نیپال میں عوامی بغاوت کے بعد ملک میں تاریخی انتخابات منعقد ہونے جارہے ہیں، ۳؍ کروڑ آبادی والا یہ ہمالیائی ملک جمعرات کو نئی پارلیمنٹ کا انتخاب کرے گا۔
EPAPER
Updated: March 04, 2026, 7:05 PM IST | Kathmandu
نیپال میں عوامی بغاوت کے بعد ملک میں تاریخی انتخابات منعقد ہونے جارہے ہیں، ۳؍ کروڑ آبادی والا یہ ہمالیائی ملک جمعرات کو نئی پارلیمنٹ کا انتخاب کرے گا۔
بدھ کو نیپال میں۲۰۰۶ء کی خانہ جنگی کے بعد سب سے زیادہ موضوع بحث انتخابات کے لیے پولنگ مراکز قائم کر دیے گئے۔ واضح رہے کہ چھ ماہ قبل بدعنوانی کے خلاف پرتشدد عوامی تحریک نے حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔ ۳؍ کروڑ کی آبادی والا یہ ہمالیائی ملک جمعرات کو نئی پارلیمنٹ کا انتخاب کرے گا۔ ستمبر۲۰۲۵ء کی تحریک میں کم از کم۷۷؍ افراد ہلاک ہوئے تھے جس کے بعد نگران حکومت قائم ہوئی تھی۔
دریں اثناء دارالحکومت کھٹمنڈو کے درباری اسکوائر میں پولنگ مراکز تیار کر لیے گئے ہیں۔ عبوری وزیراعظم ششیلا کرکی نے عوام سے بلا خوف و خطر ووٹ ڈالنے کی اپیل کی ہے۔جبکہ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے برفانی علاقوں میں انتخابی لوازمات پہنچا دیے گئے ہیں۔ تاہم اس بار توجہ دارالحکومت کے جنوب میں واقع گرم میدانی علاقوں پر ہے جہاں تینوں وزیراعظم امیدوار حلقوں میں مقابلہ کر رہے ہیں۔مشرقی قصبہ جھاپا میں دو اہم حریفوں کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔جبکہ کے پی شرما اولی جو سابق وزیراعظم ہیں، ان کا مقابلہ سابق میئر بلندر شاہ سے ہے۔ شاہ نوجوانوں کی تبدیلی کی علامت ہیں۔ جھاپا-5 حلقہ میں تقریباً ایک لاکھ ۶۳؍ ہزار رائےدہندگان ہیں جو طے کریں گے کہ اولی جیتیں گے یا شاہ پارلیمنٹ میں داخل ہوں گے۔
بعد ازاں الیکشن افسر بیدور کمار کرکی کا کہنا ہے کہ یہ انتہائی حساس علاقہ ہے اور پولیس و فوج تعینات کر دی گئی ہے۔ ہندوستان سے متصل سرلاہی حلقہ میں گگن تھاپا الیکشن لڑ رہے ہیں۔ نیپال کی نصف آبادی جنوبی میدانی علاقوں میں رہتی ہے جہاں انتخابات خاص اہمیت رکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کی ایران کو وارننگ: ایک شدت پسند کی جگہ دوسرا قابلِ قبول نہیں
یاد رہے کہ نیپال میں سوشل میڈیا پربندش کے خلاف طلبہ اور نوجوانوں نے احتجاج کیا تھا، جو جلد ہی حکومت مخالف مظاہرے میں تبدیل ہوگیا، عوام کا الزام تھا کہ حکومت عوام کی ناراضگی کو دبانے کیلئے انٹرنیٹ بند کررہی ہے، جس کے بعد یہ احتجاج پر تشدد ہوگیا ، جس کے بعد ،متعدد مقامات آگزنی اور تخریب کاری کے واقعات سامنے آئے، مختلف سیاسی لیڈروں کے گھروں پر حملے ہوئے، اور کے پی شرما اولی کو اپنا عہدہ چھوڑنا پڑا۔ جس کے بعد ایک عبوری حکومت تشکیل دی گئی تھی۔یہی وجہ ہے کہ یہ انتخاب اس پس منظر میں کافی اہمیت اختیار کر گئےہیں۔