شاہ رخ خان نےبالی ووڈ میں رومانوی کردارکےساتھ منفی رول بھی بہترین اندازمیں کئے

Updated: November 02, 2020, 12:09 PM IST | Agency | Mumbai

شاہ رخ خان جنہیں اکثر غیر رسمی طور پر ایس آركے نام سے پُکارا جاتا ہےہندوستانی سنیما کے مشہور اداکار ہیں۔ ان کی پیدائش ۲؍نومبر ۱۹۶۵ء کو ہوئی تھی۔ اکثر میڈیا میں انہیں’بالی ووڈ کا بادشاہ‘،’کنگ خان‘ اور’رومانس کنگ‘ ناموں سے بھی پکارا جاتا ہے۔

Shah Rukh Khan.Picture :INN
شاہ رخ خان۔ تصویر:آئی این این

شاہ رخ خان جنہیں اکثر غیر رسمی طور پر ایس آركے  نام سے پُکارا جاتا ہےہندوستانی سنیما کے مشہور اداکار ہیں۔ ان کی پیدائش ۲؍نومبر ۱۹۶۵ء کو ہوئی تھی۔ اکثر میڈیا میں انہیں’بالی ووڈ کا بادشاہ‘،’کنگ خان‘ اور’رومانس کنگ‘ ناموں سے بھی پکارا جاتا ہے۔ شاہ رخ خان نے رومانوی ڈراما فلم سے لے کر ہنگامہ خیز فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے ہیں۔ انہوں نے مشہور ٹی وی شو’ کون بنے گا کروڑ پتی‘ کی میزبانی کے فرائض بھی سر انجام دیئے۔ ہندی فلم انڈسٹری میں ان کی خدمات کیلئے انہیں۳۰؍ نامزدگیوں میں سے ۱۴؍فلم فیئر اعزاز ملے ہیں۔ وہ اور دلیپ کمار ہی ایسے دو اداکار ہیں جنہوں نے فلم فیئر کا بہترین اداکار کا اعزاز ۸؍بار ملا ہے۔۲۰۰۵ء میں حکومت نے انہیں سنیما میں خدمات  کیلئے پدم شری سے نوازا۔ شاہ رخ خان   ریڈ چلیز انٹرٹینمنٹ پروڈکشن کمپنی اور انڈین پریمیر لیگ کی ٹیم کولکاتا نائٹ رائیڈرس کے مالک بھی ہیں ۔ ویلتھ ریسرچ فرم ویلتھ ایکس کے مطابق کنگ خان پہلے سب سے امیر ہندوستانی اداکار بن گئے ہیں۔   شاہ رخ خان کے والدین پٹھان قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔ دادا جان محمد افغانستان کے رہنے والے پٹھان تھے۔  ان کے والد کا نام تاج محمد خان تھا ایک مجاہد آزادی تھے۔ ان کی والدہ لطیفہ فاطمہ جنرل شہاب الدین خان کی بیٹی تھیں۔ شاہ رخ خان کے والد ہندوستان کی تقسیم سے پہلے پشاور کے قصہ خوانی بازار سے دہلی منتقل ہوئے۔ حالانکہ ان کی ماں کا تعلق راولپنڈی سے تھا۔ شاہ رخ کے والد نے ہندوستان کی تحریک آزادی میں بھی حصہ لیا تھااور بہت سے کاروبار کئے جن میں چائے کی دکان بھی شامل تھی۔ شاہ رخ کے والد تقسیم کے بعد دہلی اور پھر حیدرآباد آ گئے جہاں ان کی ملاقات شاہ رخ کی والدہ لطیف فاطمی سے ہوئی۔ دہلی کے انڈیا گیٹ کے قریب چہل قدمی کرتے ہوئے تاج محمد خان نے ایک کار حادثے میں زخمی لطیف فاطمہ کو نہ صرف ہاسپٹل لے گئے بلکہ خون کا عطیہ دے کر جان بچائی۔۱۹۵۹ء میں دونوں کی شادی ہوئی۔ پہلے شاہ رخ کی بڑی بہن شہناز پیدا ہوئیں، جنہیں پیار سے لالہ رخ پکارا جاتا ہے۔ اس کے بعد شاہ رخ خان۲؍ نومبر ۱۹۶۵ء   میں نئی دہلی میں پیدا ہوئے۔ 
 شاہ رخ خان نے ابتدائی تعلیم دہلی کے سینٹ کولمبیا اسکول سے حاصل کی۔ اسکول کے زمانے ہی سے وہ کھیل اور تھیٹر کے فن میں ماہر تھے۔ اسکول کی طرف سے ان کو ’سوورڈ آف آنر’ سے نوازا گیا جو ہر سال سب سے قابل اور ذہین طالب علم اور کھلاڑی کو دیا جاتا تھا، اس کے بعد ہنس راج کالج میں داخلہ لیا جہاں سے معاشیات کی ڈگری لی اور پھر اسلامیہ یونیورسٹی سے ماس کمیونیکیشن میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی۔۱۹۸۰ء میں شاہ رخ کے والد کینسر کی وجہ سے فوت ہو گئے۔۱۹۹۱ء میں والدہ کا سایہ بھی سر سے اٹھ گیا۔ والدین کی موت کے غم میں بہن لالہ رخ نیم پاگل ہوگئیں  اورشاہ رخ نے بہن کی ذمہ داری اپنے سر لے لی۔ اپنے  والدین کے انتقال کے بعد شاہ رخ خان۱۹۹۱ء میں دہلی سے ممبئی منتقل ہو گئے ۔
 شاہ رخ نے ممبئی آکر فلموں میں قسمت آزمانے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ان کی کالج کی لڑکی گوری جس سے وہ ۶؍ سال سے محبت کرتے تھے ممبئی گئی تھی۔ ممبئی آتے ہی شاہ رخ نے۱۹۹۱ء ہی میں گوری خان سے ان کی شادی ہوئی۔   شاہ رخ خان نے اداکاری کی تعلیم تھیٹر ڈائریکٹر بیری جان سے دہلی کے تھیٹر ایکشن گروپ میں لی۔  شاہ رخ خان نے اپنا کریئر۱۹۸۸ء میں دوردرشن کے سیریل’فوجی’ سے شروع کیا جس میں كمانڈو ابھیمنیو رائے کا کردار ادا کیا ۔ اس کے بعد انہوں نے اور بہت سیریلز میں اداکاری جن میں اہم تھا۱۹۸۹ء کا "سرکس"، جس سرکس میں کام کرنے والے افراد کی زندگی کو بیان کیا گیا تھا اور جس کی ہدایت عزیز مرزا نے کی تھی۔بالی ووڈ میں ان کی پہلی  فلم  ’دیوانہ‘  تھی جو باکس آفس پر کامیاب رہی ۔ اس فلم کیلئے  انہیں فلم فیئر ایوارڈ ملا۔ ان کی اگلی فلم تھی "مایا میم صاحب" جو کامیاب نہیں ہوئی۔۱۹۹۳ء کی ہٹ فلم ’بازیگر’ میں ایک منفی کردار ادا کرنے کیلئے انہیں اپنا پہلا فلم فیئر بہترین اداکار ایوارڈ ملا۔ اسی سال فلم ’ڈر‘ میں عشق کے جنوں میں پاگل عاشق کا کردار ادا کرنے کیلئے ان سرهايا گیا۔ اس سال میں فلم’کبھی ہاں کبھی نا’ کیلئے انہیں فلم فیئر مبصرین(کریٹکس) بہترین اداکار کے ایوارڈسے بھی نوازا گیا۔۱۹۹۴ءمیں شاہ رخ خان نے فلم ’انجام’ میں ایک بار پھر جنونی اور نفسیاتی عاشق کا کردار ادا کیا اور اس کیلئے انہیں فلم فیئر بہترین منفی کردار کا ایوارڈبھی حاصل ہوا۔۱۹۹۵ءمیں  انہوں نے آدتیہ چوپڑا کی پہلی فلم ’دل والے دلہنیا لے جائیں گے’ میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ فلم بالی ووڈ کی تاریخ کی سب سے زیادہ کامیاب اور بڑی فلموں میں سے ایک مانی جاتی ہے۔ ممبئی کے کچھ سنیما گھروں میں یہ ۲۰؍برسوںسے چل رہی ہے۔ اس فلم کیلئے انہیں فلم فیئر بہترین اداکار ایوارڈملا تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK