Inquilab Logo Happiest Places to Work

’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے بانی ابھیجیت دیپکے کون ہیں؟ وائرل ہونے کے بعد ناقدین کے شدید ردِعمل کا سامنا

Updated: May 21, 2026, 5:23 PM IST | New Delhi

”کاکروچ جنتا پارٹی“ کے بانی ابھیجیت دیپکے کو سوشل میڈیا پر ناقدین کے شدید ردِعمل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ تحریک سنگین سیاسی اور سماجی مسائل کو انٹرنیٹ کے تماشے میں تبدیل کر رہی ہے۔ تنقید کا جواب دیتے ہوئے دیپکے نے ایکس پر ناقدین سے پوچھا کہ کیا وہ ”خطرات مول لینے“ کیلئے تیار ہیں جنہیں دیپکے اس مہم کے ذریعے دعوت دے رہے ہیں۔

CJP Founder Abhijeet Dipke. Photo: X
’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے بانی ابھیجیت دیپکے۔ تصویر: ایکس

طنزیہ آن لائن تحریک ”کاکروچ جنتا پارٹی“ (سی جے پی) کے بانی لیڈر ابھیجیت دیپکے، سوشل میڈیا پر میمز پر مبنی اپنی سیاسی مہم کے وائرل ہونے کے بعد ہر طرف زیر بحث ہیں۔ انہیں ایک طرف زبردست حمایت تو دوسری طرف شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

ریاست مہاراشٹرا کے شہر پونے سے تعلق رکھنے والے ۳۰ سالہ ابھیجیت دیپکے پولیٹیکل کمیونیکیشن اسٹریٹجسٹ (سیاسی مواصلاتی حکمتِ عملی کے ماہر) ہیں اور صحافت و تعلقاتِ عامہ (پی آر) کے بیک گراؤنڈ سےتعلق رکھتے ہیں۔ عوامی سطح پر دستیاب معلومات کے مطابق، انہوں نے پونے میں صحافت میں گریجویشن مکمل کیا۔ وہ فی الحال بوسٹن یونیورسٹی (Boston University) سے پبلک ریلیشنز میں ماسٹرز کررہے ہیں اور امریکہ میں ہی مقیم ہیں۔ رپورٹس میں یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ دیپکے نے ۲۰۲۰ء سے ۲۰۲۳ء کے درمیان عام آدمی پارٹی (آپ) کی سوشل میڈیا ٹیم کے ساتھ کام کیا جہاں وہ ڈجیٹل مہم چلانے اور میمز پر مبنی سیاسی مواصلات میں شامل تھے۔

یہ بھی پڑھئے: چیف جسٹس آف انڈیا کے تبصرہ کے بعدسوشل میڈیا پر ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ کا قیام

انٹرنیٹ پر ”کاکروچ جنتا پارٹی“ کے نام سے ایک طنزیہ سیاسی تحریک شروع کرنے کے بعد دیپکے اس وقت سرخیوں میں آگئے ہیں۔ یہ تحریک اس وقت شروع ہوئی جب بے روزگار نوجوانوں کے بارے میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریہ کانت کے متنازع ”کاکروچ“ تبصرے کو ایک وائرل مہم میں بدل دیا گیا۔ ۱۶ مئی کو شروع ہونے والی اس تحریک کی بے پناہ مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس کے انسٹاگرام فالوورز کی تعداد صرف پانچ دنوں میں ایک کروڑ ۵۰ لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے۔ اس تحریک کے ذریعے روزگار کی کمی، نوجوانوں کی مایوسی اور مرکزی دھارے کی سیاست پر تبصرہ کرنے کیلئے مزاح، ریلز، نعروں اور سیاسی میمز کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ دیپکے کی جانب سے ایکس پر شیئر کی گئی معلومات کے مطابق، سی جے پی (CJP) کا آفیشل ایکس اکاؤنٹ اب بلاک کر دیا گیا ہے۔

”کاکروچ جنتا پارٹی“ کی اچانک مقبولیت کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے، دیپکے نے بتایا کہ سوشل میڈیا صارفین اور نوجوانوں کے اس زبردست ردِعمل نے انہیں بھی حیران کرکے رکھ دیا ہے۔ انہوں نے اس پروجیکٹ کو ”ایک بالکل اتفاقی سوچ“ سے شروع ہونے والا قرار دیا۔ دیپکے نے کہا کہ ”انہوں نے اتنے بڑے ردِعمل کی توقع نہیں کی تھی۔“ انہوں نے زور دیا کہ سوشل میڈیا پر زبردست ردِعمل روایتی سیاسی جماعتوں کے تئیں ہندوستانی نوجوانوں میں پائی جانے والی وسیع مایوسی کی عکاسی کرتا ہے۔ دیپکے کے مطابق، بہت سے نوجوانوں نے اس طنزیہ ”کاکروچ“ لیبل کو اپنے قریب پایا کیونکہ وہ مرکزی دھارے کی سیاست میں خود کو نظر انداز کئے جانے کا احساس رکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: بگڑتی معیشت کو سدھارنے کے لیے اقتصادی پالیسی میں وسیع تبدیلیاں ضروری: کانگریس

کاکروچ جنتا پارٹی خود کو ایک روایتی سیاسی جماعت کے بجائے نوجوانوں کا ایک طنزیہ پلیٹ فارم قرار دیتی ہے۔ اس کے منشور میں کئی اہم مطالبات شامل ہیں جیسے، چیف جسٹس صاحبان کیلئے ریٹائرمنٹ کے بعد راجیہ سبھا کے عہدوں پر پابندی، پارلیمنٹ میں خواتین کیلئے ۵۰ فیصد ریزرویشن، وفاداریاں تبدیل کرنے والے ارکانِ اسمبلی (MLAs) اور ارکانِ پارلیمنٹ (MPs) پر ۲۰ سال کی پابندی اور سی بی ایس ای (CBSE) امتحانات میں ری چیکنگ فیس کا خاتمہ۔ اس کی رکنیت کی اپیل میں بھی جان بوجھ کر مزاحیہ زبان کا استعمال کرتے ہوئے ان لوگوں کو دعوت دی گئی ہے جو ”بے روزگار، سست، ہر وقت انٹرنیٹ پر رہنے والے“ اور ”پیشہ ورانہ طور پر بھڑاس نکالنے“ کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

دیپکے کو سوشل میڈیا پر اب ناقدین کے شدید ردِعمل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ ناقدین کا استدلال ہے کہ یہ تحریک سنگین سیاسی اور سماجی مسائل کو انٹرنیٹ کے تماشے میں تبدیل کر رہی ہے۔ تنقید کا جواب دیتے ہوئے دیپکے نے ایکس پر پوسٹ کیا اور ناقدین سے پوچھا کہ کیا وہ وہ ”خطرات مول لینے“ کیلئے تیار ہیں جنہیں دیپکے اس مہم کے ذریعے دعوت دے رہے ہیں۔ دیپکے کے بیانات نے انٹرنیٹ پر نئی بحث چھیڑ دی ہے جہاں کچھ سوشل میڈیا صارفین ان کے تبصروں کا مذاق اڑا رہے ہیں جبکہ دیگر اس پلیٹ فارم کا سیاسی طنز اور نوجوانوں کے اظہارِ رائے کی ایک شکل کے طور پر دفاع کر رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK