• Sun, 22 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

آج احمد آباد میں ہائی وولٹیج مقابلہ، ہندوستان اور جنوبی افریقہ آمنے سامنے

Updated: February 22, 2026, 9:56 AM IST | Ahmedabad

سپر۔ ۸؍کے اپنے پہلے مقابلے میں دونوں ٹیمیں کامیابی حاصل کرکے اعتماد بڑھانے کی کوشش کریں گی، نریندر مودی اسٹیڈیم میں دونوں ٹیموں کا شاندار ریکارڈ، ٹیم انڈیا کاپلڑا بھاری رہنے کی امید۔

Team India captain Suryakumar Yadav and South Africa captain Aiden Markram. Photo: INN
ٹیم انڈیا کے کپتان سوریہ کمار یادواور جنوبی افریقہ کے کپتان ایڈن مارکرم۔ تصویر: آئی این این

آئی سی سی مینز ٹی۔ ۲۰؍ ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کے سپر۔ ۸؍ ایٹ مرحلے میں ایک دلچسپ اور سنسنی خیز مقابلہ ہونے والا ہے، جب کرکٹ کی ۲؍ بڑی ٹیمیں ہندوستان اور جنوبی افریقہ اتوارکو نریندرمودی اسٹیڈیم میں ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوں گی۔ دونوں ٹیمیں اب تک لیگ مرحلے میں ناقابل شکست ہیں، اس لئے یہ میچ صرف پوائنٹس کے لئے نہیں بلکہ نفسیاتی برتری کے لئے بھی بہت اہم ہے۔ ہندوستان اپنے گھریلو ریکارڈ کے ساتھ بھرپور اعتماد کے ساتھ اترا ہےکیونکہ اس نے اس اسٹیڈیم پر کھیلے گئے تمام ۷؍ ٹی۔ ۲۰؍ میچ اپنے نام کئے ہیں۔ 
لیکن افریقی ٹیم بھی اپنی ریکوری مشن کے ساتھ آئی ہے۔ انہوں نے بھی یہاں اپنے آخری ۳؍ ٹی۔ ۲۰؍ میچ جیتے ہیں، جو ثابت کرتا ہے کہ کوئی بھی جیت کا سلسلہ ناقابل شکست نہیں ہوتا۔ جنوبی افریقی ٹیم بھی ٹیم انڈیاکو ہرانے کے ارادے سے میدان میں اترے گی۔ 
ادھر ہندوستان کی بلے بازی خاص طور پر متاثر کن رہی ہے۔ ایشان کیشن ۱۷۶؍ رن بناکر لیڈ کررہے ہیں جو شروعات سے ہی کھیل پر قبضہ جمانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ سوریہ کمار یادو، جو اس اسٹیڈیم کے ماہر ہیں، ۶؍ میچ میں ۱۶۲؍ رن بنا چکے ہیں، جو فلیٹ ٹریک پر بلے بازی میں استحکام اور اپنی ٹائمنگ کے لئے جانے جاتے ہیں۔ شِوم دوبے نے فِنِشر کا کردار ادا کیا ہے اور ان کا اسٹرائیک ریٹ ۱۷۸؍سے زیادہ ہے۔ تاہم، ہندوستان کی بیٹنگ لائن میں کچھ چیلنجز بھی ہیں۔ ٹاپ آرڈر کے زیادہ تر بلے باز بائیں ہاتھ کے ہیں، جو جنوبی افریقہ کی مختلف قسم کی بولنگ کے سامنے کمزور ثابت ہوسکتے ہیں۔ ابھیشیک شرما کی خراب فارم بھی تشویش کا باعث ہے۔ اگر موقع دیا جائے تو سنجو سمیسن خاص طور پر اسپن بھرے درمیانی اوورز کے خلاف زبردست کردار ادا کر سکتے ہیں۔ 
اگر گیند بازی کے شعبے کی طرف دیکھیں تو ہندوستان کا بولنگ اٹیک متوازن نظر آتا ہے۔ ورون چکرورتی نے اب تک ۹؍ وکٹیں حاصل کی ہیں ، اکشر پٹیل نے ۶؍ وکٹیں حاصل کی ہیں اس طرح، اسپن گیند بازی ہندوستان کی حکمت عملی کا مرکزی ستون ہے۔ 
ہندوستان کے تیز گیند باز جسپریت بمراہ اور عرشدیپ سنگھ خاص طور پر آخری اوورز میں گیند بازی کے ذمہ دار ہیں۔ موقع ملنے پر محمد سراج بھی اپنی افادیت ثابت کرسکتے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: ٹی ۲۰؍ورلڈ کپ: پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان سپر ۸؍ کا بڑا ٹکراؤ

ٹاس اس مقابلے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے کیونکہ احمد آباد میں ڈے نائٹ میچ میں عام طور پر بعد میں بلے بازی کرنے والی ٹیموں کو تھوڑا سا فائدہ ملتا ہے۔ ٹاس جیتنے والا کپتان پہلے بولنگ کرنے کا فیصلہ کر سکتا ہے تاکہ فلڈ لائٹس کے تحت حالات کا فائدہ اٹھایا جا سکے۔ 
موجودہ ٹی۔ ۲۰؍ورلڈ کپ میں جنوبی افریقہ کی کارکردگی بھی متاثر کن رہی ہے، ٹیم میں گہرائی اور مستقل مزاجی دیکھی گئی ہے۔ کپتان ایڈن مارکرام ۱۷۸؍ رن بنا کر ٹیم کی قیادت کر رہے ہیں جبکہ رائین ریکلٹن اور ڈیووالڈ بریوس نے ٹاپ آرڈر بیٹنگ آرڈر میں ٹیم کا ساتھ دیا ہے۔ 
مڈل آرڈر میں ڈیوڈ ملر اور ٹریسٹن اسٹبس شامل ہیں، جو اسپن کے خلاف تجربہ اور جارحیت دونوں فراہم کرتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر اننگز کو تیز کر سکتے ہیں۔ حالانکہ جنوبی افریقہ کے گیند بازی کے شعبے میں کچھ مسائل بھی ہیں۔ کگیسو ربادا کو مشکلات کا سامنا رہا ہے، صرف ۲؍ وکٹیں حاصل کی ہیں ۔ لنگی انگیدی اپنی گیندبازی میں شاندار رہے ہیں۔ انہوں نے ۳؍ میچوں میں ۸؍ وکٹیں حاصل کی ہیں ۔ تو دوسری طرف مارکو یانسن نے اہم لمحات میں وکٹیں حاصل کر کے ٹیم کو سہارا دیا ہے۔ 
پروٹیاز(جنوبی افریقہ) کو ہندوستان کے مضبوط بلے بازی لائن اپ کو چیلنج کرنے کے لئےہر گیندباز کو بہترین مظاہرہ کرنا ہوگا۔ 
پچ اور موسم کی بات کی جائے تو احمد آباد کی پچ ہموار اور پر اثر ہے، گیند بیٹ پر اچھے سے آتی ہے۔ عام اسکور ۲۰۰؍سے ۲۱۰؍ کے درمیان متوقع ہے۔ تیز گیندبازوں کو کچھ سپورٹ ملے گی اور اسپنرز درمیانی اوورز میں میچ پرکنٹرول کرسکتے ہیں ۔ کُل ملاکر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہندوستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان شائقین کو ایک دلچسپ اور سنسنی خیز میچ دیکھنے کا موقع مل سکتا ہے جسے جیت کر دونوں ٹیمیں سپر۔ ۸؍کے بقیہ میچوں میں پُر اعتماد طریقے سے مخالف ٹیموں کا مقابلہ کرسکیں گے۔ دونوں ہی ٹیموں کے بلے بازجارحانہ بلے بازی کا مظاہرہ کریں گے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK