Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹرمپ کا ایران کو ۴۸؍ گھنٹے کا الٹی میٹم، ہرمز بحران عالمی تصادم کے دہانے پر

Updated: April 04, 2026, 9:11 PM IST | Washington

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کو ۴۸؍ گھنٹوں میں آبنائے ہرمز  مکمل طور پر کھولنے کا الٹی میٹم دیا ہے، بصورت دیگر ’’سنگین فوجی نتائج‘‘ کی دھمکی دی ہے۔ آبنائے ہرمز میں ایران کی جزوی پابندی نے عالمی توانائی سپلائی کو متاثر کیا ہے۔ اگرچہ ایران نے محدود طور پر بعض ممالک کو گزرنے کی اجازت دی ہے، لیکن کشیدگی، عالمی سفارتی دباؤ اور ممکنہ فوجی تصادم نے صورتحال کو انتہائی نازک بنا دیا ہے۔

US President Donald Trump. Photo: X
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: ایکس

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی ایک انتہائی خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں ٹرمپ نے ایران کو واضح الفاظ میں ۴۸؍ گھنٹوں کا الٹی میٹم دیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بحری ٹریفک کے لیے کھول دے، بصورت دیگر اسے سخت فوجی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اپنے سوشل میڈیا بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ ’’وقت ختم ہو رہا ہے‘‘، اور ایران کے پاس اب صرف محدود وقت باقی ہے۔ واضح رہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی مہم ایران کے خلاف چوتھے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے۔ اس دوران ایران نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو مکمل طور پر بند کرنے کے بجائے ایک محدود ’’منتخب ٹرانزٹ‘‘ پالیسی اختیار کی ہے، جس کے تحت صرف ان ممالک کے جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جا رہی ہے جنہیں تہران غیر دشمن تصور کرتا ہے۔ اس پالیسی کے تحت بھارت سمیت چند ممالک کے جہاز خصوصی راہداریوں کے ذریعے گزر رہے ہیں، جبکہ مغربی ممالک سے وابستہ جہازوں پر سخت پابندیاں برقرار ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ: ٹرمپ انتظامیہ نےریکارڈ ۵ء۱؍ کھرب ڈالر کا دفاعی بجٹ تجویز کیا، اقلیتی لیڈر چک شومر نےتنقید کی

عالمی سطح پر آبنائے ہرمز کی اہمیت غیر معمولی ہے، کیونکہ دنیا کی تقریباً ۲۰؍ فیصد فیصد تیل سپلائی اسی راستے سے گزرتی ہے۔ حالیہ پابندیوں اور محدود ٹریفک کے باعث عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں تیزی دیکھی گئی ہے، جبکہ توانائی کے بحران اور معاشی غیر یقینی میں اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو عالمی معیشت پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ ٹرمپ نے ۲۶؍ مارچ کو ایران کو ابتدائی ڈیڈ لائن دی تھی، جسے بعد میں ۱۰؍ دن بڑھا کر ۶؍ اپریل تک کر دیا گیا۔ اس وقت انہوں نے مذاکرات کو ’’مثبت‘‘ قرار دیا تھا، تاہم حالیہ ۴۸؍ گھنٹے کے الٹی میٹم سے ظاہر ہوتا ہے کہ سفارتی کوششیں مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر سکیں یا صورتحال مزید بگڑ گئی ہے۔ بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق امریکہ کی پالیسی میں سخت بیانات اور مذاکراتی کوششیں بیک وقت جاری ہیں، جس سے عالمی سطح پر ابہام بھی پیدا ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ہرمز معاملہ: سلامتی کونسل میں آج ووٹنگ، ایران کا انتباہ

دوسری جانب، عالمی سفارتی سرگرمیاں بھی تیز ہو گئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق تقریباً ۴۰؍ ممالک ایک ممکنہ بحری اتحاد پر غور کر رہے ہیں تاکہ آبنائے ہرمز میں محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنایا جا سکے۔ اسی دوران مختلف عالمی طاقتیں پس پردہ سفارتی مذاکرات کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس ایک بڑھتے ہوئے تصادم کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ فوجی محاذ پر بھی صورتحال تشویشناک ہے۔ رپورٹس کے مطابق امریکی فضائیہ کو غیر معمولی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے، جن میں ایک ایف ۱۵؍ ای کا مار گرایا جانا اور ایک تھنڈر بولٹ کا حادثہ شامل ہے۔ یہ واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ تنازع اب براہ راست فوجی تصادم کی سطح تک پہنچ چکا ہے، جہاں کسی بھی وقت بڑے پیمانے پر جنگ چھڑنے کا خطرہ موجود ہے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK