رندیپ ہڈا کی زندگی میں ایک ایسا بھی دور آیا ہےجب انہیں کام نہیں کام نہیں مل رہا تھا۔ ایسے میں رام گوپال ورما نے انہیں اپنی فلم میں کام دینے کاوعدہ کیااور دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ تقریباً ۳؍برس تک گھر بیٹھے اس فلم کا انتظار کرتے رہے۔
EPAPER
Updated: August 23, 2026, 12:00 PM IST | Mumbai
رندیپ ہڈا کی زندگی میں ایک ایسا بھی دور آیا ہےجب انہیں کام نہیں کام نہیں مل رہا تھا۔ ایسے میں رام گوپال ورما نے انہیں اپنی فلم میں کام دینے کاوعدہ کیااور دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ تقریباً ۳؍برس تک گھر بیٹھے اس فلم کا انتظار کرتے رہے۔
رندیپ ہڈا نے اپنے کریئر میں کئی طرح کے کردار ادا کئے ہیں، لیکن وہ ایک ایسے اداکار رہے ہیں جنہیں مسلسل کام ملنا مشکل رہا ہے۔ ان کی زندگی میں ایک ایسا بھی دور آیا ہےجب انہیں کام نہیں کام نہیں مل رہا تھا۔ ایسے میں رام گوپال ورما نے انہیں اپنی فلم میں کام دینے کاوعدہ کیااور دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ تقریباً ۳؍برس تک گھر بیٹھے اس فلم کا انتظار کرتے رہے۔ اس دوران رام گوپال ورما انہیں ہر ماہ ۳۵؍ہزار روپے دیا کرتے تھے۔ دراصل۲۰۰۱ءمیں انہیں میرا نائر کی فلم ’مانسون ویڈنگ‘ میں کام کرنے کا موقع ملا تھا۔ یہ ان کے لیے ایک بڑا موقع تھا، لیکن فلم کی کامیابی کے باوجود ان کا کریئر فوراً رفتار نہیں پکڑ سکا۔ رندیپ نے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ ایک وقت انہیں خود محسوس ہونے لگا تھا کہ شاید انہیں ابھی اداکاری ٹھیک سے آتی ہی نہیں۔ اس کے بعد انہوں نے تھیٹر کا رخ کیا اور نصیرالدین شاہ کے ساتھ کام کرتے ہوئے اداکاری کو قریب سے سمجھا۔ تھیٹر نے ان کے اندر چھپے اداکار کو مزید نکھارنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اسی دوران ان کی زندگی میں رام گوپال ورما کا ایک ایسا وعدہ آیا جس نے رندیپ کو تقریباً ۳؍سال تک ایک فلم کے انتظار میں باندھے رکھا۔ رندیپ کے مطابق رام گوپال ورمانےانہیں اپنی فلم کے ذریعے لانچ کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ فلمساز نے ان سے پوچھا کہ انہیں ہر ماہ کتنے پیسوں کی ضرورت ہوگی۔ رندیپ نے جواب دیا کہ انہیں ۳۵؍ہزار روپے ماہانہ درکار ہیں۔ اس کے بعد رام گوپال ورما تقریباً ۳؍سال تک ہر ماہ رندیپ ہڈا کو ۳۵؍ہزار روپے دیتے رہے۔ رندیپ اس دوران گھر پر بیٹھے رہے اور اس فلم کا انتظار کرتے رہے جس کے ذریعے انہیں لانچ کیا جانا تھا۔ یعنی باقاعدہ فلمی کام نہ ہونے کے باوجود انہیں ہر ماہ۳۵؍ہزار روپے مل رہے تھے۔ تاہم وقت گزرتا گیا اور وہ منصوبہ اس انداز میں آگے نہیں بڑھ سکا جیسا رندیپ نے سوچا تھا۔ یوں تقریباً ۳؍برس انتظار کرنے کے بعد انہیں اپنے فلمی سفر کو آگے بڑھانے کے لیے دوسرے مواقع تلاش کرنے پڑے۔