Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران جنگ کا اثر، پورے ملک کے اسکولوں میں مڈڈے میل مہم بحران کا شکار

Updated: April 04, 2026, 5:05 PM IST | New York

ایران جنگ کے سبب ہندوستان میں اسکولوں میں مڈڈے میل کی مہم بحران کا شکار ہے، ساتھ ہی عالمی خوراک کی قیمتوں میں اضافہ کا بھی خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے، حکومتی اعداد و شمار کے مطابق، ملک میں تقریباً ۱۲؍کروڑ بچے اپنی غذائیت کے لیے اسکول میں ملنے والےمڈ ڈے میل پر انحصار کرتے ہیں۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این

پورے ہندوستان کے سرکاری اسکو ل مڈڈے میل کو جاری رکھنے کے لیے ایل پی جی کے متبادل ذرائع تلاش کرنے میں جدوجہد کر رہے ہیں، جبکہ اقوام متحدہ کے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (FAO) نے جمعہ کو کہا کہ مارچ میں عالمی غذائی قیمتیں گزشتہ سال ستمبر کے بعد اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں، اور اگر مشرق وسطیٰ کا تنازع (جس نے توانائی کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے) جاری رہا تو مزید بڑھ سکتی ہیں۔دریں اثناء دنیا کی سب سے بڑی اسکول فوڈ اسکیم (مڈ ڈے میل) نچلی سطح پر بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔دیہی اسکولوں کی بات کریں تو ضلع اودھ کے پورا بلاک کا گاؤں متراسین پور، جہاں بچوں کی حاضری مسلسل گر رہی ہے ۔ مقامی پرائمری اسکول میں، جہاں۶۰؍ بچوں کے لیے دوپہر کا کھانا غذائیت کا واحد ذریعہ تھابری طرح متاثر ہے۔ کچن میں ایل پی جی سلنڈر نہ ہونے کی وجہ سے خبر لہریا کے مطابق، ایک ہفتے سے دوپہر کا کھانا نہیں پکایا گیا، بچوں کو بھنے ہوئے چنے یا بسکٹ دیے جا رہے ہیں۔ کبھی کبھی انہیں واپس گھر بھیج دیا جاتا ہے۔یہ مسئلہ صرف اتر پردیش تک محدود نہیں۔ اطلاع ہے کہ بنگال، چھتیس گڑھ، آندھرا پردیش اور ادیشہ کے کئی دیہی اسکولوں میں لکڑی کا سہارا لیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: پاکستان: عوامی احتجاج کے بعد پیٹرول کی قیمتوں میں ۸۰؍ روپے کی کمی، جزوی راحت

بنگال کے جنوبی۲۴؍ پرگنہ ضلع کے کرشنا چندر پور ہائی اسکول کے   ہیڈ ماسٹر چندن مائتی نے پی ٹی آئی کو بتایا کہ۱۱؍ مارچ کو تقریباً۱۵۰۰؍ طلبہ کے لیے دوپہر کا کھانا روایتی مٹی کے چولھے پر لکڑی جلا کر پکایا گیا جب کہ اسکول کو گیس کی فراہمی نہیں مل سکی۔تاہم، چیلنج صرف گیس کی قلت تک محدود نہیں، بلکہ خوراک کے اناج، دالوں اور دیگر ضروری اشیاء کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے اسکولوں کے غذائی بجٹ کو بھی متاثر کیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ہرمز معاملہ: سلامتی کونسل میں آج ووٹنگ، ایران کا انتباہ

اس مسئلے سے صرف ہندوستان ہی دوچار نہیں۔ اقوام متحدہ کی فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشنکے چیف اکانومسٹ میکسیمو ٹوریرو نے بھی خبر دار کیا ہے کہ اگر یہ تنازع۴۰؍ دن سے زیادہ جاری رہتا ہےتو  اس سال اورآئندہ سال کی خوراک کی فراہمی اور اشیائے خوردنی کی قیمتوں پر اس کا اثر پڑے گا۔اس کے علاوہ اس تنظیم نے اشیائے خوردنی کی پیداواری لاگت، اس کی مانگ، اور کھپت کا جائزہ لے کر اندازہ پیش کیا ہے، جس کے مطابق گیہوں کی قیمت میں مسلسل تیسرے سال اضافہ ہوا ہے، اس کے علاوہ تیل کی قیمت میں آئندہ اضافہ کی پیش گوئی کی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK