• Tue, 08 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’گنپتی کے موقع پرریاست میں فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کی جاسکتی ہے‘‘

Updated: September 07, 2026, 11:47 AM IST | Iqbal Ansari/Agency | Thane

 راج ٹھاکرے نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ہندوؤں اور مسلمانوں کو ہوشیار رہنے کا مشورہ دیا۔پونے کے کالج سے وزیراعظم مودی کی تصویر ہٹانے پربھی خاموشی توڑی ، کہا : شیواجی مہاراج،بابا صاحب امبیڈکر اورمہاتماجیوتی با پھلے کے ساتھ وزیراعظم مودی کی تصویر نہیں لگائی جا سکتی۔

Raj Thackeray addressing the gathering. Picture: PTI
راج ٹھاکرے خطاب کرتے ہوئے۔ تصویر: پی ٹی آئی

مہاراشٹر نونرمان سینا( ایم این ایس)کے سربراہ راج ٹھاکرے نے اتوار کو تھانےکے گڈکری رنگائتن ہا ل میں پارٹی عہدیداروں کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے  اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ آنے والے گنپتی(گنیش اتسو)میں فرقہ وارانہ کشیدگی  اور فساد برپا کیاجاسکتا ہے ۔یہ اس لئے کیاجاسکتا ہے تاکہ عوام کی توجہ ریاست اور ملک کے اہم مسائل سے ہٹائی جاسکے۔ راج ٹھاکرے نے ہندو اور مسلم برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ مکمل طور پر چوکس اور ہوشیار رہیںاور سمجھداری  سے حالات کو سنبھالیں۔ اس موقع پر انہوں نے پونے کے کالج سے وزیراعظم مودی کی تصویر ہٹانے کے معاملے پر بھی خاموشی توڑی اور اسے درست قرار دیا۔

یہ بھی پڑھئے: مساوی رقبے والا عالمی نقشہ قبول لیکن جموں کشمیر اور لداخ پر کوئی سمجھوتہ نہیں

راج ٹھاکرے نے خدشہ ظاہر کیا کہ گنیش اتسو کی آمد (۱۴؍ستمبر) کے دوران ممبئی اور ریاست کے دیگر حصوں میں قصداً مذہبی کشیدگی اور فساد بھڑکانے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ممبئی میں حالیہ کچھ چھوٹے واقعات اس کی ایک شروعات یا ’جھلک‘ہو سکتے ہیں۔ ایم این ایس سربراہ نے الزام لگایا کہ آج ملک میں بے روزگاری عروج سے پہنچ چکی ہے، ملک کی معیشت گرتی جارہی ہے   اسی لئے جہاں جی ڈی پی میں بہتری آنے کے دعوے کے باوجود سونا نہ خریدنے اور بیرون ممالک کا دورہ نہ کرنے کی اپیل کی جارہی ہے۔اسکولوں و کالجوں کے باہر منشیات کا جال پھیل رہا ہے۔ مین اسٹریم میڈیا ان مسائل کو نہیں دکھا رہا ہے   اسی لئے لوگ سوشل میڈیا زیادہ دیکھ رہے ہیں۔ پیپر لیٖک معاملے میں جین زی سڑکوں پر آئے تھے لیکن اب عوام سڑکوں پر اترے گی۔ان اہم مسائل پر عوام کی توجہ ہٹانے کیلئے دونوں برادریوں کے نوجوانوں کو آپس میں لڑا کر کا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔

راج ٹھاکرے نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ مذہبی اور سیاسی تنازعات میں الجھا کر ممبئی اور پونے کی قیمتی اراضی (خصوصاً اڈانی گروپ کو دیئے جانے والے منصوبے) اور محکمہ جنگلات کی زمینیں نجی ہاتھوں میں دی جا رہی ہیں جبکہ عوام ان معاملات سے بے خبر ہیں۔ انہوںنے یہ بھی کہا کہ ’’سمجھدار ہندو اور سمجھدار مسلمان دونوں کو بیدار رہنا ہوگا تاکہ کوئی ان کے نام پر تفریق پیدا کر کے فساد نہ کروا سکے اور معصوم بچوں کی جانیں نہ جائیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: بھیونڈی: سڑک اور پیور بلاکس کے درمیان گہری دراڑ سے خطرہ

پارٹی عہدیداروں سے خطاب کے دوران راج ٹھاکرے نے اپنے مخصوص انداز میں کہا کہ چھترپتی شیواجی مہاراج، ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر اور مہاتما جیوتی با پھلے کے ساتھ کسی اور کو ایک قطار میں نہیں رکھا جا سکتا۔  اس تقریب میں راج  ٹھاکرے نے وزیراعظم نریندرمودی  اور وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔واضح رہے کہ۳۱؍ اگست کو ایم این ایس لیڈر امیت ٹھاکرے کی موجودگی میں پونے کے ایک کالج سے وزیراعظم مودی کی تصویر ہٹا دی گئی تھی۔ اس واقعے کے بعد پونے کالج انتظامیہ کی شکایت پر امیت ٹھاکرے اور۲۰؍ دیگرافراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔کالج نے تصویر کو دوبارہ لگادیا ہے۔

اس واقعے کے ۶؍ دن بعد راج ٹھاکرے کا بیان سامنے آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی تصویر سرکاری دفاتر میں لگائی جانی چاہئے لیکن کسی دوسری  دیوار پر۔ چھترپتی شیواجی مہاراج، ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر اور مہاتما جیوتی با پھلے کی طرح ایک ہی قطار میں نہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK