• Sun, 22 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سورج بڑجاتیا فلموں میں خاندانی روایات کے امین

Updated: February 22, 2026, 9:30 AM IST | Mumbai

سورج بڑجاتیا۲۲؍فروری۱۹۶۵ءکوممبئی میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق معروف فلمی خانوادے سے ہے۔ ان کے دادا تاراچند بڑجاتیا نے ۱۹۴۷ءمیں مشہور فلمی ادارہ راج شری پروڈکشنزقائم کیا تھا۔

Suraj Barjatya, who presents an ideal world. Photo: INN
ایک مثالی دنیا پیش کرنے والے سورج بڑجاتیا۔ تصویر: آئی این این

ہندوستان میں یوں تو ہر قسم کی فلمیں بنتی رہی ہیں لیکن خاندانی رشتوں اور جذبات کو زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔ اس معاملے میں سب سے اہم ناموں میں ایک نام پورے وقار کے ساتھ سامنے آتا ہے اور وہ نام ہے سورج بڑجاتیا کا۔ وہ محض ایک ہدایتکار نہیں، بلکہ اس روایت کے امین ہیں جس میں خاندان، رشتے، اقدار، شرم و حیا اور تہذیب کو مرکزی مقام حاصل ہے۔ بدلتے ہوئے وقت، تیز رفتار بیانیے اور شور شرابے سے بھرپور سنیما کے بیچ سورج بڑجاتیا نے ہمیشہ نرم لہجے، سادگی اور خاندانی جذبات کو اپنی پہچان بنایا۔ 
سورج بڑجاتیا ۲۲؍فروری۱۹۶۵ءکوممبئی میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق معروف فلمی خانوادے سے ہے۔ ان کے دادا تاراچند بڑجاتیا نے ۱۹۴۷ءمیں مشہور فلمی ادارہ راج شری پروڈکشنزقائم کیا تھا۔ 
راج شری پروڈکشنز وہ ادارہ ہے جس نے ہندوستانی سنیما میں صاف ستھری، اخلاقی اور خاندانی فلموں کی ایک مستقل روایت قائم کی۔ سورج نے اسی ماحول میں آنکھ کھولی جہاں اسکرپٹ، موسیقی، اور کہانیوں پر گفتگو روزمرہ کا حصہ تھی۔ انہوں نے کم عمری ہی میں فلم سازی کی باریکیوں کو سیکھنا شروع کر دیا تھا۔ مگر یاد رکھنا چاہیے کہ وراثت مل سکتی ہے، مقام نہیں۔ مقام حاصل کرنا پڑتا ہےاور سورج بڑجاتیا نے یہ مقام اپنی پہلی ہی فلم سے حاصل کرلیا تھا۔ 

یہ بھی پڑھئے: پران نے طویل عرصے تک بطور ویلن فلموں پر راج کیا

۱۹۸۹ءمیں صرف۲۴؍برس کی عمر میں انہوں نے اپنی پہلی فلم ’میں نے پیار کیا‘ کی ہدایتکاری کی۔ یہ فلم نہ صرف باکس آفس پر غیر معمولی کامیاب ثابت ہوئی بلکہ اس نےہندی رومانوی سنیما کی تعریف بدل دی۔ سادہ سی محبت کی کہانی، خاندانی رکاوٹیں، نغماتی انداز اور جذباتی شدت، سب کچھ ایسا کہ ناظرین برسوں تک اسے بھول نہ سکے۔ اسی فلم نے ایک نوجوان اداکار سلمان خان کو سپر اسٹار بنا دیا۔ سورج بڑجاتیا کا نام اصل معنوں میں ۱۹۹۴ء کی فلم’ہم آپ کے ہیں کون‘سے امر ہوا۔ یہ فلم صرف ایک فلم نہیں تھی، بلکہ شادی بیاہ، رسم و رواج، گیت و سنگیت اور خاندانی میل جول کا جشن تھی۔ اس نے ہندوستانی سنیما کی تاریخ میں کمائی کے ریکارڈ توڑے اور خاندانی فلموں کو دوبارہ مرکزِ نگاہ بنا دیا۔ اس کے بعد انہوں نے’ہم ساتھ ساتھ ہیں ‘کے ذریعے مشترکہ خاندان کے تصور کو بڑے پردے پر زندہ کیا۔ سورج بڑجاتیا کی فلموں میں جھگڑے بھی ہوتے ہیں، غلط فہمیاں بھی جنم لیتی ہیں، مگر انجام ہمیشہ مفاہمت، محبت اور رشتوں کی جیت پر ہوتا ہے۔ یہی ان کی شناخت ہے۔ ۲۰۰۶ءمیں انہوں نے ’ویواہ‘ بنائی، جوایک نسبتاً سادہ اور سنجیدہ رومانوی ڈراما تھی، جس میں منگنی سے شادی تک کے سفر کو نہایت تہذیبی انداز میں پیش کیا گیا۔ اس فلم نے ثابت کیا کہ سادہ کہانی، اگر دیانت داری سے سنائی جائے، تو آج کے دور میں بھی اثر چھوڑ سکتی ہے۔ ۲۰۱۵ءمیں انہوں نے’پریم رتن دھن پایو‘کے ذریعے دوبارہ شاندار پیمانے کی خاندانی فلم پیش کی۔ اگرچہ فلم کو تنقیدی طور پرملے جلے ردعمل کا سامنا کرنا پڑا، مگر اس نے باکس آفس پر اچھی کمائی کی اور ایک بار پھر سورج بڑجاتیا کی مخصوص جمالیات یعنی شاہانہ سیٹ، تہذیبی مکالمے اور رشتوں کی اہمیت کو سامنے رکھا۔ 
وقت کے ساتھ ان پر یہ تنقید بھی ہوتی رہی کہ ان کی فلمیں حقیقت سے زیادہ مثالی دنیا پیش کرتی ہیں۔ مگر سورج بڑجاتیا نے کبھی اس تنقید کو اپنے راستے کی رکاوٹ نہیں بنایا۔ وہ ہمیشہ کہتے ہیں کہ ان کا سنیما امید اور ہم آہنگی کی دنیا دکھاتا ہےاور شاید آج کے انتشار زدہ ماحول میں ایسی دنیا کی ضرورت پہلے سے زیادہ ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK