• Fri, 06 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

انوراگ کشیپ کا نام ایپسٹین فائلز میں، کہا ’’فلموں سے زیادہ یہاں کلک بیٹ ہے‘‘

Updated: February 06, 2026, 5:11 PM IST | Mumbai

فلمساز انوراگ کشیپ کا نام حالیہ ایپسٹین فائلز میں سامنے آیا ہے، جس پر انہوں نے اپنے ردعمل میں کہا کہ میڈیا میں ان کے نام کا استعمال ’’کلک بیٹ‘‘ کے طور پر کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کا نام کسی بھی شواہد یا قانونی دستاویز میں نہیں آیا۔

Anurag Kashyap. Photo: INN
انوراگ کشیپ۔ تصویر: آئی این این

مشہور ہندوستانی فلمساز انوراگ کشیپ کا نام حال ہی میں سامنے آنے والی ایپسٹین فائلز سے جوڑا گیا ہے جس پر انہوں نے ردعمل ظاہر کیا ہے۔ ٹیلی گراف کی ایک رپورٹ کے مطابق کشیپ نے کہا ہے کہ میڈیا اور آن لائن پوسٹس میں ان کے نام کا استعمال ’’ کلک بیٹ‘‘ کے طور پر کیا جا رہا ہے، جبکہ حقیقت میں ان کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ خیال رہے کہ ایپسٹین فائلز میں، جسے دنیا بھر کے کئی میڈیا ٹوٹلز نے افشا کیا ہے، متعدد مشہور شخصیات کے نام سامنے آئے ہیں۔ تاہم، انوراگ کشیپ نے میڈیا پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا نام ایسی فائلز میں شامل کرنا واضح طور پر ’’مبالغہ آرائی‘‘ ہے، خاص طور پر جب حقیقت میں کوئی مضبوط ثبوت سامنے نہیں۔
کشیپ نے سوشل میڈیا پر اپنے بیانات میں کہا کہ اگرچہ ان کا نام رپورٹ شدہ مواد میں آیا ہے، لیکن وہ خود کوئی قانونی الزامات یا عالمی تحقیق میں شامل نہیں ہیں۔ ان کے مطابق اس قسم کے عنوانات میڈیا کے کلک بڑھانے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں، نہ کہ کسی حقیقی یا مصدقہ معلومات کی بنیاد پر۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی فلمیں اور ان کا فنی کام براہِ راست یا بالواسطہ کسی بھی مبینہ ایپسٹین کیس یا اس سے متعلق کسی بھی قانونی کاروائی سے منسلک نہیں ہے۔ ان کے مطابق ایسا تصور کہ ان کا نام ’’ایپسٹین فائلز‘‘ سے جڑا ہوا ہے، صرف میڈیا اور سوشل میڈیا کی فہرستوں کا حصہ بن چکا ہے، جس میں مفروضے اور قیاسات شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: لتا منگیشکرکے گیت آج بھی مداحوں کے دلوں میں زندہ ہیں

واضح رہے کہ ایپسٹین فائلز کا آغاز جیفری ایپسٹین کی زیرِ ملکیت دستاویزات کے کچھ بڑے راز افشا ہونے کے بعد ہوا تھا، جس میں ان کے وسیع نیٹ ورک، ملاقاتوں اور تعلقات کو ظاہر کیا گیا تھا۔ تاہم، بہت سی چیزیں صرف ناموں کی فہرستوں پر مبنی ہیں، جن میں کسی شخص کے کسی جرم یا الزام سے جڑے ہونے کا ثبوت خود بخود ثابت نہیں ہوتا۔ ماہرین نے بھی اس طرح کے دعوؤں پر محتاط ہونے کا مشورہ دیا ہے، کیونکہ صرف کسی فہرست میں نام آنا ثبوت نہیں کہ وہ فرد کسی قانونی خلاف ورزی میں ملوث رہا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اس طرح کے دعوے اکثر سوشل میڈیا انجینئرنگ کے تحت وائرل ہو جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ہنومانکائنڈ اور وشال ددلانی نے یہ طوفانی گیت تیار کیا ہے

فلمی حلقوں میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ مشہور شخصیات کے ناموں کو ایسے نامناسب سیاق کے ساتھ جوڑ دینا ناقابلِ اثبات الزام تراشی کا سبب بنتا ہے، جس سے ان کی ساکھ اور عوامی تاثر متاثر ہو سکتا ہے، جبکہ حقیقت میں ان کا کوئی قانونی تعلق موجود نہیں ہوتا۔ اب تک انوراگ کشیپ یا ان کے وکلا کی جانب سے کسی قانونی اقدام کے بارے میں کوئی سرکاری اعلان سامنے نہیں آیا ہے، لیکن ان کی جانب سے میڈیا کے دعوؤں پر ردعمل واضح ہے کہ وہ صرف اعزازی یا مبہم فہرستوں میں نام آنے کے برخلاف کسی حقیقی الزامات سے جڑے نہیں ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK