• Sun, 22 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہندوستان کی خواتین کرکٹ ٹیم نے تاریخ رقم کردی

Updated: February 22, 2026, 9:57 AM IST

آسٹریلیا کو ۱۷؍رنوں سے ہرایا، پہلی بار آسٹریلیا میں دوطرفہ سیریز میں کامیابی حاصل کی۔

The Indian team defeated Australia with an all-round performance. Photo: INN
ہندوستانی ٹیم نے آل راؤنڈ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آسٹریلیا کو شکست دے دی۔ تصویر: آئی این این

ہندوستانی خواتین کرکٹ ٹیم نے سنیچر کو تیسرا ٹی۔ ۲۰؍ مقابلہ ۱۷؍ رنوں سے جیت کر آسٹریلیا کی سرزمین پر پہلی بار کوئی دوطرفہ سیریز اپنے نام کر لی۔ اس سے قبل ہندوستانی خواتین ٹیم آسٹریلیا میں تینوں طرز کے کھیل میں کوئی بھی سیریز جیتنے میں کامیاب نہیں ہو سکی تھی۔ قابل ذکر ہے کہ۲۰۱۷ء کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ آسٹریلیا کو اپنے گھر پر کسی بھی فارمیٹ میں سیریز میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔  کامیابی کی بنیاد اسمرتی مندھانا اور جمائمہ روڈریگز کے درمیان شاندار شراکت نے رکھی۔ دونوں کے درمیان مضبوط ساجھے داری نے اننگز کو استحکام بخشا جبکہ رچا گھوش نے بھی ایڈیلیڈ اوول میں خواتین کے ٹی۔ ۲۰؍میں اعلیٰ اسکور تک رسائی میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کے بعد شریینکا پاٹل نے پاور پلے میں ۲؍ وکٹیں حاصل کر کے آسٹریلیا کے ابتدائی بلے بازی لائن اپ کو سخت دباؤ میں ڈال دیا۔ ایشلے گارڈنر نے ۵۷؍ رنوں کی اننگز کھیل کر میزبان ٹیم کو کچھ دیر امید ضرور دلائی، تاہم ان کی یہ کوشش ٹیم کو شکست سے نہ بچا سکی۔ 
میچ کے بعد ہندوستانی کپتان ہرمن پریت کور نے کہا’’یہ مکمل طور پر اجتماعی کوشش کا نتیجہ ہے۔ پوری ٹیم مثبت ذہنیت کے ساتھ میدان میں اتری اور ہر کھلاڑی ٹیم کیلئے کردار ادا کرنا چاہتی تھی۔ یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ سب نے آگے بڑھ کر ذمہ داری سنبھالی۔ اسمرتی مندھانا اور جمائمہ روڈریگز کی شراکت کے بارے میں انہوں نے کہا ’’ہر شراکت ہمارے لئے انتہائی اہم تھی۔ ٹیم میٹنگ میں یہی بات ہوئی تھی کہ کریز پر رکنا ضروری ہے اور ذمہ داری لینا ہوگی۔ دونوں نے غیر معمولی کردار ادا کیا۔ اسمرتی کی بلہ بازی شاندار تھی اور جمائمہ نے بھی درست وقت پر اہم تعاون دیا۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: نکیتا فلپوف نے غیر جانبدار کھلاڑی کے طور پر پہلا تمغہ جیت لیا

گیندبازی منصوبے پر گفتگو کرتے ہوئے ہرمن پریت کور نے کہا’’ہمارا منصوبہ سادہ تھا۔ جب بھی ہم ۱۰؍ وکٹیں حاصل کرتے ہیں تو جیت کے قریب ہوتے ہیں۔ ایسی مضبوط بلہ بازی رکھنے والی ٹیم کے خلاف اصل چیلنج وکٹیں حاصل کرنا تھا۔ یہ آسان نہیں تھا لیکن گیندبازوں نے عمدہ کارکردگی دکھائی۔ ‘‘انہوں نے شائقین کی حمایت کو سراہتے ہوئے کہا’’یہ ہمارے لئےبہت معنی رکھتا ہے۔ آج بڑی تعداد میں مداح اسٹیڈیم آئے اور ہندوستان کے حق میں نعرے لگائے۔ امید ہے ہم انہیں فخر محسوس کراتے رہیں گے۔ ‘‘
میچ کی بہترین کھلاڑی اسمرتی مندھانا نے کہا’’سیریز جیت میں کردار ادا کرنا خوش آئند ہے۔ آسٹریلیا کو اس کی سرزمین پر شکست دینا واقعی خاص لمحہ ہے۔ میں ٹیم کیلئے بے حد خوش ہوں۔ جمائمہ مجھے مسلسل رن لینے کیلئے متحرک رکھتی تھیں اور ہمارے درمیان بہترین تال میل رہا۔ ہم نے ۲۰۱۶ءمیں بھی یہاں کامیابی حاصل کی تھی لیکن آسٹریلیا میں طویل عرصے بعد ٹی۔ ۲۰؍کھیل رہے تھے، اس لئے یہ جیت خاص اہمیت رکھتی ہے۔ تمام کھلاڑیوں نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا۔ تاہم اب ہماری توجہ آئندہ یک روزہ سیریز پر مرکوز ہے اور ہم زیادہ جشن منانے کے بجائے اگلے مرحلے کی تیاری کریں گے۔ ‘‘
واضح رہے کہ ہندوستان نے پہلے بلے بازی کرتے ہوئے ۶؍وکٹوں کے نقصان پر ۱۷۶؍ رن بنائے تھے جس کے جواب میں میزبان آسٹریلیائی ٹیم۹؍وکٹ پر ۱۵۹؍رن ہی بنا سکی۔ اسمرتی مندھانا کو ان کی بہترین کارکردگی پر پلیئر آف دی میچ قرار دیا گیا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK