Inquilab Logo Happiest Places to Work

اتراکھنڈ: مندر کے منیجر کا کمسن مسلم بچی پر مذہبی نعرہ لگانے کا دبائو

Updated: March 04, 2026, 6:03 PM IST | Dehradun

اتراکھنڈ میں ایک مندر کے منیجر پر ایک کمسن مسلم بچی سے جبراً مذہبی نعرہ لگانے کا الزام ہے، پولیس نے شرما کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا ہے، ایس ایس پی اجے گنپتی کا کہنا ہے کہ شرما پر فراڈ کے پرانے مقدمات بھی درج ہیں اور اب نیا مقدمہ شامل کیا گیا ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

اتراکھنڈ کے ادھم سنگھ نگر ضلع سے ایک ویڈیو سامنے آیا ہے جس میں مقامی مندر کا منیجر اروند شرما ایک نابالغ مسلمان بچی کو سڑک پر روک کر زبردستی ’’جے شری رام‘‘ کا نعرہ بلوانے پر مجبور کرتا نظر آ رہا ہے۔ویڈیو میں شرما اپنی گاڑی سے اتر کر بچی کو پاس بلاتاہے،اور پوچھتاہے کہ کیا وہ اللہ پر ایمان رکھتی ہے؟ بچی نے ہاں میں جواب دیا، اس پر شرما کہتا ہے کہ جب وہ کلمہ پڑھ سکتی ہو تو جے شری رام کیوں نہیں کہہ سکتی؟ خوفزدہ بچی آخرکار دباؤ میں آکر یہ الفاظ دہراتی ہے۔ واضح رہے کہ یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند روز قبل ہی شرما پر ایک بزرگ مسلمان شاہد کو نماز پڑھنے پر تشدد کا نشانہ بنانےکا الزام تھا۔جبکہ شاہد مندر کے قریب خالی جگہ پر نماز ادا کر رہا تھا ، اور شرما نے وہاں پہنچ کر اسے لاٹھیوں سے مارا پیٹا۔

یہ بھی پرھئے: شیعہ مظاہرین کے خلاف ایڈوائزری حکومت کے دوہرے معیار کا مظہر: اسدالدین اویسی

بعد ازاں پولیس نے شرما کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا ہے۔اس بابت ایس ایس پی اجے گنپتی کا کہنا ہے کہ شرما پر جعل سازی کے پرانے مقدمات بھی درج ہیں اور اب نیا مقدمہ شامل کیا گیا ہے۔تاہم مقامی مسلمان خوفزدہ ہیں اور حکومت سے تحفظ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے بچے اسکول جاتے ہیں اور اب والدین انہیں اکیلا باہر بھیجنے سے گھبرارہے ہیں۔اس کے علاوہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔ کارکنوں کا کہنا ہے کہ بچی کے ساتھ یہ سلوک قابل مذمت ہے اور اسے سنگین مقدمہ بنایا جانا چاہیے۔یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے اور لوگ شرما کے خلاف سخت سزا کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ عوام سوال کررہے ہیں کہ اتراکھنڈ میں مسلمانوں کے ساتھ ایسے واقعات میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے، اور پولیس اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام کیوں ہے؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK