کامرا کے مطابق، کونسل کی جانب سے سمن ۲۳ جنوری کو جاری کیا گیا تھا لیکن انہیں ۲۹ جنوری کو موصول ہوا۔ مختصر نوٹس کے باوجود، انہوں نے ۳۰ جنوری کو کمیٹی کو ای میل کرکے اپنے وکیل کے ہمراہ حاضری کی تصدیق کردی تھی۔
EPAPER
Updated: February 06, 2026, 6:06 PM IST | Mumbai
کامرا کے مطابق، کونسل کی جانب سے سمن ۲۳ جنوری کو جاری کیا گیا تھا لیکن انہیں ۲۹ جنوری کو موصول ہوا۔ مختصر نوٹس کے باوجود، انہوں نے ۳۰ جنوری کو کمیٹی کو ای میل کرکے اپنے وکیل کے ہمراہ حاضری کی تصدیق کردی تھی۔
اسٹینڈ اپ کامیڈین کنال کامرا نے ان دعوؤں کو سختی سے مسترد کر دیا کہ انہوں نے استحقاق کی خلاف ورزی کے کیس میں مہاراشٹر قانون ساز کونسل کی کمیٹی سے سماعت ملتوی کرنے کی درخواست کی تھی۔ کامرا کا کہنا ہے کہ پینل نے خود کارروائی ملتوی کی اور بی جے پی ایم ایل سی پرساد لاڈ ”جھوٹ بول رہے ہیں۔“
پرساد لاڈ کی سربراہی میں استحقاق کمیٹی کے سامنے ۵ فروری کو سماعت طے تھی جس میں کنال کامرا کو طلب کیا گیا تھا۔ بی جے پی ایم ایل سی نے ’دی انڈین ایکسپریس‘ کو بتایا تھا کہ کامرا نے کہا تھا کہ وہ ممبئی کا سفر نہیں کر سکتے اس لیے انہوں نے نئی تاریخ کی درخواست کی، جس کے بعد پینل نے ۱۷ فروری کی تاریخ طے کی۔ تاہم، کامرا کا کہنا ہے کہ یہ ”جھوٹ“ ہے۔ جمعہ کے دن کامرا نے بیان دیا کہ وہ درحقیقت بدھ کے دن خاص طور پر سماعت کے لیے ممبئی پہنچ گئے تھے اور انہوں نے اسے ملتوی کرنے کی درخواست نہیں کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ وہ کمیٹی کے ساتھ مکمل تعاون کرنے کے لیے تیار ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: مالیگاؤں کارپوریشن پر قبضہ کی کوششوںکے درمیان شیوسینا اور مجلس کے درمیان تبادلۂ خیال
کامرا کے مطابق، کونسل کی جانب سے سمن ۲۳ جنوری کو جاری کیا گیا تھا لیکن انہیں ۲۹ جنوری کو موصول ہوا۔ مختصر نوٹس کے باوجود، انہوں نے ۳۰ جنوری کو کمیٹی کو ای میل کرکے اپنے وکیل کے ہمراہ حاضری کی تصدیق کردی تھی۔ اسی ای میل میں انہوں نے اپنے خلاف طے کردہ الزامات کی نقول اور پینل کے ۲۲ جنوری کے اجلاس کی روداد بھی طلب کی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ کمیٹی نے ابھی تک وہ دستاویزات فراہم نہیں کئے ہیں۔ کامرا نے مزید کہا کہ انہیں بدھ کی شام ۶ بجے کے قریب ایک کال موصول ہوئی جس میں بتایا گیا کہ سماعت ملتوی کر دی گئی ہے، جس کے بعد التواء کی تصدیق کرنے والا باضابطہ خط بھی ملا۔ انہوں نے کہا کہ ”خط سے واضح ہوتا ہے کہ التواء میری درخواست پر نہیں کیا گیا تھا۔“
یہ بھی پڑھئے: ’’مہاراشٹر میں التوا کا شکار اقلیتی طلبہ کی اسکالرشپ بحال کی جائے‘‘
واضح رہے کہ کنال کامرا شیو سینا (یو بی ٹی) لیڈر سشما اندھارے کے ہمراہ نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کے بارے میں مارچ ۲۰۲۵ میں کیے گئے تبصروں پر استحقاق کی خلاف ورزی کی کارروائی کا سامنا کررہے ہیں۔ بی جے پی ایم ایل سی پروین داریکر نے یہ نوٹس پیش کیا تھا، جس میں الزام لگایا گیا کہ کامرا نے شندے کا مذاق اڑایا اور مقننہ کی توہین کی، جبکہ اندھارے پر ان کی حمایت کا الزام ہے۔ یہ کیس ۲۳ مارچ کو یوٹیوب پر ریلیز ہونے والے طنزیہ کامیڈی شو سے شروع ہوا جس میں کامرا نے شیوسینا میں ۲۰۲۲ کی تقسیم کے تناظر میں براہِ راست نام لیے بغیر شندے کو ”غدار“ کہا تھا۔ اس کلپ کے وائرل ہونے کے بعد، شندے کے حامیوں نے ممبئی کے ’دی ہیبی ٹیٹ‘ اسٹوڈیو میں توڑ پھوڑ کی تھی جہاں یہ ریکارڈنگ ہوئی تھی۔ اگلے ہی دن، ممبئی پولیس نے ہتکِ عزت اور عوامی شر انگیزی کی دفعات کے تحت کامرا کے خلاف کیس درج کرلیا تھا۔