Inquilab Logo Happiest Places to Work

آبنائے ہرمز میں ایرانی نرمی، ساتواں ہندوستانی ایل پی جی ٹینکر بحفاظت گزر گیا

Updated: April 04, 2026, 10:09 PM IST | Mumbai

گرین سانوی نامی ہندوستانی پرچم بردار ایل پی جی ٹینکر کو ایران نے آبنائے ہرمز سے بحفاظت گزرنے دیا، جس کے بعد ایران نے ہندوستان کے ساتھ تاریخی تعلقات کو اجاگر کرتے ہوئے خصوصی بیان جاری کیا۔ ممبئی میں ایرانی سفارت خانے نے گجرات اور ایران کے صدیوں پرانے روابط کا حوالہ دیتے ہوئے دوطرفہ تعلقات مضبوط کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

Photo: X
تصویر: ایکس

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے درمیان ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں ہندوستانی پرچم بردار ایل پی جی ٹینکر گرین سانوی جمعہ کو آبنائے ہرمز سے بحفاظت گزرنے میں کامیاب ہو گیا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایران نے محدود پیمانے پر ’’دوستانہ ممالک‘‘ کے لیے ٹرانزٹ کی اجازت دے رکھی ہے، جبکہ دیگر ممالک کے لیے یہ اہم آبی راستہ بدستور بند ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق یہ ساتواں ہندوستانی ٹینکر ہے جو اس خصوصی راہداری کے ذریعے کامیابی سے گزرا ہے۔ اس جہاز نے تقریباً ۴۶؍ ہزار ۶۵۰؍ میٹرک ٹن ایل پی جی اور ۲۵؍ رکنی عملہ لے کر ایران کے جزائر لارک اور قشم کے درمیان قائم مخصوص ’’گفت و شنید راہداری‘‘ کا استعمال کیا، جو عام بین الاقوامی شپنگ لین کے برعکس صرف منتخب ممالک کے لیے کھولا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کا ایران کو ۴۸؍ گھنٹے کا الٹی میٹم، ہرمز بحران عالمی تصادم کے دہانے پر

اس پیش رفت کے بعد ممبئی میں ایرانی قونصل خانے نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے ہندوستان کے ساتھ تاریخی تعلقات پر زور دیا۔ بیان میں کہا گیا کہ ’’ہندوستان اور خاص طور پر گجرات ہماری مشترکہ تاریخ میں ایک اہم مقام رکھتے ہیں‘‘، جس میں صدیوں قبل فارس سے پارسی برادری کی ہجرت کا حوالہ دیا گیا، جو دونوں خطوں کے درمیان گہرے تہذیبی روابط کی علامت ہے۔ یہ بیان ایک ہندوستانی کاروباری شخصیت ہرش سنگھوی کے سوشل میڈیا پوسٹ کے جواب میں سامنے آیا، جس میں انہوں نے اس کامیاب ٹرانزٹ کو ’’ہندوستانی سفارت کاری کی کامیابی‘‘ قرار دیا تھا۔ ایرانی قونصلیٹ نے اپنے پیغام میں مزید کہا کہ وہ اس تاریخی تعلق کو بنیاد بنا کر مستقبل میں دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانا چاہتے ہیں۔
یاد رہے کہ ایران نے ۲۸؍ فروری کو شروع ہونے والی علاقائی جنگ کے بعد آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو محدود کر دیا تھا۔ یہ کشیدگی امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایرانی اہداف پر حملوں کے بعد بڑھی۔ تاہم مارچ کے آخر میں ایران نے اپنی پالیسی میں نرمی کرتے ہوئے مکمل ناکہ بندی کو تبدیل کر کے ایک محدود ’’منتخب ٹرانزٹ‘‘ نظام متعارف کرایا، جس کے تحت صرف ان ممالک کے جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جا رہی ہے جنہیں ایران غیر دشمن تصور کرتا ہے۔ اس کے برعکس امریکہ اور اسرائیل سے منسلک جہازوں کے لیے یہ راستہ مکمل طور پر بند ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایران نے ۴۸؍ گھنٹوں کی جنگ بندی مسترد کی، سفارتی کوششیں ناکام

اعداد و شمار کے مطابق اب تک سات ہندوستانی جہاز،جن میں ایم ٹی شیوالک، ایم ٹی نندا دیوی، ایم ٹی جگ وسنت اور دیگر شامل ہیں،مجموعی طور پر ۳؍ لاکھ ۲۰؍ ہزار میٹرک ٹن سے زائد ایل پی جی ہندوستان پہنچا چکے ہیں۔ یہ سپلائی ایک ایسے وقت میں انتہائی اہمیت رکھتی ہے جب خطے میں توانائی بحران شدت اختیار کر رہا ہے اور عالمی منڈیوں میں ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری ہے۔ ماہرین کے مطابق اس پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہندوستان اور ایران کے درمیان سفارتی روابط اب بھی مضبوط ہیں، اور یہ تعاون توانائی کی فراہمی کو برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ علاقائی سیاست اور عالمی کشیدگی کے باوجود بعض ممالک کے درمیان عملی تعاون جاری ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK