Inquilab Logo Happiest Places to Work

غزہ: بازیابی کے بعد لاشیں دفنانے کی جگہ کم پڑ گئی

Updated: August 23, 2026, 12:12 PM IST | Gaza

جنگ کے دوران کئی شہیدوں کو عارضی طور پر دفن کردیا گیا تھا، اب انہیں قبرستان منتقل کرنے پر قبر کی جگہ ملنا بھی مشکل ہوگیا ہے۔

A view of a destroyed cemetery in Gaza. Photo: INN
غزہ کے ایک تباہ حال قبرستان کامنظر دیکھا جاسکتاہے۔ تصویر: آئی این این

غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں نے فلسطینیوں کی زندگی کے ساتھ ساتھ ان کی موت کو بھی ایک کربناک آزمائش بنا دیاہے۔ جنگ کے نتیجے میں نہ صرف ہزاروں فلسطینی اپنے گھروں اور خاندانوں سے محروم ہوئےبلکہ اب مرنے والوں کے لیے قبریں بھی کم پڑ گئی ہیں۔ تباہ شدہ قبرستان، تدفین کے لیے جگہ کی کمی، اشیائے ضروریہ کی قلت اور مسلسل نقل مکانی نے غزہ میں تدفین کے عمل کو بھی انتہائی دشوار بنا دیا ہے۔ 
۲۰؍سالہ عمر السوحی کو بھی حال ہی میں اپنے والدمحمد، ۴۰؍ کی تدفین کے لیے اسی مشکل کا سامنا کرناپڑا۔ محمد کا تعلق غزہ سٹی کے زیتون محلے سے تھا اور وہ سڑک کنارے چائے اور کافی کی ایک چھوٹی سی دکان چلاتے تھے۔ ۱۰؍جون کو اسرائیل کی جانب سےمتعین کردہ ’یلو لائن‘ کے قریب کام کے دوران ایک گولی ان کی گردن میں لگی اور وہ تقریباً فوری طور پر جاں بحق ہوگئے۔ عمر اپنے والد کی تدفین کیلئے زیتون قبرستان پہنچے تو وہاں قبریں ایک دوسرے سے اس قدر قریب تھیں کہ نئی قبر کے لیے جگہ تلاش کرنا تقریباً ناممکن تھا۔ قبرستان میں جنگ کےدوران جاں بحق ہونےوالے سیکڑوں فلسطینی دفن تھے۔ بہت سی قبروں پر باقاعدہ کتبہ بھی موجود نہیں تھا بلکہ صرف ایک پتھر اور اس کے ساتھ کاغذ کا ٹکڑا لگا ہوا تھا، جس پر متوفی کا نام درج تھا۔ 
عمر نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’میں قبرستان کے درمیان کھڑا تھا اور ہر طرف بے شمار قبریں نظر آ رہی تھیں۔ ریت کے پہاڑ تھے اور ان کے نیچے لوگ دفن تھے۔ ‘‘ ان کے مطابق کئی قبروں کی حالت ایسی تھی کہ صرف ایک پتھر اور کاغذپر شہید کا نام لکھا ہوا تھا، جبکہ جنگ سے پہلے کی طرح قبر کو باقاعدہ تیار کرنا اور اس پر کتبہ لگانا ممکن نہیں رہا۔ غزہ میں اس وقت ایک قبر کی قیمت تقریباً ۵۰۰؍شیکل، یعنی ۱۶۷؍امریکی ڈالر کے برابر ہے، جو عمر کے خاندان کے لیے بہت زیادہ رقم تھی۔ دوسری جانب قبرستان میں نئی قبر کے لیے جگہ بھی دستیاب نہیں تھی۔ چنانچہ خاندان کو مجبوراً محمد کو ان کے دادا کی قبر میں ہی دفن کرنا پڑا۔

یہ بھی پڑھئے: ہیری ہمیشہ والد کے قریب واپس آنا چاہتے تھے؛ ولیم ناراض ہونگے: سابق شاہی بٹلر

جنگ نے تدفین کے روایتی نظام کو بھی تباہ کردیا
غزہ میں سرکاری خدمات کے مکمل طور پر متاثرہونےاور اسرائیلی حملوں کے مسلسل خطرے کےباعث جنگ کے دوران ہزاروں جاں بحق فلسطینیوں کو’لاپتہ‘ افراد میں شمار کیا گیا۔ بہت سے لوگوں کو باغات، خیموں، بے گھر افراد کے کیمپوں، اسکولوں اور اسپتالوں کے احاطوں میں عارضی طور پر دفن کیا گیا۔ 
اکتوبر۲۰۲۵ءمیں امریکہ کی ثالثی سے جنگ بندی کے بعد اسرائیلی حملوں میں وقتی کمی آئی توخاندانوں نے تباہ شدہ گھروں کے ملبے اور عارضی تدفین کی جگہوں سے اپنے پیاروں کی لاشیں نکال کر انہیں قبرستانوں میں منتقل کرنا شروع کیا۔ تاہم جنگ بندی کے اعلان کے بعد بھی کم از کم ایک ہزار ۲۰۰؍فلسطینی جاں بحق ہوچکے ہیں اوران میں سے ہر ایک کے لیے تدفین کی جگہ درکارہے۔ غزہ کے حکام کے مطابق اسپتالوں کےاحاطوں میں موجود۷؍اجتماعی قبروں سے ۵۲۹؍فلسطینیوں کی باقیات بھی برآمد کی جاچکی ہیں۔ اسرائیلی حملوں میں وقتی کمی کے دوران عمر کے خاندان نے بھی محمد کی باقیات کو عارضی تدفین کی جگہ سے نکالا اور انہیں قبرستان منتقل کردیا تاکہ ان کی آخری رسومات باقاعدہ طور پر ادا کی جاسکیں۔ غزہ میں قبروں کی قلت کی واحد وجہ جنگ کے دوران ۷۳؍ ہزارسے زیادہ فلسطینیوں کی ہلاکت نہیں ہے، بلکہ اسرائیلی کارروائیوں میں قبرستانوں کی تباہی نے بھی صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ غزہ کی وزارت اوقاف و مذہبی امورکے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعدسے ۴۰؍سے زیادہ قبرستان تباہ کیے جاچکے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کا مقبوضہ بیت المقدس میں’ ای ون‘ آبادکاری منصوبے پر کام شروع

اسرائیلی فوج نے اپنے زیر کنٹرول علاقوں میں قبرستانوں تک رسائی بھی سخت محدود کر رکھی ہے، جس کے باعث خاندانوں کے لیے تدفین کی دستیاب جگہ مزید کم ہوگئی ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی بمباری اور جبری بے دخلی کے احکامات کے باعث لاکھوں فلسطینی اپنے گھروں سے بے دخل ہوچکے ہیں۔ ایسے میں وہ مقامات جو پہلے قبرستانوں کے لیے مختص تھے، اب بے گھر افراد کے لیے پناہ گاہوں میں تبدیل کردیئے گئے ہیں۔ 
قبر کھودنے والےکا ذاتی مشاہدہ
۵۰؍سالہ تفیش ابو حطاب گزشتہ ۱۹؍برس سے قبر کھودنے کا کام کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ غزہ کی جنگ ان کے پیشہ ورانہ کیریئر کا سب سے مشکل دور ہے۔ وہ خان یونس کے قبرستان میں کام کرتےہیں۔ جنگ شروع ہونے سے پہلے اس قبرستان میں تقریباً ۶۰؍قبریں تھیں، لیکن اب یہاں قبروں کی تعداد۶؍ ہزارتک پہنچ چکی ہے۔ جنگ کے ایک مرحلے پر تفیش کو روزانہ تقریباً ۳۵؍ قبریں تیار کرنا پڑتی تھیں۔ انہوں نے الجزیرہ سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’ہم نے خونریزی کا ایسا تباہ کن دور کبھی نہیں دیکھا۔ ایک بھی دن ایسا نہیں گزرتا جب درجنوں شہدا کو دفن نہ کیا جائے۔ ‘‘تفیش کے ہاتھوں سے گزرنے والے بہت سے لاشے خواتین اور بچوں کے ہوتے ہیں، جن میں شیر خوار بچے بھی شامل ہیں۔ بعض اوقات پورے کے پورے خاندان ایک ہی وقت میں قبرستان پہنچتے ہیں، جب اسرائیلی بمباری کسی عمارت، گاڑی یا خیمے کو مکمل طور پر تباہ کردیتی ہے۔ وہ کہتے ہیں، ’’وہ ہمارے سروں پر ہمارے گھر تباہ کردیتے ہیں اور انہی گھروں کے ملبے سے ہم اپنی قبریں بناتے ہیں۔ ‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK