کلاسیس چلانے والے ایک ٹیچر نے پرچے شیئر کئے، پولیس میں معاملہ درج، وزیر تعلیم نے بھی انکوائری کا حکم دیا۔
EPAPER
Updated: February 22, 2026, 10:16 AM IST | Ali Imran | Nagpur
کلاسیس چلانے والے ایک ٹیچر نے پرچے شیئر کئے، پولیس میں معاملہ درج، وزیر تعلیم نے بھی انکوائری کا حکم دیا۔
ریاستی بورڈ نے اس بات کو یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کی ہے کہ دسویں اور بارہویں کے امتحانات نقل سے پاک اور تناؤ سےپرے ماحول میں منعقد ہوں اس کے بعد بھی نقل کے کئی معاملے سامنے آرہے ہیں۔ اس سلسلے میں ناگپور سے ایک حیران کن معاملہ سامنے آیا ہے۔ اطلاع ہے کہ ناگپور میں بارہویں جماعت کے دو مضامین کے پرچے لیک ہوئے ہیں اور اس سلسلے میں ناگپور کے صدر پولیس اسٹیشن میں کیس درج کیا گیا ہے۔ پولیس سے ملی معلومات کے مطابق یہ پیپر ایک واٹس ایپ گروپ تیار کر کے لیک کیے جا رہے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: آئی ایس آئی آر: گجرات میں ۶۸؍ لاکھ، دیگر ۴ ریاستوں میں ۹۹؍ لاکھ ووٹر خارج
بارہویں سائنس کا فزکس اور کیمسٹری کا پرچہ امتحان سے ایک گھنٹہ پہلے واٹس ایپ گروپ پر وائرل ہوا۔ بارہویں کا کیمسٹری کا پرچہ جمعرات کو تھا۔ تاہم امتحان سے قبل طلبہ کے واٹس ایپ گروپ پر یہ پیپر آ چکا تھا۔ یہ معاملہ ناگپور شہر کے صدر میں واقع سینٹ ارسولا امتحانی مرکز میں سرخیوں میں آیا۔ اس دوران سینٹ ارسولا امتحانی مرکز میں ایک طالبہ کو بار بار بیت الخلاء جاتے ہوئے دیکھا گیا جس کی وجہ سے مرکز میں موجود نگراں کو اس پر شبہ ہوا۔ ٹیچر کے ذریعے جب اِس کی تلاش لی گئی تو اس کے پاس ایک اسمارٹ فون برآمد ہوا۔ فون چیک کیا گیا تو پتہ چلا کہ امتحان شروع ہونے سے پہلے ہی پرچہ ایک واٹس ایپ گروپ میں بھیج دیا گیا تھا۔ مرکز کے سربراہ کی جانب سے اس معاملے میں پولیس کو اطلاع دینے کے بعد پولیس نے جانچ کے بعد مقدمہ درج کر لیا۔ اطلاع ہے کہ موبائل میں واٹس ایپ پر ۱۵؍ طلبہ کا ایک گروپ بنایا گیا تھا۔ اس معاملے میں طالبہ سے پوچھ تاچھ کی گئی تو، اس نے بتایا کہ ایک نجی ٹیوشن کلاس کے استاد نے پیسے لے کر یہ پرچے لیک کئے ہیں۔ اس معاملے میں صدر پولیس تھانےمیں شکایت درج کی گئی ہے اور تفتیش جاری ہے۔ خبر سرخیوں میں آنے کے بعد وزیر تعلیم نے بھی انکوائری کا حکم دیا ہے۔