Inquilab Logo Happiest Places to Work

قادر خان نے بیشتر فلموں میں اپنے مکالمےخود ہی لکھے

Updated: October 25, 2020, 11:49 AM IST | Agency

ہندوستانی سنیما میں قادر خان کو ایک ایسے کثیر جہتی آرٹسٹ کے طور پر جانا جاتا ہے جنہوں نے مکالمہ نگار ، رائٹر، ویلن اور کامیڈین کے علاوہ سنجیدہ اداکار کے طور پر ناظرین کے درمیان اپنی ایک انوکھی شناخت بنائی

Kadar Khan - Pic : INN
قادر خان ۔ تصویر : آئی این این

۔قادر خان کی اداکاری کی ایک خصوصیت یہ رہی کہ وہ کسی بھی طرح کے کردار کیلئے موزوں رہے یا پھر یوں کہیں کہ وہ ہر قسم کے کردار میں خود کو ڈھال لیتے تھے۔ فلم ’قلی‘ اور’ وردی‘ میں ایک سفاکانہ ویلن کا کردار ہو یا پھر ’قرض چکانا ہے‘ اور’ جیسی کرنی ویسی بھرنی‘فلم میں بہترین سنجیدہ اداکاری یا پھر ’باپ نمبري بیٹا دس نمبری‘ اور’ پیار کا دیوتا‘ جیسی فلموں میں مزاحیہ اداکاری.... ان تمام کرداروں میںقادر خان کا کوئی جواب نہیں ہے۔ اگر یہ کہاجائے تو غلط نہ ہوگا کہ ان میں فلم شائقین کا دل جیتے کا ہنر بدرجہ اتم موجود تھا۔
 قادر خان۲۲؍ اکتوبر۱۹۳۷ء کو افغانستان کے شہر کابل میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں  نے عثمانہ یونیورسٹی سے اپنی پوسٹ گریجویٹ کی تعلیم مکمل کی۔  اس کے بعد انہوں نے عربی زبان کی تربیت کیلئے ایک ادارہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔ قادر خان نے بطور  پروفیسراپنے کریئرکی  شروعات کی۔    اس دوران، قادر خان نے کالج میں منعقد ہونے والے ڈراموں میں حصہ لیا۔ ایک دفعہ، کالج کی سالانہ تقریب میں، قادر خان کو کام کرنے کا موقع ملا۔ اس تقریب میں اس زمانے کے سپر اسٹار دلیپ کمار ،قادر خان کی اداکاری سے کافی متاثر ہوئے اور اتنا متاثر ہوئے کہ انہیں اپنی فلم ’سگينہ‘ میں کام کرنے کی پیش کش کر دی۔تپن سنہا کی ہدایت میں بننے والی یہ فلم ۱۹۷۴ء میں ریلیز ہوئی۔فلم ’سگینہ‘  کے بعد بھی قادر خان ، فلم انڈسڑی میں  شناخت بنانے کیلئےمسلسل جدوجہدکرتے رہے۔ حالانکہ اس سے قبل وہ ۱۹۷۳ء میں راجیش کھنہ، شرمیلا ٹیگور اور راکھی  کے ساتھ یش چوپڑہ کی فلم ’داغ‘ سے اپنے فلمی کریئر کاآغاز کرچکے تھے۔ یہ بطور پروڈیوسر یش چوپڑہ  اور ان کی کمپنی ’یش راج فلمز‘کی پہلی فلم تھی۔ اس میں انہوں نے ایک قانون داں کا کردار ادا کیاتھا۔گلشن نند ہ کی تحریر کردہ فلم کی کہانی کے مکالمے اخترالایمان نے لکھے تھے۔فلم کامیاب تو ہوئی مگر بہت مختصر رول ہونے کی وجہ سے قادر خان کو اس فلم سے بہت زیادہ فائدہ نہیں ہوا.... البتہ اس فلم سے اتنا فائدہ ضرور ہوا کہ راجیش کھنہ جو اُس وقت کے سپر اسٹار تھے،ان سے ان کے تعلقات بہت اچھے ہوگئے تھے۔ 
 بعد ازاں دل دیوانہ، گمنام، عمر قید، اناڑی اور بے راگ جیسی  کئی فلمیں منظر عام پر آئیں لیکن ان تمام فلموں سے انہیں کوئی خاص فائدہ نہیں ملا۔ وہ جیسا کردار چاہتے تھے، وہ ابھی ان کی پہنچ سے دور تھا۔ چونکہ یہ خود قلمکار تھے،اسلئے دوسروں کے تحریر کردہ مکالمے بھی انہیں پسند نہیں آتے تھے لیکن ایک ادکار کی مجبوری اور اخلاقی تقاضوں کے پیش نظر وہ کام کرنے پر مجبور تھے۔ اسی دوران راجیش کھنہ کی ایک فلم ’روٹی‘ میں راجیش کھنہ نے انہیں مکالمہ لکھنے کی ذمہ داری سونپی۔ یہ فلم کامیاب ہوئی ،جس کا فائدہ قادر خان کو بھی ملا۔ وہ اداکار کے ساتھ ہی بطور قلمکار بھی فلم انڈسٹری میں جانے پہچانے لگے۔اس کے بعد بیشتر فلموں میں اپنا مکالمہ خود انہوں نے ہی لکھا ہے۔
  دو سال بعد ۱۹۷۷ء میں قادر خان کی کئی اہم فلمیں ریلیز ہوئیں جن میں’ خون پسینہ‘ اور ’پرورش‘ کے نام قابل ذکر ہیں۔  ان فلموں کے ذریعے،  وہ اپنی شناخت کچھ حد تک بہتر بنانے میں   کامیاب رہے۔ان  فلموں کی کامیابی کے بعد قادر خان کو اچھی فلموں کی پیشکش شروع  ہوگئی۔اس کے بعد یکے بعد دیگرے کئی فلمیں باکس آفس پر کامیاب رہیں اور ان فلموں میں قادر خان کی  نہ صرف اداکاری  سراہی گئی بلکہ جن فلموں میں انہوں نے مکالمے لکھے،ان میں ان کے قلم کا جادو بھی تسلیم کیاگیا۔ ان کی اداکاری والی کامیاب فلموں میں مقدر کا سکندر، مسٹر نٹور لال، سہاگ، عبداللہ، دواور  دو پانچ  ، لوٹ مار، قربانی، یارانہ، بلندی اور نصیب شامل تھیں۔  ان فلموں کی کامیابی کے بعد، قادر خان نے کامیابی کی نئی بلندیوں کو چھوا اور بطور ویلن فلم انڈسٹری میں اپنی نئی پہنچان بنالی۔یہیں سے قادر خان کو اس زمانے کے سپراسٹار امیتا بچن کا بھی ساتھ ملا۔ دونوں کئی فلموں میں ساتھ ساتھ آئے۔ فلم ’قلی‘۱۹۸۳ء میں ریلیز ہوئی جس نے قادر خان کے کریئرکو نیا رخ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ ان کی سپرہٹ  فلموں میں سے ایک ہے۔اس فلم سے  امیتابھ بچن، منموہن دیسائی اور قادر خان سبھی کو فائدہ ملا۔ فلم باکس آفس پر زبردست ہٹ رہی۔   اس کے ساتھ ہی، قادر خان فلم انڈسٹری کی بہترین ویلن کی فہرست  میں شامل ہوگئے۔
 ۱۹۹۰ء میں ریلیز فلم’باپ نمبری بیٹا دس نمبری‘  قادر خان کے کریئر کی اہم فلموں میں سے ایک ہے۔ اس میں، قادر خان اور شکتی کپور نے باپ اور بیٹے کا کردار ادا کیا تھا، جو دوسروں کو دھوکے سے ٹھگتے رہتے ہیں۔ فلم میں، قادرخان اور شکتی کپور نے اپنی مزاحیہ اداکاری سے ناظرین کو بے حد لوٹ پوٹ کیا۔ فلم میں ان کی بہترین اداکاری کیلئے قادرخان کو  فلم فیئر ایوارڈ  سے نوازا گیا۔ دہائی کے آخر تک قادر خان نے اپنی  ویلن کی شبیہ کو تبدیل کرلیا تھا۔
 قادر خان اپنے کریئر کے آخر میں اداکار شکتی کپور کے ساتھ بہت پسند کئے گئے۔ ان دونوں اداکاروں نےتقریباً۱۰۰؍ سے زائد فلموں میں ایک ساتھ کام کیا ہے۔اس کے علاوہ گووندہ کے ساتھ بھی ان کی جوڑی بہت مشہور ہوئی تھی۔ قادر خان نے اپنے فلمی کریئر میں کم و بیش۳۰۰؍ فلموں میں کام کیا ہے اور ان میں سے تقریباً ۲۵۰؍ فلموں میں مکالمے لکھے ہیں

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK