شہر کے خردہ بازار میں شکر کی قیمت میں گزشتہ ۱۵؍ سے ۲۰؍ دنوں میں تقریباً ۲۵؍روپے فی کلو کا اضافہ، گھروں میں خواتین شکر کا کم استعمال کرنےپر مجبور۔
EPAPER
Updated: August 23, 2026, 12:32 PM IST | Saadat Khan | Mumbai
شہر کے خردہ بازار میں شکر کی قیمت میں گزشتہ ۱۵؍ سے ۲۰؍ دنوں میں تقریباً ۲۵؍روپے فی کلو کا اضافہ، گھروں میں خواتین شکر کا کم استعمال کرنےپر مجبور۔
شکر کی کم پیدوار، تہواروں کے موسم میں شکر کی زیادہ مانگ، موسم کی بےترتیبی سے گنے کی فصل کے متاثر ہونے، عالمی منڈی میں سپلائی کی کمی اور شکر کی ذخیرہ اندوزی کی وجہ سے اس کی قیمت میں متواتر اضافہ ہو رہا ہے، اس کیلئے صرف اتھنال کو ذمہ دار ٹھہرانا مناسب نہیں۔ شکر کی بڑھتی قیمت سے عام صارف پریشان ہے۔ خردہ بازار میں شکر کی قیمت میں گزشتہ ۱۵؍ سے ۲۰؍ دنوں میں تقریباً ۲۵؍ روپے فی کلو کا اضافہ ہوا ہے۔ تھوک اور خردہ بازار میں شکر بالترتیب ۷۰؍اور ۷۵؍ روپے فی کلوکے حساب سے دستیاب ہے۔ شکر کے ساتھ گُڑ کی قیمت بھی بڑھی ہے۔ مٹھائی، چائے، کافی اور دیگر میٹھی اشیاء کی قیمتیں بھی جلد بڑھ سکتی ہیں ۔ شکر کی بڑھتی قیمت سے عام گھروں کابجٹ بگڑ گیا ہے۔ لوگ شکر کا کم استعمال کرنے پر مجبور ہیں ۔ شکر کی قیمت کے مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
مدنپورہ کی عائشہ انصاری نے بتایا کہ ’’ میں ہر مہینے ایک ساتھ اپنی ضرورت کے مطابق شکر منگوالیتی ہوں ، گزشتہ مہینے ۴۵؍روپے فی کلو کے حساب سے جو شکر منگوائی تھی وہ ۷۵؍ روپے فی کلو ہوگئی ہے جس کی وجہ سے معمول سے کم شکر منگوائی ہے، ساتھ ہی شکر کا کم استعمال کرنےپر مجبور ہوگئی ہوں ۔ عنقریب عیدمیلادالنبیؐ پر بھی گھروں میں شکر کی مانگ زیادہ ہوگی۔ شکر کی قیمت کے اچانک ۲۰؍ سے ۲۵؍ روپے فی کلو بڑھ جانے سے گھر کابجٹ بگڑگیاہے۔ ‘‘
مورلینڈروڈ، نیانگر میں واقع کرانہ شاپ کے مالک مگن لال نے بتایا کہ’’ ۱۵؍ سے۲۰؍ دنوں میں شکر کا دام اس قدر بڑھ گیا ہے کہ ہمارے لئے گاہکوں کو جواب دینا مشکل ہو گیا ہے۔ شکر کی قیمت میں روزانہ ۲؍ سے ۴؍روپے کا اضافہ کرنا پڑ رہا ہے جس سے گاہکوں میں برہمی پائی جا رہی ہے۔ دام بڑھنے سے لوگوں نے شکر خریدنا کم کر دیا ہے۔ سمجھ میں نہیں آ رہاہے کہ حکومت کیا چاہتی ہے؟ کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتیں اگر اسی طرح بڑھتی رہیں تو عام انسان کیلئے جینا دوبھر ہو جائے گا۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: اخلاقِ حسنہ کو اپنانے، خرافات اور برائیوں سے دور رہنے کی تلقین
واشی اے پی ایم سی ہول سیل مارکیٹ کے ڈائریکٹر نیلیش وورا سے استفسار کرنے پر انہوں نے کہا کہ ’’ ہول سیل مارکیٹ میں شکر کی قیمت ۷۰؍روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہےجبکہ ریٹیل مارکیٹ میں ۷۵؍ سے۸۰؍روپے فی کلو فروخت ہو رہی ہے۔ ہول سیل میں یکمشت ۲۰؍روپے فی کلو کااضافہ ہونے سے شکر کی قیمت اچانک بہت بڑھ گئی ہے۔ آنے والے دنوں میں قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان ہے۔ ‘‘
تاریخ میں اب تک کاسب سے بڑا اضافہ
واضح رہے کہ ممبئی اور اس کے مضافات میں روزانہ ۱۵۰؍ کارٹس شکر کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک کارٹ میں ۱۰؍ ٹن شکر ہوتی ہے۔ جمعرات کو شکر کی تھوک قیمت میں ۶؍ہزار ۷۰۰؍ روپے سے ۶؍ہزار ۸۰۰؍روپے فی کوئنٹل کااضافہ ہواتھا جو تاریخ میں اب تک کا سب سے بڑا اضافہ ہے۔
مٹھائی اور چائےوغیرہ مہنگی ہو جائے گی
فی الحال تہواروں کے موسم کے پس منظر میں مٹھائیاں تیار کرنے کا کام جاری ہے لیکن شکر کی قیمتوں میں اضافے کے سبب اب مٹھائیوں کی قیمتوں کا توازن بگڑ گیا ہے۔ مٹھائیوں کے مہنگے ہونے کے اشارے مل رہے ہیں۔ مٹھائی فروشوں کے مطابق پیداواری لاگت بڑھنے سے مٹھائی کی قیمتوں میں اضافے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ اس کے ساتھ مارکیٹ میں چائے اور کافی پینے والوں کو بھی شکر کی قیمتوں میں اضافے کا خمیازہ بھگتنے کا خدشہ ہے۔
گڑ بھی مہنگا ہو گیا
شکرکے ساتھ گُڑ کی قیمت بھی بڑھ گئی ہے۔ اے پی ایم سی واشی میں ۴۰؍روپے فی کلوسے فروخت ہونے والا گُڑ اب ۶۵؍روپے فی کلو ہوگیا ہے۔ گزشتہ ۲۰؍ دنوں میں گُڑ کی قیمت میں ۲۵؍روپے فی کلو کااضافہ ہوا ہے۔