• Fri, 11 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیلی انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی تاریخی زوال کا شکار: سروے

Updated: September 11, 2026, 7:07 PM IST | Tel Aviv

اسرائیل میں ایک سروے کے مطابق انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی تاریخی زوال کا شکار ہے، معاریو اخبار کے شائع کردہ نئے سروے کے مطابق پارٹی۱۹؍ نشستوں پر آ گئی، جو مئی۲۰۲۵ء کے بعد اس کی کم ترین سطح ہے۔

Israeli Prime Minister Netanyahu. Photo: X
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو۔ تصویر: ایکس

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی جمعہ کو شائع ہونے والے ایک رائے عامہ کے سروے کے مطابق۱۹؍ نشستوں پر آ گئی ہے، جو مئی۲۰۲۵ء کے بعد اس کی کم ترین سطح ہے۔ یہ سروے ۲۷؍ اکتوبر کو ہونے والے عام انتخابات سے تقریباً چھ ہفتے قبل سامنے آیا۔سروے شائع کرنے والے اخبار معاریو نے نتیجے کو نیتن یاہو کی پارٹی کے لیے ”تاریخی زوال“ قرار دیا۔یہ سروے لازار ریسرچ نے، جس کی سربراہی میناخم لازار کر رہے ہیں، پینل ۴؍ آل ریسرچ پلیٹ فارم کے تعاون سے کیا۔ 

یہ بھی پڑھئے: نیتن یاہو دوبارہ منتخب ہوئے تو امریکہ اسرائیل پر سخت مؤقف اپنائے: ہلیری کلنٹن

یہ سروے۹؍، ۱۰؍ ستمبر کو۴۳۲۹؍ جواب دہندگان میں کیا گیا اور اس میں غلطی کا امکان ۴؍ فیصد پوائنٹس تھا۔
بعد ازاں نتائج کے مطابق، اگر آج انتخابات ہوتے تو لیکوڈ۱۹؍ نشستیں جیتتی، جو پیر کو کیے گئے سروے میں۲۱؍ نشستوں سے کم ہے۔معاریو نے کہا کہ یہ۲۹؍ مئی۲۰۲۵ء کے بعد پارٹی کی کمزور ترین کارکردگی ہے۔اس کے برعکس، سابق آرمی چیف گادی آئزنکوٹ کی یاشر پارٹی سروے میں۲۵؍ نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی پارٹی رہی، جس میں پیر کے سروے سے کوئی تبدیلی نہیںہے۔ واضح رہے کہ یہ نتائج اسرائیلی جماعتوں کی کنیسٹ انتخابات کے لیے امیدواروں کی فہرستیں جمع کرانے کے تین دن بعد سامنے آئے۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کا مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کے خلاف پابندیوں پر ردعمل

مزید برآں بلاک کی سطح پر، موجودہ حکومتی اتحاد کی جماعتیں۵۰؍ نشستیں حاصل کریں گی، جبکہ اپوزیشن جماعتیں۵۸؍ نشستیں جیتیں گی۔ عرب جماعتیں باقی۱۲؍ نشستیں حاصل کریں گی۔یاد رہے کہ ۱۲۰؍ رکنی کنیسٹ میں حکومت بنانے کے لیے کم از کم۶۱؍ نشستیں درکار ہیں۔واضح رہے کہ حالیہ جنگوں کے نتیجے میں نیتن یاہو کی مقبولیت میں تیزی سے گراوٹ آئی ہے، اس کے علاوہ ان کا عنوانی میں ملوث ہونا بھی گراوٹ کی ایک وجہ ہے، حالانکہ نیتن یاہو جنگوں کا بہانہ کرکے انتخابات کو موقوف کرانے میں کامیاب بھی ہوئے، تاہم یہ جنگیں ہی ان کے خلاف عوامی رائے ہموار کرنے کا سبب بنیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK