سیف علی خان کی بہن صبا پٹودی نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں ۲۷؍ سال کی عمر میں برین ٹیومر کی تشخیص ہوئی تھی۔ سوہا علی خان کے پوڈکاسٹ میں انہوں نے اچانک بے ہوش ہونے، سرجری اور بیماری کے دوران پیش آنے والے خوفناک تجربات بیان کیے۔
EPAPER
Updated: October 10, 2026, 9:02 PM IST | Mumbai
سیف علی خان کی بہن صبا پٹودی نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں ۲۷؍ سال کی عمر میں برین ٹیومر کی تشخیص ہوئی تھی۔ سوہا علی خان کے پوڈکاسٹ میں انہوں نے اچانک بے ہوش ہونے، سرجری اور بیماری کے دوران پیش آنے والے خوفناک تجربات بیان کیے۔
اداکار سیف علی خان اور سوہا علی خان کی بہن صبا پٹودی نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں ۲۷؍ سال کی عمر میں برین ٹیومر کی تشخیص ہوئی تھی۔ سوہا کے پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے صبا نے بتایا کہ وہ اچانک بے ہوش ہوگئی تھیں، جس کے بعد ایم آر آئی اسکین میں ان کے دماغ کے تیسرے وینٹریکل میں ایک سایہ نظر آیا۔ ڈاکٹروں نے ابتدا میں اسے کولائیڈ سسٹ سمجھا، تاہم تقریباً چھ ماہ بعد سرجری کے دوران معلوم ہوا کہ یہ پائلوسائٹک ایسٹروسائٹوما نامی ایک بے ضرر نوعیت کا ٹیومر تھا۔ صبا کے مطابق انہیں بے ہوش ہونے سے پہلے کوئی ایسی علامت محسوس نہیں ہوئی تھی جس سے کسی سنگین بیماری کا اندازہ ہوتا۔ ابتدا میں انہوں نے سمجھا کہ شاید کچھ کھانے یا پینے سے طبیعت خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اچانک ان کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا اور وہ عمارت کے باہر سڑک پر گر پڑیں۔ ہوش میں آنے کے بعد بھی ان کی طبیعت سنبھلنے میں تقریباً ۲۰؍ سے ۲۵؍ منٹ لگے۔ اس دوران وہ پوری طرح ہوش و حواس میں نہیں تھیں۔
ایم آر آئی میں دماغ کے تیسرے وینٹریکل میں غیر معمولی سایہ نظر آنے کے بعد ڈاکٹروں نے کولائیڈ سسٹ کا شبہ ظاہر کیا۔ صبا نے بتایا کہ ڈاکٹروں نے اسے آہستہ بڑھنے والا ٹیومر سمجھتے ہوئے سرجری دو سال تک مؤخر کرنے کا امکان بھی بتایا تھا، لیکن دو مرتبہ بے ہوش ہونے کے باعث وہ مزید خطرہ مول نہیں لینا چاہتی تھیں۔ صبا نے کہا کہ برین سرجری کی ضرورت کے بارے میں جان کر وہ شدید ذہنی دباؤ اور خوف کا شکار ہوگئی تھیں۔ ان کے لیے یہ خبر ناقابلِ یقین تھی کہ ایک دن سب کچھ معمول کے مطابق ہو اور اگلے ہی دن دماغ کی سرجری کی بات سامنے آجائے۔ انہیں اس بات کا بھی خوف تھا کہ کہیں وہ اپنی خودمختاری کھو کر روزمرہ کاموں کے لیے دوسروں پر منحصر نہ ہوجائیں۔
یہ بھی پڑھئے: نانا پاٹیکر کو فنکار زہیب خان کا منفرد خراجِ عقیدت، دیوار پر کوئلے سے بلند تصویربنائی
سرجری کے دوران ڈاکٹروں کو معلوم ہوا کہ ٹیومر دماغ کے اس حصے سے جڑا ہوا تھا جس کا تعلق قلیل مدتی یادداشت سے ہے۔ جراحی ٹیم نے مزید نقصان کے خطرے سے بچتے ہوئے جتنا ممکن تھا، ٹیومر نکال دیا۔ ڈاکٹر نے صبا کو بتایا کہ ریڈی ایشن سمیت مزید علاج صرف ضرورت پڑنے پر کیا جائے گا۔ صبا نے اپنی بیماری کا تجربہ عوام کے ساتھ شیئر کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ ذاتی تجربات دوسروں کو اپنی پریشانیوں کے بارے میں بات کرنے اور مناسب طبی مشورہ حاصل کرنے کا حوصلہ دے سکتے ہیں۔ ان کے مطابق کسی کی کہانی دوسرے شخص کو درست معلومات اور حل تلاش کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔