ایک رپورٹ کے مطابق حکومت ہند کے حکم کے باوجود میٹا بچوں کے ساتھ زیادتی والے اشتہار چلارہی ہے، اس کے خلاف مہم چلانے والوں کے مطابق امریکی ٹیک کمپنی کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اب بھی درجنوں ایسے اشتہار موجود ہیں۔
EPAPER
Updated: September 11, 2026, 9:04 AM IST | New Delhi
ایک رپورٹ کے مطابق حکومت ہند کے حکم کے باوجود میٹا بچوں کے ساتھ زیادتی والے اشتہار چلارہی ہے، اس کے خلاف مہم چلانے والوں کے مطابق امریکی ٹیک کمپنی کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اب بھی درجنوں ایسے اشتہار موجود ہیں۔
ایک نئی رپورٹ کے مطابق، میٹا ہندوستان میں مصنوعی ذہانت سے تیار بچوں کے جنسی استحصال کی تصویری مواد پر مشتمل اشتہارات جاری رکھے ہوئے ہے، حالانکہ دو ماہ قبل حکومت نے ایسا تمام مواد ہٹانے کا حکم دیا تھا۔واشنگٹن میں قائم ٹیک ٹرانسپیرنسی پروجیکٹ کی رپورٹ میں گزشتہ۱۰؍ ماہ کے دوران فیس بک اور انسٹاگرام پر چلنے والے بچوں کے جنسی استحصال کے مواد پر مشتمل۳۳۲؍ اشتہارات کی نشاندہی کی گئی، جن میں صرف اگست میں۲۷۴؍ شامل تھے۔رپورٹ کے مطابق، تقریباً ایک چوتھائی اشتہارات، کل۸۴؍ ہندوستان میں چلائے گئے اور۷۸؍ ایسے تھے جو حکومت کے حکم جاری کرنے اور اس کے بعد میٹا کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کے بعد ظاہر ہوئے۔ تقریباً ۸۰؍ فیصد اشتہارات، یعنی۲۶۲؍، امریکہ میں اور۱۲۰؍ آسٹریلیا میں چلائے گئے، جہاں۱۶؍ سال سے کم عمر بچوں کے لیے میٹا کی سوشل میڈیا پابندی کے نفاذ کی تحقیقات جاری تھیں۔
یہ بھی پڑھئے: جرمن مسلح افواج میں جنسی زیادتی کے ۲۰۰۰؍ مقدمات: وزارت دفاع کی رپورٹ میں انکشاف
جولائی میں بی بی سی آئی کی ایک تحقیقات میں پتا چلا تھا کہ انسٹاگرام ہندوستان میں بچوں کے جنسی استحصال کے مواد کو فروغ دینے والےبامعاوضہ اشتہارات چلا رہا تھا، اور ایسی تلاش کی اصطلاحات استعمال کر رہا تھا جو صارفین کو ٹیلی گرام میسجنگ ایپ کے چینلز کی طرف لے جاتی تھیں، جہاں مبینہ طور پر یہ مواد صرف۹۹؍ روپے میں خریدا جا سکتا تھا۔اس کے بعد قومی کمیشن برائے تحفظ اطفال نے میٹا کو نوٹس جاری کیا اور امریکی ٹیک کمپنی سے الزامات کی وضاحت طلب کی۔ میٹا کے جواب کا جائزہ لینے کے بعد، کمیشن نے باضابطہ تحقیقات شروع کیں اور کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر اور کنٹری ہیڈ کو مزید تفصیلات فراہم کرنے کے لیے طلب کیا۔ علاوہ ازیں علاحدہ طور پر، قومی انسانی حقوق کمیشن نے دہلی پولیس کو ہدایت دی کہ وہ الزامات کی مکمل تحقیقات کرے اور جانچے کہ آیا میٹا اور دیگر کمپنیوں نے بچوں کو جنسی جرائم سے تحفظ کے قانون کے تحت لازمی رپورٹنگ کی ذمہ داریاں پوری کیں۔کمیشن نے شکایت موصول ہونے کے بعد جولائی میں ٹیک کمپنی کے خلاف کارروائی شروع کی تھی۔
تاہم بی بی سی کی تحقیقات کے بعد شائع ہونے والے ایک بیان میں میٹا نے کہا،’’یہ مکمل طور پر غلط ہے کہ ہم بچوں میں نامناسب دلچسپی کی بنیاد پر بچوں پر مشتمل اشتہارات کو جان بوجھ کر اور دانستہ نشانہ بناتے ہیں۔ اس کے بالکل برعکس؛ ہم ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہیں تاکہ ایسے اکاؤنٹس کی نشاندہی کی جا سکے جنھوں نے بچوں سے متعلق ممکنہ طور پر مشتبہ سرگرمی دکھائی ہو، اور ہم نے گزشتہ سال ایسے۴۰؍ لاکھ سے زیادہ اکاؤنٹس خودکار طور پر ہٹا دیے۔‘‘جبکہ ٹیک ٹرانسپیرنسی پروجیکٹ نے کہا کہ اسے اشتہارات میں حقیقی بچوں کی کئی تصاویر ملیں، جن میں ایک یورپی شاہی خاندان کا فرد بھی شامل ہے، جنہیں مصنوعی ذہانت کے ذریعے تبدیل کیا گیا تھا، اور یہ کہ اپنے نتائج سے میٹا کو آگاہ کرنے کے بعد بھی ایک درجن سے زیادہ اشتہارات فعال رہے۔زیادہ تر اشتہارات صارفین کو مصنوعی ذہانت سے تصویر یا ویڈیو بنانے والی ایپس کی طرف لے جاتے تھے، جن میں زیادہ تر چینی ڈویلپرز کی تھیں، اور کئی اشتہارات چین میں میٹا کے اپنے اشتہاری ری سیلرز کے ذریعے دیے گئے تھے جنھوں نے مہم گروپ کے سوالات کا جواب نہیں دیا۔
یہ بھی پڑھئے: اینڈریو اور ٹرسٹن ٹیٹ کو امریکی عدالت سے ضمانت نہیں ملی، برطانیہ حوالگی کا خطرہ برقرار
بلومبرگ کے مطابق، گروپ کی ڈائریکٹر کیٹی پال نے کہا، ’’بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مواد انٹرنیٹ پر ملنے والے سنگین ترین مواد میں سے ہے۔ لیکن یہ مواد انٹرنیٹ کے اندھیرے کونوں میں چھپا نہیں ہے۔ یہ میٹا کے پلیٹ فارمز پربامعاوضہ اشتہارات میں استعمال ہو رہا ہے۔‘‘ دی انڈیپنڈنٹ کو ایک بیان میں میٹا کے ترجمان نے کہا، ’’ہم نڈیفائی ایپس یا کسی بھی قسم کے بچوں کے استحصال کو برداشت نہیں کرتے، چاہے وہ حقیقی ہو یا مصنوعی ذہانت سے تیار۔اس سرگرمی کے پیچھے موجود مجرم جانتے ہیں کہ ہم نے مضبوط دفاع قائم کیے ہیں، جن میں ایسے نظام شامل ہیں جو خلاف ورزی کرنے والے اشتہارات کو روکتے اور مسلسل نگرانی بھی کرتے ہیں، تاکہ اگر ہم سے ابتدا میں کوئی چیز رہ جائے تو پکڑی جا سکے: اسی لیے ہمیں بتائے گئے بہت سے اشتہارات پہلے ہی ہٹا دیے گئے تھے، زیادہ تر کے۲۰۰؍ سے کم امپریشن تھے، اور کل اشتہاری خرچ۵۰۰۰؍ ڈالر سے کم تھا۔یہ مجرم پکڑے جانے سے بچنے کے لیے مسلسل حکمت عملی بدلتے رہتے ہیں، اسی لیے ہم اپنی نشاندہی اور نفاذ کو مضبوط کرتے رہتے ہیں۔‘‘
بعد ازاں ٹیک ٹرانسپیرنسی پروجیکٹ نے کہا کہ جب اس نے میٹا کے اپنے نظام کے ذریعے براہ راست اشتہارات کی شکایت کرنے کی کوشش کی، انہیں’’ ۱۸؍ سال سے کم عمر کسی فرد سے متعلق مسئلہ اور جنسی استحصال جیسا لگتا ہے‘‘ کے طور پر نشان زد کیا، تو کمپنی کو رپورٹس کا جائزہ لینے میں کم از کم ایک ہفتہ لگا اور اکثر کوئی کارروائی نہیں کی۔اس نے بتایا، میٹا کو رپورٹ کیے گئے بچوں کے جنسی استحصال کے مواد والے۵۷؍ فیصد اشتہارات کے بارے میں کمپنی نے جوابی پیغام بھیجا جس میں کہا گیا، ہم نے جائزہ لیا ہے اور پایا ہے کہ یہ اشتہار ہمارے اشتہاری معیارات کے خلاف نہیں ہے۔ جبکہ ۴۳؍فیصد معاملات میں، میٹا نے پیغام بھیجا کہ اشتہار پہلے ہی ہٹا دیا گیا ہے، حالانکہ چھ اشتہارات اشتہار لائبریری میں اب بھی نظر آ رہے تھے۔گروپ نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ نشان زد اشتہارات صرف اس وقت ہٹائے گئے جب اس نے براہ راست میٹا سے رابطہ کیا، اور مزید کہا کہ بعد میں اس نے تمام ۳۳۲؍اشتہارات امریکہ میں قائم نیشنل سینٹر فار مسنگ اینڈ ایکسپلوئیٹڈ چلڈرن کو رپورٹ کیے، جو آن لائن بچوں کے جنسی استحصال کے لیے عالمی سطح پر مرکزی رپورٹنگ نظام ہے۔