Updated: May 23, 2026, 10:04 PM IST
| Mumbai
رندیپ ہڈا نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے تاریخی فلم ’’چھاوا‘‘ میں اورنگزیب کا کردار ذاتی اور ذہنی دباؤ کے باعث نیز فلم میں ہندو مسلم زاویے کے سبب مسترد کر دیا تھا۔ اداکار کے مطابق وہ اس وقت ’’ویر ساورکر‘‘ کے بعد شدید جسمانی اور جذباتی تھکن، قانونی تنازع اور حساس مذہبی بحثوں سے گزر رہے تھے۔
رندیپ ہڈا۔ تصویر: آئی این این
رندیپ ہڈا نے حال ہی میں انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے تاریخی فلم ’’چھاوا‘‘ میں مغل بادشاہ اورنگزیب کا کردار ادا کرنے کی پیشکش مسترد کر دی تھی، حالانکہ بعد میں یہی کردار فلم کے سب سے زیادہ زیر بحث عناصر میں شامل ہوا۔ اداکار نے ایک حالیہ انٹرویو میں بتایا کہ اس وقت وہ ذاتی، ذہنی اور جسمانی طور پر ایک نہایت مشکل مرحلے سے گزر رہے تھے، جس کی وجہ سے وہ اس نوعیت کے ایک اور شدید تاریخی کردار کے لیے خود کو تیار نہیں کر پا رہے تھے۔ رندیپ ہڈا کے مطابق، فلم کے ہدایت کار لکشمن اتیکر نے ان سے اس وقت رابطہ کیا جب وہ ’’ویر ساورکر‘‘ کی شوٹنگ مکمل کر چکے تھے اور فلم پوسٹ پروڈکشن مرحلے میں داخل ہو چکی تھی۔ اداکار نے کہا کہ ساورکر کے کردار کے لیے انہوں نے غیر معمولی جسمانی تبدیلی اختیار کی تھی، جس کے باعث وہ شدید کمزوری اور ذہنی تھکن محسوس کر رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ اس دوران وہ ایک قانونی تنازع سے بھی گزر رہے تھے، جس نے ان کی ذہنی حالت کو مزید متاثر کیا۔
یہ بھی پڑھئے : رچا چڈھا اور علی فضل ۲؍ جون کو نیوزی لینڈ کے پہلے انڈین فلم فیسٹیول کا آغاز کریں گے
رندیپ نے انٹرویو کے دوران کہا، ’’میں ایک آئی پی کورٹ کیس سے گزر رہا تھا اور میرے ارد گرد ہندو مسلم بیانیے سے متعلق بہت زیادہ بحث چل رہی تھی، اس لیے میں دوبارہ اسی فضا میں واپس نہیں جانا چاہتا تھا۔‘‘ انہوں نے مزید بتایا کہ ساورکر کے کردار کے لیے انہوں نے اپنا سر منڈوایا تھا اور ان کا وزن بھی کافی کم ہو چکا تھا، جس کے بعد فوری طور پر ایک اور بڑے تاریخی کردار میں جانا ان کے لیے ممکن نہیں تھا۔ اداکار کے مطابق، اگرچہ انہیں فلم کا تصور پسند آیا تھا، لیکن وہ ذہنی طور پر اس کردار کے لیے تیار نہیں تھے، اسی لیے انہوں نے پروجیکٹ سے الگ ہونے کا فیصلہ کیا۔
بعد ازاں، اورنگزیب کا کردار اکشے کھنہ کو دیا گیا، جن کی اداکاری کو ناقدین اور ناظرین دونوں نے زبردست سراہا۔ فلم کی ریلیز کے بعد اکشے کھنہ کی خاموش لیکن شدید اسکرین موجودگی خاص طور پر موضوع بحث بنی رہی۔ کئی ناظرین نے سوشل میڈیا پر تبصرہ کیا کہ اکشے کھنہ اس کردار میں تقریباً ناقابل شناخت دکھائی دیے، جبکہ ان کی کنٹرولڈ پرفارمنس نے فلم کے جذباتی اور سیاسی تناؤ کو مزید مؤثر بنا دیا۔ دوسری جانب وکی کوشل نے مراٹھا سلطنت کے دوسرے حکمران سنبھاجی مہاراج کا مرکزی کردار ادا کیا، جسے فلم کی جان قرار دیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے : موہن لال کی مشہور تھرلر ’’درِیشیم‘‘ کا انڈونیشیائی ری میک بنے گا
فلم نے نہ صرف باکس آفس پر زبردست کمائی کی بلکہ تاریخی سنیما میں حالیہ برسوں کی اہم کامیابیوں میں بھی اپنا نام درج کرایا۔ رندیپ ہڈا کے بیان نے ایک بار پھر اس بحث کو جنم دیا ہے کہ اداکار اکثر کرداروں کے انتخاب میں صرف اسکرپٹ نہیں بلکہ اپنی ذہنی کیفیت، ذاتی حالات اور سماجی ماحول کو بھی مدنظر رکھتے ہیں۔ اداکار اس سے قبل بھی کئی بار یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ ایسے کرداروں کو ترجیح دیتے ہیں جو انہیں تخلیقی طور پر چیلنج کریں، لیکن ساتھ ہی وہ اپنی ذہنی صحت اور ذاتی سکون کو بھی اہمیت دیتے ہیں۔