بالی ووڈ کے معروف نغمہ نگار شیلندر نے۲؍ دہائی تک تقریباً۱۷۰؍ فلموں میں زندگی کے ہر فلسفہ اور ہررنگ پر بے شمار نغمے لکھے جو آج بھی دنیا بھر میں شوق سے سنے جاتے ہیں۔
EPAPER
Updated: August 30, 2025, 12:18 PM IST | Agency | Mumbai
بالی ووڈ کے معروف نغمہ نگار شیلندر نے۲؍ دہائی تک تقریباً۱۷۰؍ فلموں میں زندگی کے ہر فلسفہ اور ہررنگ پر بے شمار نغمے لکھے جو آج بھی دنیا بھر میں شوق سے سنے جاتے ہیں۔
بالی ووڈ کے معروف نغمہ نگار شیلندر نے۲؍ دہائی تک تقریباً۱۷۰؍ فلموں میں زندگی کے ہر فلسفہ اور ہررنگ پر بے شمار نغمے لکھے جو آج بھی دنیا بھر میں شوق سے سنے جاتے ہیں۔ ان کے نغموں کی کشش، دھیما پن اور لوچ ایسا تھا جس کی کیفیت سننے والے ہی بیان کرسکتے ہیں ۔ انہوں نے اپنے نغموں کے ذریعے زندگی کے ہر پہلو کو اجاگر کیاہے۔
پنجاب کے راولپنڈی شہر (پاکستان) میں ۳۰؍ اگست ۱۹۲۳ء کو پیدا ہونے والے شیلندر کا پورا نام شنکرداس کیسری لال عرف شیلندر تھا۔ انہوں نے اپنے کریئر کا آغاز ممبئی میں انڈین ریلویز میں نوکری سے کیا تھا۔ ملازمت کے سلسلے میں وہ اکثر سفر میں بھی رہتے تھے۔ اس کے باوجو وہ اپنا زیادہ تر وقت نظمیں لکھنے ہی میں گزارتے تھے جس کی وجہ سے ان کے افسران ان سے ناراض رہتے تھے۔
نغمہ نگار شیلندر، موسیقار شنکر جے کشن اور فلم ساز، اداکار راج کپور کی ٹیم نے اپنے دور میں بالی ووڈ میں دھوم مچادی تھی۔ انہوں ۱۹۵۰ءاور۹۶۰اءکے عشروں میں متعدد معروف ہندی فلموں کے نغمے لکھے جنہیں لازوال شہرت حاصل ہوئی۔
اسی دوران شیلندر تحریک آزادی میں شامل ہوگئے تھے اور جلسوں وغیرہ میں اپنی نظمیں پڑھ کر سنایا کرتے تھے۔ سب سے پہلے فلم ساز راج کپور نے شیلندر میں چھپے ہوئے فنکارکو پہچانا۔
یہ اس وقت کی بات ہے جب شیلندر ایک مشاعرے میں اپنی نظم ’جلتا ہے پنجاب‘پڑھ رہے تھے۔ راج کپور کو ان کا انداز بہت پسند آیا اور انہوں نے اپنی فلموں کے لئے نغمے لکھنے کی پیش کش کی مگر اس موقع پر نہ جانے شیلندر کو کیا ہوا کہ انہوں نے راج کپور کی یہ پیشکش مسترد کردی۔ اس کی بظاہر کوئی معقول وجہ بھی نہیں تھی، مگر بعد میں انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا تو انہوں نے راج کپور سے خود رابطہ کیا اور ان کی پیشکش قبول کرنے پر آمادہ ہوگئے۔
بطور نغمہ نگارشیلندر نے اپنا پہلا نغمہ۱۹۴۹ء میں ریلیز راج کپور کی فلم ’برسات‘ کے لئے ’برسات میں تم سے ملے ہم سجن‘ لکھا تھا۔ اسی فلم سے بطور موسیقار شنکر جے کشن نے بھی اپنے کریئر کا آغاز کیا تھا۔ اس فلم کے بعد شیلندر، راج کپور کے پسندیدہ نغمہ نگار بن گئے اور اس جوڑی نے کئی فلمیں ایک ساتھ کیں ۔ اس کے علاوہ دیگر فلموں میں آوارہ، آہ، شری۴۲۰، چوری چوری، اناڑی، جس دیش میں گنگا بہتی ہے، سنگم، تیسری قسم، اراؤنڈ دی ورلڈ، دیوانہ، سپنوں کا سوداگر اور میرانام جوکر وغیرہ شامل ہیں۔ شیلندر انڈین پیپلز تھیٹر (اپٹا) کے بانیوں میں سے ایک تھے۔ وہ اپنے نغموں کے لئے تین مرتبہ فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازے گئے۔ شنکر جے کشن کے علاوہ نغمہ نگار شیلندر نے بالی ووڈ کے دیگر معروف اور مقبول موسیقاروں کے ساتھ بھی کام کیا۔ شیلندر نے بوٹ پالش، شری۴۲۰؍ اور تیسری قسم میں اداکاری کے جوہر بھی دکھائے۔ اس کے علاوہ انہوں نے۱۹۶۰ء میں فلم پرکھ کے لئے ڈائیلاگ بھی لکھے۔ شیلندر نے فلم ’تیسری قسم‘(۱۹۶۶ء) کی تخلیق کی لیکن باکس آفس پر اس کی ناکامی کے بعد انہیں شدید صدمہ پہنچا۔ انہوں نے اس فلم پر اپنی ساری جمع پونجی لگادی تھی اور فلم ناکام ہوگئی تھی جس کی وجہ سے انہیں کئی مرتبہ دل کا دورہ پڑا۔
انہوں نے۱۳؍ دسمبر۱۹۶۶ء کو راج کپور کو اپنے کاٹج میں بلاکر ان کی فلم میرانام جوکر کا نغمہ ’جینا یہاں مرنا یہاں ‘ کو پورا کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن وہ وعدہ ادھورا ہی رہ گیا اور اگلے ہی دن۱۴؍ دسمبر۱۹۶۶ء کو ان کی موت ہوگئی۔ اسے محض ایک اتفاق ہی کہا جائے گا کہ اسی دن راج کپور کا جنم دن بھی تھا۔