Inquilab Logo Happiest Places to Work

سنگاپور کورونر: زوبین گرگ کی موت حادثاتی طور پر ڈوبنے کا نتیجہ

Updated: March 25, 2026, 5:03 PM IST | Singapore

سنگاپور کی کورونر انکوائری نے گلوکار زوبین گرگ کی موت کو حادثاتی قرار دے دیا، جبکہ ہندوستان میں قتل کے الزامات برقرار ہیں۔

Zubeen Garg. Photo: INN
زوبین گرگ۔ تصویر: آئی این این

سنگاپور کے اخبار ’’دی اسٹریٹس ٹائمز‘‘ کے مطابق، آسامی گلوکار زوبین گرگ کی موت کے بارے میں ہونے والی کورونر انکوائری نے حتمی طور پر فیصلہ دیا ہے کہ ان کی موت حادثاتی طور پر ڈوبنے کے باعث ہوئی۔ کورونر انکوائری ایک ایسا باضابطہ عمل ہوتا ہے جس کا مقصد کسی شخص کی موت کے اسباب اور حالات کا تعین کرنا ہوتا ہے۔ اس کیس میں ریاستی کورونر ایڈم ناخوڈا نے بدھ کو کہا کہ دستیاب شواہد کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد انہیں اس نتیجے سے اختلاف کی کوئی وجہ نہیں ملی کہ گلوکار کی موت حادثاتی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: کرتیکا کامرا نے’’مٹکا کنگ‘‘ کے کردار کی جھلک پیش کی

واضھ ہو کہ زوبین گرگ کا انتقال ۱۹؍ ستمبر کو سنگاپور میں ایک یاٹ ٹرپ کے دوران ہوا تھا، جہاں وہ نارتھ ایسٹ انڈیا فیسٹیول میں پرفارم کرنے کیلئے پہنچے تھے۔ ان کی موت کے اگلے ہی دن جاری کئے گئے ابتدائی ڈیتھ سرٹیفکیٹ میں بھی ڈوبنے کو ہی وجہ قرار دیا گیا تھا، جس کی تصدیق بعد میں اکتوبر اور دسمبر میں بھی کی گئی۔ مزید تحقیقات میں سامنے آیا کہ گرگ حادثے کے وقت شدید نشے میں تھے اور انہوں نے تیراکی کے دوران لائف جیکٹ پہننے سے انکار کر دیا تھا۔ سنگاپور کے حکام کے مطابق یہی عوامل حادثے کی بنیادی وجہ بنے۔

تاہم، ہندوستان میں اس معاملے نے ایک مختلف رخ اختیار کیا۔ آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا شرما نے بارہا دعویٰ کیا کہ گلوکار کی موت حادثہ نہیں بلکہ ایک سازش کے تحت قتل تھی۔ اس مؤقف کے تحت ہندوستان میں ایک خصوصی تفتیشی ٹیم (SIT) تشکیل دی گئی۔ تحقیقات کے دوران سات افراد کو گرفتار کیا گیا، جن میں فیسٹیول کے منتظم شیامکانو مہانتا، گرگ کے مینیجر سدھارتھ شرما، اور دو موسیقار شیکھر جیوتی گوسوامی اور امرت پروا مہنتا شامل ہیں۔ ان میں سے چار افراد پر قتل کے الزامات عائد کئے گئے ہیں۔ مزید برآں، گلوکار کے کزن سندیپن گرگ، جو ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ہیں، پر مجرمانہ قتل (قتل کے بغیر) کا الزام لگایا گیا، جبکہ دو ذاتی سیکیورٹی افسران پر اعتماد کی مجرمانہ خلاف ورزی کے مقدمات درج کئے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: پرفیکشن جیسی کوئی چیز نہیں ہوتی، اپنی کمیوں کا جشن منانا چاہیے:سوربھ شکلا

دسمبر میں ہندوستانی حکام نے اس کیس میں چارج شیٹ بھی داخل کی، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ہندوستان میں تحقیقات ابھی جاری ہیں اور حکام اس معاملے کو محض حادثہ ماننے کیلئے تیار نہیں۔ قانونی ماہرین کے مطابق، اس کیس میں دو مختلف دائرہ اختیار سنگاپور اور ہندوستان کے نتائج میں تضاد مستقبل میں قانونی پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے، خاص طور پر اگر ثبوتوں کی تشریح میں فرق برقرار رہتا ہے۔

تازہ پیش رفت کے مطابق، سنگاپور کا فیصلہ بین الاقوامی سطح پر اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہ واقعہ وہیں پیش آیا، تاہم ہندوستان میں جاری فوجداری کارروائیاں اس کیس کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں۔ یہ معاملہ نہ صرف ایک مشہور فنکار کی موت بلکہ بین الاقوامی قانونی تعاون، شواہد کی تشریح، اور سیاسی بیانیے کے درمیان کشمکش کی ایک نمایاں مثال بن چکا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK