Updated: April 04, 2026, 10:09 PM IST
| Tehran
ایران نے آبنائے ہرمز میں ایک اسرائیل سے منسلک بحری جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ سعودی عرب میں امریکی سفارت خانے پر ڈرون حملے کی تردید کرتے ہوئے اس کا الزام اسرائیل پر عائد کیا ہے۔ اسی دوران رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ایران نے انسانی بنیادوں پر کچھ بحری جہازوں کو ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی ہے۔
سعودی عرب میں قائم امریکی سفارتخانہ۔ تصویر: ایکس
(۱) ایران نے سعودی عرب میں امریکی سفارت خانے پر ڈرون حملے کی تردید کی، کہا یہ اسرائیل کا کام ہے
ایران نے سعودی عرب میں امریکی سفارت خانے پر مبینہ ڈرون حملے میں ملوث ہونے کی تردید کرتے ہوئے الزام اسرائیل پر عائد کیا ہے۔ ایرانی حکام نے اس واقعے کو ’’فالس فلیگ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد خطے میں کشیدگی کو بڑھانا ہے۔ ایرانی سرکاری ذرائع کے مطابق ایک اہلکار نے کہا کہ ’’یہ ایران کا عمل نہیں بلکہ اسرائیل کی کارروائی ہے تاکہ صورتحال کو مزید خراب کیا جائے۔‘‘
رپورٹس میں بتایا گیا کہ سعودی عرب میں امریکی سفارتی تنصیب کے قریب دھماکے کی اطلاعات سامنے آئیں، جس کے بعد مختلف قیاس آرائیاں شروع ہوئیں۔ تاہم ایران نے فوری ردعمل دیتے ہوئے اس واقعے سے لاتعلقی کا اظہار کیا۔ امریکی حکام کی جانب سے اس واقعے پر محدود ردعمل سامنے آیا ہے جبکہ سعودی حکام نے بھی مکمل تفصیلات جاری نہیں کیں۔ ذرائع کے مطابق واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور سیکوریٹی صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ہرمز معاملہ: سلامتی کونسل میں آج ووٹنگ، ایران کا انتباہ
(۲) ایران کا دعویٰ: آبنائے ہرمز میں اسرائیل سے منسلک بحری جہاز کو نشانہ بنایا
ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں ایک اسرائیل سے منسلک بحری جہاز کو نشانہ بنایا ہے۔ رپورٹس کے مطابق یہ کارروائی حالیہ کشیدگی کے دوران کی گئی۔ ایرانی ذرائع نے کہا کہ یہ حملہ ایک مخصوص ہدف کے خلاف کیا گیا اور اس کا مقصد دشمن کے مفادات کو نقصان پہنچانا تھا۔ ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ ’’یہ کارروائی دشمن کے بحری مفادات کو نشانہ بنانے کیلئے کی گئی۔‘‘ جہاز کے نقصان یا عملے کی حالت کے حوالے سے تفصیلات محدود ہیں اور آزاد ذرائع سے اس دعوے کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ بین الاقوامی بحری ذرائع کے مطابق اس واقعے کے بعد آبنائے ہرمز میں سیکوریٹی خدشات میں اضافہ ہوا ہے اور جہاز رانی پر نظر رکھی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران نے موساد کا صدر دفتر اُڑادیا
(۳) ایران نے آبنائے ہرمز سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر گزرنے کی منظوری دی: رپورٹ
رپورٹس کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز سے انسانی بنیادوں پر کچھ جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی ہے تاکہ ضروری اشیاء کی ترسیل جاری رکھی جا سکے۔ ایرانی ذرائع کے مطابق یہ اجازت مخصوص حالات میں دی جا رہی ہے اور اس کیلئے نگرانی کے سخت اقدامات کیے گئے ہیں۔ ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ ’’انسانی امداد کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے محدود گزرگاہ کی اجازت دی گئی ہے۔‘‘
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار ہے اور عالمی سطح پر جہاز رانی متاثر ہو رہی ہے۔ بحری ذرائع کے مطابق کچھ جہاز اس اجازت کے تحت اس راستے سے گزرے ہیں جبکہ دیگر جہازوں کیلئے سیکوریٹی خدشات بدستور موجود ہیں۔