• Wed, 14 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

شکتی سامنت نے ایک ساتھ کئی زبانوں میں فلم بنانا شروع کیاتھا

Updated: January 14, 2026, 5:23 PM IST | Agency | Mumbai

شکتی سامنت کا شمار بالی ووڈ کے ان بڑے ہدایت کاروں میں ہوتا ہے جنہوں نےبالی ووڈ کو  نئی جہت عطا کی۔ بالی ووڈ میں انہوں نےفلموں کو مختلف زبانوں میں بنانے کا آغاز کیا۔

Shakti Samanta was a versatile personality. Picture: INN
شکتی سامن ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔ تصویر: آئی این این
شکتی سامنت کا شمار بالی ووڈ کے ان بڑے ہدایت کاروں میں ہوتا ہے جنہوں نےبالی ووڈ کو  نئی جہت عطا کی۔ بالی ووڈ میں انہوں نےفلموں کو مختلف زبانوں میں بنانے کا آغاز کیا۔ ایک استاد سے ہدایت کار بننے تک کا ان کا سفر جدوجہد سے پُر رہا۔ اپنی محنت کی بدولت وہ اس مقام تک پہنچےجہاں پہنچناہر ہدایت کار کا خواب ہوتا ہے۔ انہوں نے شمی کپور، شرمیلا ٹیگور اور راجیش کھنہ جیسے عظیم فنکاروں کے ساتھ کام کیا۔ شکتی سامنت کی پیدائش ۱۳؍جنوری ۱۹۲۶ءکو مغربی بنگال میں ہوئی تھی۔ تعلیم حاصل کرنے کیلئے وہ اپنے چچا کے ساتھ اتراکھنڈ چلےگئے۔ ان کی ابتدائی تعلیم دہرادون میں ہوئی۔اعلیٰ تعلیم کیلئے وہ دوبارہ مغربی بنگال واپس آئے۔۱۹۴۴ء میں انہوں نے کلکتہ یونیورسٹی سے گریجویشن کی ڈگری حاصل کی۔
۱۹۴۸ءمیں وہ ستیش نگم کےساتھ وابستہ ہوگئے اورراج کپور کی فلم’سنہرے دن‘میں معاون ہدایت کار کی حیثیت سے کام کیا۔ اس کےبعد انہوں نے ہدایت کار گیان مکھرجی اور فانی مجمدار کے ساتھ بھی کام کیا۔ اس دوران انہوں نے’تماشا‘ اور’دھوبی ڈاکٹر‘ جیسی فلموں کی ہدایت کاری میں تعاون دیا۔ہدایت کار کی حیثیت سے شکتی سامنت نے پہلی بار ۱۹۵۴ءمیںفلم ’بہو‘کی ہدایت کاری کی۔ فلم میں معروف اداکارہ اوشا کرن اور کرن دیوان کے ساتھ ششی کلا اور پران نے اہم اداکار ادا کئے  تھے۔ اس کے بعد انہوں نے بالی ووڈ کو ’انسپکٹر‘،’ڈیٹیکٹو‘اور ’ہل اسٹیشن‘جیسی فلمیں دیں۔ سامنت  چند ہی برسوں میں اتنےکامیاب ہوگئےکہ ۱۹۵۷ءمیں ’شکتی فلمز‘کےنام سے اپنی پروڈکشن کمپنی قائم کرلی اور پھر انھوں نے اس بینر تلے  پہلی فلم’ہاوڑہ برج‘بنائی، جو ہٹ ثابت ہوئی  اور ان کے کریر کا ٹرننگ پوائنٹ بنی۔ ہاؤڑا برج نے مدھو بالا کو نئی بلندیوں  تک پہنچایا۔ اس کے بعد انہوں نےپیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اورکشمیر کی کلی، این ایوننگ ان پیرس، چائنا ٹاؤن جیسی مزید فلمیں بنائیں۔ہمہ جہت شخصیت کے مالک شکتی سامنت محض  پروڈیوسر یا ہدایت کار ہی نہیں تھے انھوں نے فلمیں اوران کے مکالمے بھی لکھے۔ فلم برسات کی ایک رات،گریٹ گیمبلر اور امانش کی کہانی اور مکالمے انہوں نے ہی تحریر کئے تھے۔شکتی سامنت نےاپنے کریئرمیں ۴۳؍فیچر فلموں کی ہدایت کاری کی، جن میں ۳۷؍ہندی اور ۶؍ بنگالی فلمیں شامل تھیں۔شکتی سامنت ایسے پہلے بالی ووڈ فلمساز تھے جنھوں نے ہندی فلموں کو دیگر زبان میںڈب کرنے یا دوسرے ورژن میں بنانے کی شروعات کی۔  ان کی کئی ہندی فلمیں بنگالی زبان میں بھی بنائی گئیں۔ انھوں نے فلم امانش کو ہندی اور بنگالی دونوں میں بنایا۔ جس طرح شمی کپور اور راجیش کھنہ ان کے پسندیدہ اداکار تھے اسی طرح وہ شرمیلا ٹیگور کو کافی پسندکرتے تھے۔ کشمیر کی کلی کے بعد سے انھوں نے شرمیلا کو اپنی کئی فلموں میں ہیروئین کے طور پر لیا۔  ان کی محنت کے باعث انہیں ’آرادھنا‘ اور’امانش‘ جیسی فلموں کے لیے فلم فیئر ایوارڈ سے نوازا گیا۔ بالی ووڈمیںانہیں  ان کے کا رہائے نمایاں کیلئے کئی مرتبہ لائف ٹائم اچیومینٹ ایوارڈ سے نوازا گیا۔ وہ انڈین موشن پکچرز پروڈیوسرز ایسوسی ایشن کے صدر بھی رہے۔ دل کی بیماری کے باعث۹؍اپریل ۲۰۰۹ءکو شکتی سامنت کا انتقال ہوا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK