Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران پر حملےموخر کرنے پر ٹرمپ اور نیتن یاہو کےدرمیان تلخ کلامی؛ تہران امریکی تجویز کا جائزہ لےرہاہے

Updated: May 21, 2026, 5:04 PM IST | Washington/Tel Aviv/Tehran

نیتن یاہو ایران کے خلاف زیادہ جارحانہ فوجی نقطہ نظر کی حمایت کرتے ہیں اور وہ مبینہ طور پر ایران پر حملوں میں لگاتار تاخیر سے مایوس ہو رہے ہیں۔ اسرائیلی حکام کا خیال ہے کہ اس تاخیر کی وجہ سے تہران کی مذاکراتی پوزیشن مضبوط ہوتی ہے۔

Trump and Netanyahu. Photo: X
نیتنی یاہو اور ٹرمپ۔ صویر: ایکس

امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجامن نیتن یاہو کے درمیان منگل کو ایک فون کال کے دوران سخت تلخ کلامی ہوئی، جس کے بعد ایران کے ساتھ جنگ کے مستقبل پر دونوں لیڈران کے درمیان شدید اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں۔ یہ کال، ٹرمپ کے ایران پر حملے کے اعلان اور بعد میں اسے موخر کردینے کے بعد سامنے آئی ہے۔

چند روز قبل اتوار کو ٹرمپ نے نیتن یاہو کو مطلع کیا تھا کہ امریکہ اس ہفتے کے شروع میں ”آپریشن سلیج ہیمر“ کے تحت ایران پر نئے حملوں کی تیاری کررہا ہے۔ تاہم، بعد میں ٹرمپ نے اعلان کیا کہ انہوں نے قطری امیر تمیم بن حمد آل ثانی، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے صدر محمد بن زاید آل نھیان سمیت خلیجی رہنماؤں کی اپیلوں کے بعد منگل کو ہونے والے ان مجوزہ حملوں کو مؤخر کر دیا ہے۔ ان پیش رفت سے واقف ذرائع کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک، وہائٹ ہاؤس کے حکام اور پاکستان کے ساتھ مل کر تب سے تہران کے ساتھ دوبارہ سفارت کاری کا فریم ورک تیار کرنے کیلئے ثالثی کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ایران کیخلاف ٹرمپ اب من مانی نہیں کرسکیں گے ! اختیارات محدود کرنے والی قرار داد منظور

نیتن یاہو ایران پر حملوں میں لگاتار تاخیر سے مایوس

رپورٹ کے مطابق منگل کو ہونے والی ایک گھنٹے کی طویل کال کے دوران، نیتن یاہو نے ٹرمپ سے کہا کہ حملوں میں تاخیر ایک غلطی تھی۔ انہوں نے فوجی کارروائی کو اصل منصوبے کے مطابق آگے بڑھانے پر زور دیا۔ ایک اسرائیلی اہلکار نے سی این این کو بتایا کہ ”اختلافِ رائے واضح تھا، ٹرمپ یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ آیا کوئی معاہدہ ہو سکتا ہے، لیکن نیتن یاہو کو کچھ اور ہی توقع تھی۔“ اس گفتگو کی تفصیلات سب سے پہلے ’ایکسیوس‘ نے رپورٹ کیں۔ ٹرمپ نے بدھ کو صحافیوں کو بتایا کہ ”ہم ایران کے آخری مراحل میں ہیں۔ یا تو ہمارا معاہدہ ہو جائے گا یا پھر ہم کچھ ایسی چیزیں کرنے جا رہے ہیں جو تھوڑی ناگوار ہوں گی۔“

نیتن یاہو ایران کے خلاف زیادہ جارحانہ فوجی نقطہِ نظر کی حمایت کرتے ہیں اور وہ مبینہ طور پر ایران پر حملوں میں لگاتار تاخیر سے مایوس ہو رہے ہیں۔ اسرائیلی حکام کا خیال ہے کہ اس تاخیر کی وجہ سے تہران کی مذاکراتی پوزیشن مضبوط ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی فوج میں جنسی ہراسانی کے کیسز میں اضافہ، ۲۰۲۵ء میں ۲۴۲۰؍ شکایات

سی این این کی طرف سے نقل کئے گئے ایک اور اسرائیلی ذریعے کے مطابق، اعلیٰ اسرائیلی حکام نے بھی نئے حملوں پر زور دیا ہے اور ایران کے اس رویے پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے جسے انہوں نے سفارتی سطح پر وقت ضائع کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ جب ٹرمپ سے نیتن یاہو کے ساتھ ان کی گفتگو کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے صورتحال پر اپنے اختیار کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ ”وہ وہی کریں گے جو میں ان سے کروانا چاہوں گا۔“

ایران تازہ ترین امریکی تجویز کا جائزہ لے رہا ہے

ایران نے بدھ کے دن تصدیق کی کہ وہ پاکستانی ثالثی کے ذرائع سے موصول ہونے والی امریکہ کی ایک نئی تجویز کا جائزہ لے رہا ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ تہران کو امریکی مؤقف موصول ہوا ہے اور وہ اپنے مطالبات بشمول منجمد ایرانی اثاثوں کی رہائی اور ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی کے خاتمے کو برقرار رکھتے ہوئے اس کا جائزہ لے رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ و اسرائیل ایران پر حملے کے بعد سابق صدراحمدی نژاد کو اقتدار میں لانا چاہتے تھے: نیویارک ٹائمز

ایک طرف، ٹرمپ مسلسل خبردار کر رہے ہیں کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات ناکام رہے تو فوجی کارروائی دوبارہ شروع ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب اسلامی نے انتباہ جاری کیا ہے کہ اگر حملے دوبارہ شروع ہوئے تو یہ”علاقائی جنگ“ مشرقِ وسطیٰ سے باہر تک پھیل جائے گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK