار کمنگ‘‘ جیسی فلموں میں بھی نظر آچکی ہیں۔ شہناز گل کی تازہ گفتگو اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ بگ باس کے دوران جس انداز اور جسمانی شکل کو لے کر انہیں تنقید کا سامنا کرنا پڑا، آج وہی ان کی منفرد شناخت کا حصہ بن چکا ہے۔ ان کا پیغام واضح ہے کہ خوبصورتی کسی ایک جسمانی معیار کی پابند نہیں اور سب سے اہم چیز اپنے جسم، شخصیت اور زندگی کے ساتھ مطمئن رہنا ہے۔