• Sun, 04 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

پوپ لیو کا انسانی فن اور اے آئی تخلیقات میں فرق کرنے پر زور

Updated: October 03, 2026, 10:10 AM IST | Vatican City

پوپ لیو نے مصنوعی ذہانت کے بڑھتے استعمال کے درمیان انسانی فن اور مشینوں سے تیار کردہ مواد میں فرق واضح کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ الگورتھم میں انسانیت کی وہ چنگاری موجود نہیں جو انسانی فن کو منفرد بناتی ہے، جبکہ اے آئی کو انسانی وقار، امن اور دانش مندی کی خدمت کیلئے استعمال کیا جانا چاہئے۔

Pope Leo. Photo: INN
پوپ لیو۔ تصویر: آائی این این

پوپ لیو نے جمعہ کو کہا کہ مصنوعی ذہانت کے دور میں انسانی فن اور ’’مشینوں کے تیار کردہ فن‘‘ کے درمیان فرق واضح کرنا اب ’’انتہائی ضروری‘‘ ہوتا جا رہا ہے۔ پوپ نے امریکی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا، ’’مصنوعی ذہانت کے اس دور میں انسانی فن کو مشینوں کے تیار کردہ فن سے الگ کرنا انتہائی ضروری ہوتا جا رہا ہے۔‘‘ انہوں نے فن اور اس مواد کے درمیان بنیادی نوعیت کے فرق کی جانب اشارہ کیا جو ایک مشین لاکھوں افراد کی تخلیق کردہ تصاویر کی بنیاد پر شماریاتی حساب کے ذریعے تیار کرسکتی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’الگورتھم میں انسانیت کی وہ چنگاری موجود نہیں ہوتی۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: اے آئی چیٹ بوٹس نے امیج ٹیسٹ میں مسلم خواتین کا حجاب ہٹایا : رپورٹ

حالیہ عرصے میں مصنوعی ذہانت کی ایسی متعدد مثالیں سامنے آئی ہیں جنہوں نے بہت سے لوگوں کے تصور سے بھی آگے بڑھ کر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی مصنوعی ذہانت کے شعبے سے وابستہ ماہرین کی جانب سے خطرات سے متعلق انتباہات نے اس ٹیکنالوجی کی رفتار محدود کرنے اور اس پر مزید سخت ضابطے عائد کرنے کے مطالبات کو تقویت دی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی پوپ لیو نے کہا تھا کہ مصنوعی ذہانت کو انسانی وقار کی خدمت کرنی چاہئے، امن کو مضبوط بنانا چاہئے اور اسے دانش مندی اور خیر خواہی کی رہنمائی میں استعمال کیا جانا چاہئے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ: ایران کی بحری ناکہ بندی کے بعد آٹو اور ریلوے شعبوں پر نئی پابندیاں

واضح ہو کہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے تصاویر، موسیقی، تحریر اور دیگر تخلیقی مواد تیار کرنے کی صلاحیت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث انسانی تخلیق، فنکارانہ محنت اور مشینی طور پر تیار کردہ مواد کے درمیان فرق سے متعلق بحث بھی شدت اختیار کر رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق اے آئی تخلیقی کاموں میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے، تاہم اس کے استعمال کے ساتھ کاپی رائٹ، تخلیق کاروں کے حقوق، شفافیت اور انسانی تخلیقی صلاحیت کے تحفظ جیسے سوالات بھی اہمیت اختیار کر رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK