سابق فلم نقاد اور موجودہ ٹیلنٹ مینجمنٹ ایگزیکٹیوراجیو مسند نے اداکارہ اور سیاست دان کنگنا رناوت کے فلمی سفر اور ان کی موجودہ عوامی شناخت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں کنگنا کی بطور اداکارہ کمی محسوس ہوتی ہے۔
EPAPER
Updated: September 29, 2026, 10:14 PM IST | New Delhi
سابق فلم نقاد اور موجودہ ٹیلنٹ مینجمنٹ ایگزیکٹیوراجیو مسند نے اداکارہ اور سیاست دان کنگنا رناوت کے فلمی سفر اور ان کی موجودہ عوامی شناخت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں کنگنا کی بطور اداکارہ کمی محسوس ہوتی ہے۔
سابق فلم نقاد اور موجودہ ٹیلنٹ مینجمنٹ ایگزیکٹیوراجیو مسند نے اداکارہ اور سیاست دان کنگنا رناوت کے فلمی سفر اور ان کی موجودہ عوامی شناخت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں کنگنا کی بطور اداکارہ کمی محسوس ہوتی ہے۔ مسند کے مطابق سیاست میں آنے کے بعد کنگنا کی شخصیت کا سیاسی پہلو ان کی اداکاری پر اس قدر غالب آ گیا ہے کہ ان کی ایک اداکارہ کے طور پر شناخت پس منظر میں چلی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ہندنژاد بودھنا نے تاریخ رقم کر دی، ۱۱؍ سال کی عمر میں خاتون گرینڈ ماسٹربنیں
راجیو مسند نے کنگنا کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے سخت الفاظ استعمال کیے اور کہا کہ ’’کنگنا رناوت اب ایک مذاق بن گئی ہیں ۔‘‘ تاہم، ان کے بیان کا ایک اہم حصہ یہ بھی تھا کہ وہ کنگنا کی اداکاری کی صلاحیت کو اب بھی تسلیم کرتے ہیں اور انہیں اس وقت کی کنگنا کی یاد آتی ہے جب وہ اپنی فلموں اور اداکاری کے لیے جانی جاتی تھیں۔ کنگنا رناوت نے گزشتہ برسوں میں بالی ووڈ میں اپنی الگ شناخت قائم کی اور ’’کوئین‘‘،’ ’تنو ویڈز منو‘‘، ’’تنو ویڈز منو ریٹرنز‘‘، ’’فیشن‘‘ اور’ ’منی کارنیکا‘‘ جیسی فلموں میں اپنی اداکاری کے ذریعے نمایاں مقام حاصل کیا۔ بعد میں انہوں نے سیاست میں قدم رکھا اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے ٹکٹ پر ہماچل پردیش کے منڈی حلقے سے لوک سبھا کی رکن منتخب ہوئیں۔
یہ بھی پڑھئے:راج کمار راؤ کی قومی ایوارڈ یافتہ فلم ’شاہد‘ ۱۳ سال بعد او ٹی ٹی پرریلیز ہوگی
مسند کے مطابق سیاست میں سرگرمی کے بعد کنگنا کی عوامی شخصیت اور سیاسی بیانات ان کے فلمی کام سے زیادہ نمایاں ہونے لگے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس تبدیلی کے باعث ایک اداکارہ کے طور پر کنگنا کی سابقہ شناخت کم دکھائی دیتی ہے۔ راجیو مسند نے کنگنا کی اداکاری کی صلاحیت کو نظرانداز نہیں کیا بلکہ اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ان کی تخلیقی اور فنکارانہ شناخت کے مقابلے میں ان کی سیاسی شخصیت زیادہ نمایاں ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس کنگنا کو یاد کرتے ہیں جو اپنی اداکاری اور فلمی انتخاب کی وجہ سے گفتگو کا موضوع بنتی تھیں۔ مسند اور کنگنا کے درمیان ماضی میں اختلافات بھی رہے ہیں، تاہم موجودہ تبصرے میں انہوں نے خاص طور پر کنگنا کی اداکارہ کے طور پر صلاحیت اور ان کے فلمی کام کو موضوع بنایا۔ کنگنا رناوت کو بالی ووڈ کی ان اداکاراؤں میں شمار کیا جاتا ہے جنہوں نے کئی فلموں میں مرکزی کردار ادا کرتے ہوئے اپنی جگہ بنائی۔ ’’کوئین‘‘ میں ان کی کارکردگی کو خاص طور پر سراہا گیا، جبکہ ’’تنو ویڈز منو ریٹرنز‘‘ میں ان کے دُہرے کردار نے بھی انہیں توجہ دلائی۔ ان کے فلمی کریئر میں کامیاب فلموں کے ساتھ ایسی فلمیں بھی شامل رہی ہیں جنہیں ناظرین اور ناقدین کی جانب سے مختلف ردعمل ملا۔
راجیو مسند کے حالیہ تبصرے نے ایک بار پھر یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ کنگنا رناوت کی موجودہ سیاسی سرگرمیاں ان کے فلمی کریئر اور ایک اداکارہ کے طور پر ان کی عوامی شناخت کو کس طرح متاثر کر رہی ہیں۔ تاہم، یہ مسند کی رائے ہے اور کنگنا کے فلمی مستقبل کے بارے میں اس بیان سے کوئی حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔