پرائیویٹ اسکولوں میں آر ٹی ای کے تحت ۲۵؍ فیصد کوٹہ میں طلبہ کا داخلہ کے قواعد پرعمل کرنے کے باوجود اسکولوں کو مہاراشٹر حکومت کی جانب سے آر ٹی ای کے تحت داخلہ لینے والے طلبہ کی فیس ادا نہیں کی گئی ہے جس پر ایک تعلیمی ادارے نے بامبے ہائی کورٹ میں توہین عدالت کے تحت عرضداشت داخل کی ہے۔
پرائیویٹ اسکولوں میں آر ٹی ای کے تحت ۲۵؍ فیصد کوٹہ میں طلبہ کا داخلہ کے قواعد پرعمل کرنے کے باوجود اسکولوں کو مہاراشٹر حکومت کی جانب سے آر ٹی ای کے تحت داخلہ لینے والے طلبہ کی فیس ادا نہیں کی گئی ہے جس پر ایک تعلیمی ادارے نے بامبے ہائی کورٹ میں توہین عدالت کے تحت عرضداشت داخل کی ہے۔ اس پر ہونے والے شنوائی کے دوران کورٹ نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے حکومت اور ریاستی محکمہ تعلیم کو فیس ادا کرنے سے متعلق ایک مقررہ وقت طے کرنے اور ایک کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت دی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مہاڈا کے فروخت نہ ہونے والے مکانات کرایے پر دینے کی تجویز
ہائی کورٹ کی دو رکنی بنچ کے جسٹس ریاض چھاگلا اور جسٹس فرحان دوبھاس کے روبرو اوم ایجوکیشن سوسائٹی کی جانب سے داخل کردہ عرضداشت پر جاری سماعت کے دوران بتایا گیاکہ ’’ حکومت نے آر ٹی ای کے تحت طلبہ کے داخلہ کیلئے ۲۵؍ فیصد کوٹہ مقرر کیا ہے ساتھ ہی ایک طالب علم کی فیس ۱۷؍ ہزار ۶۷۰؍ روپے طے کی گئی ہے۔ آر ٹی ای کے تحت طلبہ کو مفت تعلیم دی جائے گی جبکہ فی طالبہ علم فیس کی طے شدہ رقم حکومت ادا کرے گی۔ اس بات کا یقین دلانے کے باوجوداور اس سے قبل فیس کی ادائیگی نہ ہونے پر ہائی کورٹ سے رجوع پر حکومت نے بقایا رقم ۳؍ کروڑ ۶۵؍ لاکھ روپے ادا کرنے کی ہامی بھری تھی لیکن اب تک فیس ادا نہیں کی گئی ہے ۔ سماعت کے دوران اسکول انتظامیہ نے عدالت کے حکم کے باوجود فیس ادا نہ کرنے پر توہین عدالت کے تحت کارروائی کرنے کے علاوہ محکمہ تعلیم یا حکومت سے وابستہ ان افسران کیخلاف بھی ایکشن لینے کی درخواست کی ہے جنہوں نے فیس کی ادائیگی کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں لی۔ مئی میں بامبے ہائی کورٹ نے تین پرائیویٹ اسکولوں کی بقایا رقم ادا کرنے کا حکم دیا تھا لیکن اس پر عمل نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے ایک تعلیمی ادارے نے توہین عدالت کے تحت دوبارہ مقدمہ درج کرایا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’منریگا‘ کی جگہ پر بنائی گئی اسکیم میں پہلے ہی ماہ ۵۰؍ فیصد کی کمی
کورٹ نے جب اس ضمن میں حکومت کی وکیل کویتا سونلکے سے وجہ جاننا چاہی تو انہوںنے ستمبر تک پوری فیس ادا کرنے کی ہامی بھری۔ اس پر کورٹ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’ حکومت اور محکمہ تعلیم کی کوتاہیوں کے سبب پرائیویٹ اداروں کو بار بار عدالت سے رجوع ہونا پڑ رہا ہے ۔ ‘‘ کورٹ نے حکومت کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ’’ آر ٹی ای کے تحت داخلہ دینے والے ۱۳۳؍ اداروں نے اس سلسلہ میں شکایت کی ہے جو انتہائی افسوسناک بات ہے۔اگر نجی ادارے آر ٹی ای کے تحت انہیں دی گئی ذمہ داریوں کو نبھا رہے ہیں تو حکومت اور متعلقہ محکمہ کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ ان کے اسکولوں میں داخل ہونے والے طلبہ کی فیس وقت پر ادا کی جائے ۔ ‘‘
۱۳۳؍ اداروں کے ذریعہ فیس کی ادائیگی نہ کئے جانے کی شکایت پر الگ سے شنوائی کرنے کا فرمان جاری کرتے ہوئے کورٹ نے سماعت کو ملتوی کرنے سے قبل فیس ادا کرنے کے لئے ایک وقت مقرر کرنے کے ساتھ ریاستی حکومت کو حکم دیا کہ وہ سینئر بیوروکریٹس پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دے۔