• Fri, 11 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہندوستان برکس کے ذریعے اپنی ٹیکنالوجی کو عالمی سطح پر لے جا سکتا ہے: صنعتی ماہرین

Updated: September 11, 2026, 7:08 PM IST | New Delhi

صنعتی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہندوستان برکس پلیٹ فارم کو اپنی ٹیکنالوجی اور جدید اختراعات کو عالمی سطح پر پہنچانے کے لیے مؤثر انداز میں استعمال کر سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس سے نہ صرف ہندوستان کو نئی عالمی منڈیوں تک رسائی ملے گی بلکہ برکس کے دیگر رکن ممالک بھی ہندوستانی ٹیکنالوجی، ایگری ٹیک اور دیگر جدید شعبوں سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔

Brics.Photo:PTI
برکس۔ تصویر:پی ٹی آئی

صنعتی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہندوستان  برکس پلیٹ فارم کو اپنی ٹیکنالوجی اور جدید اختراعات کو عالمی سطح پر پہنچانے کے لیے مؤثر انداز میں استعمال کر سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس سے نہ صرف ہندوستان کو نئی عالمی منڈیوں تک رسائی ملے گی بلکہ برکس کے دیگر رکن ممالک بھی ہندوستانی ٹیکنالوجی، ایگری ٹیک اور دیگر جدید شعبوں سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
برکس سربراہی اجلاس کے موقع پر ایک انٹرویو میں جنوبی افریقہ کی کمپنی  ایمپیلو اینڈے فورٹیفائیڈ فوڈز  کے سی ای او مافونڈو تھانگو نے کہا کہ ہندوستان  جنوبی افریقہ کے مقابلے میں ٹیکنالوجی کے میدان میں کافی آگے ہے۔ ان کے مطابق ہندوستان میں تیار کی جانے والی ٹیکنالوجی اور  ایگری ٹیک انوویشن  کو جنوبی افریقہ کو بنیاد بنا کر پورے افریقہ میں زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:پروٹین پاؤڈر میں کیڑے ملنے کا بپاشا باسو کا دعویٰ، تُکا رام منڈے سے مدد کی اپیل

مافونڈو تھانگو نے کہا کہ اس طرح بھارت کو اپنی ٹیکنالوجی کو صرف برکس ممالک تک محدود رکھنے کے بجائے وسیع افریقی مارکیٹ تک پہنچانے کا موقع ملے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان کی تکنیکی صلاحیتوں اور افریقہ کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے درمیان تعاون دونوں خطوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب ہندوستان میں روسی سفارت خانے کے پریس سیکریٹری  پیتھر سیزوف  نے کہا کہ ہندوستان دنیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی معیشتوں میں شامل ہے اور تیسری سب سے بڑی معیشت بننے کی سمت تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہندوستان اور روس کئی منصوبوں پر مل کر کام کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے برکس سربراہی اجلاس میں ۱۱۰؍ سے زائد روسی کمپنیاں  شرکت کر رہی ہیں۔
پیتھر سیزوف کے مطابق برکس پلیٹ فارم دونوں ممالک کے درمیان کاروباری اور اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کا ایک اہم ذریعہ بن رہا ہے۔ روسی کمپنیوں کی بڑی تعداد میں شرکت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ماسکو ہندوستان کے ساتھ تجارتی اور صنعتی تعلقات کو مزید وسعت دینے میں دلچسپی رکھتا ہے۔
ہندوستان کی برکس صدارت کو بڑا موقع  قرار دیتے ہوئے اسوسی ایشن آف ہاسپیٹیلٹی پروفیشنلز ویلفیئر کے نائب صدر  انُوپم ووہرا  نے کہا کہ اس وقت  ہندوستان میں سیاحت کے شعبے میں تیزی سے ترقی ہو رہی ہے اور ملک کی معیشت بھی مضبوط رفتار سے آگے بڑھ رہی ہے۔ ان کے مطابق بیرونِ ملک سے بڑی تعداد میں سیاح ہندوستان کا رخ کر رہے ہیں، جس سے سیاحت اور ہاسپیٹیلٹی انڈسٹری کے لیے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ برکس میں شامل مختلف ممالک کی اپنی الگ ترجیحات اور معاشی حالات ہیں، اس لیے تمام ممالک کے لیے ایک جیسے اصول نافذ نہیں کیے جا سکتے۔ ان کے مطابق چین بڑے پیمانے پر سیاحت کے شعبے میں سرگرم ہے، جبکہ روس کو موجودہ تنازع کے باعث مختلف چیلنجز کا سامنا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:دو ماہ کے وقفے سے گیند بازی کی رفتار میں نمایاں کمی آئی : محمد سراج

ووہرا نے مزید کہا کہ برکس میں برازیل، جنوبی افریقہ، چین، مصر، ایران اور متحدہ عرب امارات سمیت کئی اہم ممالک شامل ہیں اور یہ اتحاد عالمی معیشت اور آبادی کے ایک بڑے حصے کی نمائندگی کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق برکس کی بڑھتی ہوئی اہمیت ہندوستان کے لیے ٹیکنالوجی، تجارت، سیاحت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں نئے دروازے کھول سکتی ہے۔ اگر ہندوستان اپنی تکنیکی صلاحیتوں کو برکس کے ذریعے دیگر ابھرتی ہوئی منڈیوں تک مؤثر انداز میں پہنچانے میں کامیاب ہوتا ہے تو اس سے ’میک اِن انڈیا‘ اور ہندوستانی ٹیکنالوجی کو عالمی سطح پر فروغ دینے کی کوششوں کو بھی مزید تقویت مل سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK