Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکی پائلٹ لاپتہ، ایران بنکرز کی مرمت تیز، جنگی نقصان سامنے

Updated: April 04, 2026, 6:19 PM IST | Tehran

ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی میں فوجی پیش رفت اور انٹیلی جنس رپورٹس سامنے آ رہی ہیں۔ امریکی جنگی طیارے کے واقعے کے بعد پائلٹ کی تلاش جاری ہے، جبکہ ایران نے زیر زمین میزائل بنکروں کی مرمت تیز کر دی ہے۔ دوسری جانب پینٹاگون نے اپنے فوجی آپریشن میں ہونے والے نقصانات کے اعداد و شمار جاری کیے ہیں۔ ان پیش رفتوں کے ساتھ جنگی سرگرمیوں اور دفاعی اقدامات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

(۱۸) لاپتہ امریکی پائلٹ: ایف ۱۵؍ ایگل کے بعد انعام اور تلاش کی دوڑ
امریکی جنگی طیارے ایف ۱۵؍ ایگل کے واقعے کے بعد اس کے پائلٹ کی تلاش جاری ہے، جبکہ ایران نے اس حوالے سے معلومات فراہم کرنے پر انعام کا اعلان کیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق طیارہ حالیہ کشیدگی کے دوران گرایا گیا، تاہم امریکی حکام نے اس کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کیں۔ ایرانی ذرائع کے مطابق پائلٹ کی تلاش کیلئے اقدامات جاری ہیں، جبکہ مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ’’پائلٹ کی تلاش کیلئے مختلف فریق سرگرم ہیں۔‘‘ امریکی حکام نے اس معاملے پر محدود ردعمل دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ایران نے موساد کا صدر دفتر اُڑادیا

(۲) ایران کی دفاعی بحالی: زیر زمین میزائل بنکروں کی تیزی سے مرمت
امریکی انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق ایران نے حالیہ حملوں کے بعد اپنے زیر زمین میزائل بنکروں کی مرمت تیز کر دی ہے۔ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ متاثرہ تنصیبات کو دوبارہ فعال کرنے کیلئے تیزی سے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ایران نے دفاعی ڈھانچے کی بحالی کیلئے وسائل مختص کیے ہیں اور مرمت کا عمل جاری ہے۔ ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ’’ایران نے میزائل تنصیبات کو جلد بحال کرنے کیلئے تیزی سے کام شروع کر دیا ہے۔‘‘ 

یہ بھی پڑھئے: ایرانی تیل بردار جہاز کا رخ ہندوستان سے چین کی طرف مڑ گیا؛ ادائیگی کے خدشات کو وجہ قرار دیا گیا

(۳) پینٹاگون نے جانی نقصان کے ڈیٹا بیس میں آپریشن ایپک فیوری کے نقصانات کی فہرست دی
امریکی محکمہ دفاع نے اپنے آپریشن ’’ایپک فیوری‘‘ کے دوران ہونے والے نقصانات کے اعداد و شمار جاری کیے ہیں۔ پینٹاگون کے مطابق اس آپریشن میں ۱۳؍ افراد ہلاک اور ۳۶۵؍ زخمی ہوئے۔ رپورٹس کے مطابق یہ اعداد و شمار ایک سرکاری ڈیٹا بیس میں شامل کیے گئے ہیں، جس میں فوجی کارروائیوں کے نقصانات کو ریکارڈ کیا جاتا ہے۔ ایک اہلکار نے کہا کہ’’یہ اعداد و شمار جاری پالیسی کے تحت فراہم کیے گئے ہیں۔‘‘ امریکی حکام نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں، تاہم ان اعداد و شمار کو جنگی صورتحال کی عکاسی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK