ملکہ جذبات مینا کماری جب پیدا ہوئیں تو ان کے باپ انہیں یتیم خانہ چھوڑآئے

Updated: March 31, 2021, 3:16 PM IST | Agency | Mumbai

مینا کماری کی ماں اقبال بانو نے ان کا نام ’ماہ جبیں‘ رکھا،بچپن کے دنوں میں مینا کماری کی آنکھیں بہت چھوٹی تھیں اس لئے خاندان والے انہیں’چینی‘ کہہ کر پکارا کرتے تھے

Meena Kumari.Picture:INN
مینا کماری۔تصویر :آئی این این

اپنی سنجیدہ اداکاری سے ناظرین کے دلوں کو چھو لینے والی عظیم اداکارہ مینا کماری حقیقی زندگی میں’ ملکہ جذبات‘ کے نام سے مشہور ہوئیں لیکن  وہ ۶؍ ناموں سے جانی جاتی تھیں۔ممبئی میں یکم اگست۱۹۳۲ء کو ایک درمیانے طبقے کے مسلم خاندان میں مینا کماری جب پیدا ہوئیں تو باپ علی بخش  انہیں یتیم خانے چھوڑ آئے کیونکہ دو بیٹیوں کی پیدائش کے بعد وہ اس بات کی دعا کررہے تھے کہ اللہ اس مرتبہ بیٹے کا منہ دکھادے تبھی انہیں بیٹی ہونے کی خبرآئی اور وہ  بچی کو گھر نہ لے جاکر یتیم خانے چھوڑ آئے لیکن بعد میں ان کی بیوی کے آنسوؤں نے بچی کو یتیم خانے سے گھر لانے کے لئے مجبور کر دیا۔ مینا کماری کی  ماں اقبال بانو نے ان کا نام ’’ماہ جبیں‘‘ رکھا۔بچپن کے دنوں میں مینا کماری کی آنکھیں بہت چھوٹی تھیں اس لئے خاندان والے انہیں ’’چینی‘‘ کہہ کر پکارا کرتے تھے۔ تقریبا ً۴؍ سال کی عمر میں۱۹۳۹ء  میں بطور چائلڈ آرٹسٹ انہوں نے فلموں میں اداکاری کرنی شروع کر دی تھی۔ پرکاش پکچرس کے بینر تحت بنی فلم ’’لیدر فیس‘‘میں ان کا نام بے بی مینا رکھا گیا۔اس کے بعد مینا نے ’’بچوں کا کھیل‘‘ میں بطور اداکارہ کام کیا۔ اس فلم میں انہیں’’ مینا کماری‘‘ کا نام دیا گیا۔ ۱۹۵۲ء میں میناکماری کو وجے بھٹ کی ہدایت میں بیجو باورا میں کام کرنے کا موقع ملا۔ فلم کی کامیابی کے بعد وہ بطور اداکارہ اپنی شناخت بنانے میں کامیاب رہیں۔۱۹۵۲ء میں مینا کماری نے فلم ساز کمال امروہی کے ساتھ شادی کر لی۔۱۹۶۲ء  ان  کے فلمی کریئر کے لئے   کامیاب ثابت ہوا۔آرتی، میں چپ رہوں گی اورصاحب بیوی اور غلام جیسی فلمیں منظر عام پر آئیں  اور اپنی  بہترین اداکاری  کے لئے وہ  فلم فیئر ایوارڈ کے لئے نامزد کی گئیں۔ فلم فیئر کی تاریخ میں یہ  پہلا موقع تھا جب ایک اداکارہ کو فلم فیئر کی تین نامزدگیاں ملی تھیں۔۱۹۶۴ء میں کمال امروہی  کے ساتھ ان کی شادی شدہ زندگی میں تلخی آ گئی اور دونوں  علاحدہ رہنے لگے۔ کمال امروہی کی فلم ’’پاکیزہ‘‘کی تخلیق میں تقریبا ۱۴؍ برس لگ گئے  باوجودیکہ کمال امروہی سے الگ ہونے کے باوجود مینا کماری نے شوٹنگ جاری رکھی تھی کیونکہ ان کا خیال تھا کہ پاکیزہ جیسی فلموں میں کام کرنے کا موقع بار بار نہیں ملتا۔ مینا کماری  کی جوڑی اشوک کمار کے ساتھ کافی پسند کی گئی۔ بہترین اداکاری کے لئے انہیں چار بار بہترین اداکارہ کے فلم فیئر ایوارڈ سے نوازا گیا ۔ ان میںبیجو باورا، پرینیتا، صاحب بیوی اور غلام اورکاجل شامل ہیں۔ کہا جاتا ہےکہ مینا کماری اگر اداکارہ نہیں ہوتیں تو شاعر ہ کے طور پر اپنی شناخت بناتیں۔ہندی فلموں کے نغمہ نگار اور شاعر گلزار سے ایک بار مینا کماری نے کہا تھا، ’’یہ جو اداکاری میں کرتی ہوں اس میں ایک کمی ہے۔یہ فن، یہ آرٹ مجھ میں پیدا نہیں ہوا ہے، خیال دوسرے کا، کردار کسی کا اور ہدایت کسی کی ۔ میرے اندر سے جو پیدا ہوا ہے، وہ میں لکھتی ہوں، جو میں کہنا چاہتی ہوں، وہ لکھتی ہوں۔‘‘ مینا کماری نے اپنی وصیت میں اپنی نظمیں چھپوانے کا ذمہ گلزار کو دیا تھا جسے انہوں نے ’’ناز‘‘ تخلص سے چھپوايا۔ ہمیشہ تنہا رہنے والی مینا کماری نے ایک غزل کے ذریعے اپنی زندگی کا نظریہ پیش کیا  ہے۔
چاند تنہا ہے آسماں تنہا
دل ملا ہے کہاں کہاں تنہا
راہ دیکھا کرے گا صدیوں تک
چھوڑ جائیں گے یہ جہاں تنہا 
 تقریباً تین دہائیوں  تک اپنی سنجیدہ اداکاری سے ناظرین کے دلوں پر راج کرنے والی ہندی سنیما  کی عظیم اداکارہ مینا کماری۳۱؍ مارچ۱۹۷۲ء کو ہمیشہ کے لئے الوداع کہہ گئیں۔ مینا کماری کے کیریئر کی دیگر قابل ذکر فلموں میں آزاد، ایک هي راستہ، یہودی، دل اپنا اور پریت پرائی، كوہ نور، دل ایک مندر، چترلیكھا، پھول اور پتھر، بہو بیگم، شاردا، بندش ، بھيگي رات، جواب اور دشمن شامل ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK