• Sun, 11 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’میں اب تیلگو شو بز انڈسٹری میں داخل ہونے کیلئے کوشاں ہوں‘‘

Updated: January 11, 2026, 12:30 PM IST | Abdul Karim Qasim Ali | Mumbai

ٹی وی اداکارہ پراکرتی نوٹیال کا کہنا ہےکہ میں اداکاری کے ہر میڈیم پر قسمت آزمانا چاہتی ہوں، میں کسی خاص رول کا انتخاب نہیں کرنا چاہتی بلکہ جو بھی کام ملے، میں وہ کروں گی۔

TV actress Prakriti Nautiyal. Photo: INN
ٹی وی اداکارہ پراکرتی نوٹیال۔ تصویر: آئی این این

پراکرتی نوٹیال نے اپنے کریئر کا آغاز ٹی وی انڈسٹری سے کیا تھا۔ وہ اب بھی اسی انڈسٹری میں مصروف ہیں۔ انہوں نے اپنے کریئر کی شروعات ۲۰۱۰ء میں کی تھی اور ہندی کے ساتھ ہی گجراتی اور پنجابی فلم اورشوز میں بھی قسمت آزمائی ہے۔ ٹی وی شوزکے ساتھ ہی انہوں نے میوزک ویڈیوز میں بھی کام کیاہے۔ پراکرتی نے ’پوتر رشتہ‘، ’نام کرن‘ اور ’لال عشق ‘نامی معروف شوز میں کام کیا ہے۔ اس وقت وہ اسٹار ٹی وی کے شو ’شہزادی ہے تو دل کی‘ میں مرکزی کردار نبھارہی ہیں۔ پراکرتی اداکارہ ہونے کےساتھ ہی ایک سرگرم سماجی کارکن بھی ہیں اور وہ جانوروں کیلئےکام کرنے والی تنظیموں کے ساتھ وابستہ ہیں۔ نمائندہ انقلاب نے پراکرتی نوٹیال سے ان کے نئے شو اور ان کے بارےمیں گفتگو کی جسے یہاں پیش کیا جارہا ہے: 
اس وقت آپ کس شو میں مصروف ہیں ؟
ج:اس وقت میں اسٹار کے شو ’شہزادی ہے تو دل کی ‘ میں کام کررہی ہوں۔ دراصل یہ ایک ری میک شو ہے۔ اس کا اوریجنل شو تیلگو ٹی وی انڈسٹری میں بن چکا ہے اور وہی پرڈوکشن ہاؤس اسے ہندی میں بھی بنا رہا ہے۔ اس شو کا پورا اسٹاف جنوبی ہند سے تعلق رکھتا ہے اور ہم خود بھی جنوبی ہند آکر اس کی شوٹنگ کررہے ہیں۔ جنوبی ہند میں یہ شو بہت کامیاب رہا تھا اسلئے پروڈکشن ہاؤس نے اسے ہندی انڈسٹری کیلئے بنانے کا فیصلہ کیا تھا۔ 
اس شو میں آپ اپنے رول کے بارے میں کچھ بتائیں ؟
ج:اس شو میں میرا مرکزی کردار ہے۔ میں نے دیپا کی والدہ کا رول اداکیا ہے۔ میں پہلی بار کسی کی ماں کا رول نبھا رہی ہوں۔ یہ ایک مثبت کیریکٹر ہے اور میں نے کوشش کی ہے کہ اس کردارکے ساتھ انصاف کرسکوں۔ میں ۱۵؍برس سے انڈسٹری سے وابستہ ہوں اور ہر بارمیں یہی کوشش کرتی ہوں کہ اپنے رول کو بہتر انداز میں نبھاؤں اور اس کیریکٹر میں جان ڈال دوں۔ امید کرتی ہوں کہ ٹی وی شائقین کو میرا یہ رول بھی بہت پسند آئے گا اور وہ اس کی تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکیں گے۔ 
آپ تو ابھی خود جوان ہیں، ایسے میں ماں کا کردار کیوں نبھایا؟ 
ج: ایک اداکار کو اپنے فن میں ماہر ہونا چاہئے۔ جس اداکارہ کی میں ماں بنی ہوں وہ خود میری ہم عمر ہے۔ سیٹ پر ہم ایک دوسرے کی دوست بن کر رہتی ہیں لیکن شوٹنگ کے وقت میں ان کی والدہ بن جاتی ہوں۔ یہ تھوڑا مشکل ہوتاہے کہ اپنی عمر سے بڑی عمر کی عورت کا رول نبھانا۔ اس کے باوجود میں نے پوری کوشش کی ہے کہ میں ماں کے کردار کے ساتھ انصاف کروں۔ ہم نے اس شو سے پہلے کچھ ورکشاپ بھی کئے تھے۔ لہٰذا اس کردار کو نبھانے میں زیادہ پریشانی نہیں ہوئی۔ 
جنوبی ہند کے پروڈکشن ہاؤس کے ساتھ تجربہ کیسا رہا ہے؟
ج: جنوبی ہند کے پروڈکشن ہاؤس نے اس شو کو دیپا کارتک کے نام سے حیدرآباد کی انڈسٹری میں ریلیزکیا تھا۔ پروڈکشن ہاؤس کا تعلق ساؤتھ سے ہے، اسلئے ہمیں بھی ممبئی سے حیدرآباد آکر شوٹنگ کرنی پڑرہی ہے۔ یہ پروڈکشن ہاؤس بہت اچھا ہے اور اس کا اسٹاف بھی بہتر ہے۔ یہاں صرف زبان کا مسئلہ ہے۔ وہ ہندی میں زیادہ بات نہیں کرتے اور تیلگو ہی میں گفتگو کرتے ہیں۔ حالانکہ ان کی انگریزی بھی تھوڑی جنوبی ہند کی طرح ہوتی ہے اسلئے ہم شمالی ہند وستان کے باشندوں کو سمجھ میں نہیں آتی ہے۔ سبھی اسٹاف وقت مقررہ پر شوٹنگ پر آجاتے ہیں، یہ بات جنوبی ہند وستان کی انڈسٹری کی بہت اچھی ہے۔ 
کیا اس شو کی شوٹنگ حیدرآباد میں ہی ہورہی ہے؟
ج:جی ہاں، اس شو کی شوٹنگ حیدرآباد میں ہی ہورہی ہے۔ حالانکہ ہم راموجی میں شوٹنگ نہیں کررہے ہیں۔ حیدرآباد کا ایک مقامی علاقہ حمایت نگر ہے، اس کے قریب میں ہمارے شو کی شوٹنگ ہورہی ہے۔ اگر ممبئی اور حیدرآباد میں شوٹنگ کے مقامات پر موازنہ کیا جائے تو مجھے انفراسٹرکچر کے معاملے میں حیدرآباد بہتر نظر آتاہے۔ یہاں شوٹنگ کیلئے سبھی طرح کی سہولتیں میسرہیں۔ یہاں شوٹنگ کرنا آسان ہے اور سب سے اچھی بات یہ ہے کہ آپ انڈسٹری میں ہی ہوٹلس اور دیگر سہولتیں میسر ہوتی ہیں۔ میں بہت خوش ہوں کہ مجھے حیدرآباد میں بھی شوٹنگ کرنے کا موقع مل رہا ہے۔ 
اس شو کے ساتھ کیا کسی اور پروجیکٹ میں بھی مصروف ہیں ؟
ج: فی الحا ل میں اسٹار کے اس شو پر توجہ مرکوز کررہی ہوں اور دوسرا کوئی پروجیکٹ میرے پاس نہیں ہے۔ ٹی وی شو کا معاملہ ایسا ہوتا ہے کہ آپ کو ایک وقت پر ایک ہی شو میں کام کرنا ہوتاہے۔ دوسری طرف کوشش کررہی ہوں کہ تیلگو انڈسٹری میں بھی مجھے موقع ملا۔ اس کیلئے میں حیدرآباد میں رہتے ہوئے وہاں کے پروڈکشن ہاؤس سے رابطہ کررہی ہوں۔ میں چاہتی ہوں کہ میں جنوبی ہند کے شوز میں بھی کام کروں اور اپنی صلاحیتوں کو وہاں بھی پیش کروں۔ 
آپ نے نہایت خاموشی سے شادی کی، کوئی خاص وجہ تھی؟
ج:اس میں کوئی رازداری کی بات نہیں تھی۔ میں پہلے ہی سے چاہتی تھی کہ خاموشی سے شادی کروں اور اس میں زیادہ افراد کی شرکت نہ ہو۔ یہ سب اتنا اچانک ہوا تھا کہ میں خود حیران تھی۔ میری شادی کے وقت میرے قریبی رشتہ دار اور دوست ہی موجود تھے۔ ۲۰۲۴ء میں میرے پاس کوئی شو بھی نہیں تھا تو میں نے سوچا کہ شادی کرنے کا یہ سب سے اچھا موقع ہے۔ یہ شو بز انڈسٹری ہے یہاں کوئی بھی بات چھپانا بہت مشکل ہوتاہے اورسوشل میڈیا کے اس دور میں تو یہ اور مشکل ہوگیا ہے۔ 
اداکاری کے ساتھ آپ کی اور کیا مصروفیات ہیں ؟
ج: مجھے بچپن ہی سے جانوروں سے محبت ہے۔ انہیں کوئی پریشان کرتاہے تو میں تکلیف محسوس کرتی ہوں۔ فی الحال میں شو میں مصروف ہوں اسلئے اس جانب توجہ نہیں دے پا رہی ہوں۔ مجھے جب بھی موقع ملتا ہے تو میں جانوروں کی حفاظت اور ان کی دیکھ بھال کرنے والی تنظیموں کے ساتھ مل کر کام کرتی ہوں۔ یہ بے زبان جانور اپنی تکلیف کسی کو بیان نہیں کرسکتے، اسلئے ہمیں ہی ان کی دیکھ بھال کرنے کی ذمہ داری اٹھانی پڑتی ہے۔ 
سوشل میڈیا آپ کیلئے کیا معنی رکھتا ہے؟
ج:مجھے سوشل میڈیا پر سرگرم رہنا پسند نہیں ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اس میں توانائی بہت صرف ہوتی ہے، اس کے ساتھ ہی وقت کا ضیاع بھی ہوتاہے۔ آج کی نوجوان نسل اپنا زیادہ وقت سوشل میڈیا پر ہی صرف کررہی ہے جوکہ بہت ہی غلط بات ہے۔ موجودہ دور کے ساتھ چلنے کیلئےمیں نے بھی اپنا انسٹا پروفائل بنایا ہے اور کچھ نہ کچھ پوسٹ کرتی رہتی ہوں۔ ورنہ میں سوشل میڈیا کی مخالفت کرتی ہوں۔ 
کورونا کے بعد کیا تبدیلی محسوس کرتی ہیں ؟
ج:کورونا کے بعد ایک تبدیلی جو میں نے محسوس کی وہ یہ ہے کہ اب کاسٹنگ کیلئے پروڈکشن ہاؤس کا دورہ نہیں کرنا پڑتا، بلکہ آن لائن اور دیگر میڈیم سے ہی آپ آڈیشن دے سکتے ہیں۔ یہ اچھی بات نہیں ہے۔ دوسری اچھی بات یہ ہے کہ کورونا کے بعد سے لوگ سوشل میڈیا کے ذریعہ بھی اپنے ہنر کو پیش کررہے ہیں اور ٹی وی انڈسٹری میں انہیں کام مل رہا ہے۔ 
کیا آپ ٹی وی پر ہی مصروف رہنا چاہتی ہیں ؟
ج:ایسی کوئی بندش نہیں ہے کہ میں صرف ٹی وی پر ہی مصروف رہوں۔ میں ویب سیریز اور فلموں میں بھی کام کرنا چاہتی ہوں۔ میں اداکار ہوں تو چاہوں گی کہ ہر میڈیم پر اپنے ہنر کو آزماؤں۔ فی الحال میں نے طے نہیں کیا ہے کہ مجھے کس طرح کے شوز یا فلم کرنی ہے۔ مجھے جو بھی کام ملے گا میں وہ کرنے کیلئے تیار ہوں۔ پھر دیکھتے ہیں کہ آگے کتنا کام ملتاہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK