• Sun, 18 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سبھاش گھئی کا شکوہ، آج کے اداکار فن سے زیادہ پیسے کو ترجیح دیتے ہیں

Updated: October 17, 2026, 9:05 PM IST | Mumbai

معروف فلم ساز سبھاش گھئی نے کہا ہے کہ آج کی نئی نسل کے اداکار فن کے بجائے پیسے کمانے پر زیادہ توجہ دیتی ہے۔ انہوں نے شاہ رخ خان، عامر خان، سلمان خان اور اجے دیوگن کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ فن سے لگاؤ اور کام سے وابستگی ہی اداکاروں کو طویل عرصے تک فلمی دنیا میں متعلقہ رکھتی ہے۔

Subhash Ghai. Photo: INN
سبھاش گھئی۔ تصویر: آئی این این

فلمی دنیا میں کاروبار کا انداز وقت کے ساتھ بدلتا رہا ہے اور اسی کے ساتھ اداکاروں کے اپنے پروجیکٹس کے انتخاب کا طریقہ بھی تبدیل ہوا ہے۔ معروف فلم ساز سبھاش گھئی، جن کے نام پر کبھی شائقین بڑی تعداد میں سنیما گھروں کا رخ کیا کرتے تھے، نے ’اسکرین‘ کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں اس بات پر اظہارِ خیال کیا کہ آج کے اداکار اپنے فن کے مقابلے میں پیسے کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ شاہ رخ خان، عامر خان، سلمان خان اور اجے دیوگن جیسے ستارے آج بھی فلمی دنیا میں اپنی اہمیت کیوں برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ سبھاش گھئی نے کہا کہ آج فلمی دنیا پر کاروباری مفادات حاوی ہوگئے ہیں اور نئی نسل کے اداکار فن کے مقابلے میں زیادہ پیسے کمانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’آج کاروبار غالب آگیا ہے۔ آج کے نوجوان زیادہ پیسے کمانا چاہتے ہیں اور فن ان کے لیے نسبتاً کم اہمیت رکھتا ہے۔ ہمارے زمانے میں اداکار فن کار بننا چاہتے تھے اور ان کا خیال تھا کہ پیسہ بعد میں خود بخود آجائے گا۔ کوئی بھی پیسوں کا انتظار نہیں کرتا تھا۔ اداکار فلم کے ہدایتکار، کہانی اور کردار کی بنیاد پر اسے سائن کرتے تھے۔ میری زیادہ تر فلموں کے ستاروں نے طے شدہ معاوضے کا صرف ۴۰؍ فیصد لیا، کیونکہ وہ کردار اور کہانی میں دلچسپی رکھتے تھے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: کرن راؤ اور صبا آزاد عمران خان کی حمایت میں سامنے آگئیں

فلم ساز نے نشاندہی کی کہ آج اداکاروں کے پاس فلموں کے علاوہ آمدنی کے کئی ذرائع موجود ہیں۔ انہوں نے اداکاروں کے کریئر میں منیجرز اور تعلقاتِ عامہ (پی آر) کی ٹیموں کے کردار کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق، ’’آج اگر آپ کسی اداکار سے کہیں کہ وہ صرف ۴۰؍ فیصد معاوضہ لے تو اس کے چار منیجرز مداخلت کریں گے اور تین پی آر اہلکار مل کر اسے ایک مشہور شخصیت کے طور پر پیش کرنے لگیں گے۔ آج اداکاروں کے پاس فلموں کے علاوہ بھی پیسہ کمانے کے کئی ذرائع ہیں۔ لیکن یہ سب عارضی ہوتے ہیں۔ تین سے چار سال بعد ان کا چرچا ختم ہوجاتا ہے، پھر وہ منظر سے غائب ہوجاتے ہیں اور ان کی جگہ کوئی اور لے لیتا ہے۔‘‘

سبھاش گھئی کا کہنا ہے کہ جو اداکار اپنے فن سے مخلص ہوتے ہیں، وہ طویل عرصے تک فلمی دنیا میں اپنی جگہ برقرار رکھتے ہیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے شاہ رخ خان، عامر خان، سلمان خان اور اجے دیوگن کی مثالیں دیں، جو تقریباً ۴۰؍ برس سے فلمی دنیا میں سرگرم ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’ہاں، وقت بدل گیا ہے، کاروبار بدل گیا ہے اور اس کا طریقۂ کار بھی تبدیل ہوگیا ہے۔ آج شاہ رخ، عامر، سلمان اور اجے جیسے اداکار موجود ہیں، جو گزشتہ ۴۰؍ برس سے اداکاری کررہے ہیں، کیونکہ وہ پرانے زمانے کے فن سے مخلص اداکار ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ دوسری تمام چیزیں ثانوی حیثیت رکھتی ہیں۔ وہ شوٹنگ یا اپنے مناظر سے بڑھ کر کسی چیز کو ترجیح نہیں دیتے۔ نئی نسل کے اداکار کہتے ہیں کہ ہمیں بہت پیسے مل گئے ہیں، اب ہم ایک بڑی گاڑی خریدیں گے۔ یہ ایک چھوٹا سا مسئلہ ہے، لیکن وقت کے ساتھ وہ بھی اسے سمجھ جائیں گے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ماجد مجیدی کی ’’مڈ ڈے میل‘‘ نے بوسان فلم فیسٹیول کا سب سے بڑا ایوارڈ جیت لیا

دلیپ کمار نے سبھاش گھئی کو کیا مشورہ دیا تھا؟

اداکاروں کی بدلتی ترجیحات پر گفتگو کے علاوہ سبھاش گھئی نے آنجہانی اداکار دلیپ کمار سے ملنے والے ایک اہم مشورے کا بھی ذکر کیا۔ وہ دلیپ کمار کو اپنے بڑے بھائی کی طرح سمجھتے تھے۔ دلیپ کمار نے سبھاش گھئی کی تین فلموں ’’ودھاتا‘‘، ’’کرما‘‘ اور ’’سوداگر‘‘ میں کام کیا تھا۔ سبھاش گھئی نے بتایا، ’’دلیپ کمار نے میری تین فلموں میں کام کیا تھا۔ وہ میرے بڑے بھائی کی طرح تھے۔ وہ مجھے فلمی دنیا میں وقار کے ساتھ کام کرنے کے طریقے بتاتے تھے۔ ایک مرتبہ میں ان کے پاس دو تجاویز لے کر گیا۔ میں نے کہا کہ مجھے فلمی صنعت میں ۲۵؍ سال کا تجربہ ہوچکا ہے، تو کیا مجھے گرو دت، راج کمل یا راج کپور کی طرح اپنا فلم اسٹوڈیو کھولنا چاہیے یا ایک فلمی اسکول قائم کرنا چاہیے؟ اس پر دلیپ صاحب نے کہا کہ تم بہت اچھی طرح سمجھاتے ہو اور تم نے فلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا (ایف ٹی آئی آئی) سے تعلیم حاصل کی ہے، اس لیے تمہیں ایک فلمی ادارہ کھولنا چاہیے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: شاہ رخ خان نے ابوظہبی میں موسیقی کے بڑے میلے ’یونیفائیڈ‘ کا اعلان کردیا

او ٹی ٹی کے دور میں بھی سنیما کی اہمیت برقرار رہے گی

سبھاش گھئی نے یہ بھی وضاحت کی کہ او ٹی ٹی پلیٹ فارمز کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے باوجود سنیما اپنی اہمیت برقرار رکھے گا۔ اس سلسلے میں انہوں نے دھرمیندر کے طویل فلمی کریئر کی مثال دی اور کہا کہ وہ کئی دہائیوں تک سنیما گھروں میں شائقین کو اپنی طرف متوجہ کرتے رہے۔ انہوں نے کہا، ’’دھرمیندر او ٹی ٹی کے اداکار نہیں تھے۔ انہوں نے ۴۰؍ سے ۵۰؍ سال تک سنیما کی دنیا پر راج کیا۔ اسی طرح دلیپ کمار، راج کپور، دیو آنند اور کئی دوسرے عظیم اداکار بھی تھے۔‘‘ بڑے پردے پر فلم دیکھنے کے تجربے کی اہمیت بیان کرتے ہوئے سبھاش گھئی نے اپنی فلم ’سوداگر‘ کا ذکر کیا، جس میں انہوں نے دلیپ کمار اور راج کمار جیسے لیجنڈ اداکاروں کو ایک ساتھ پیش کیا تھا۔ انہوں نے کہا، ’’اس کی وجہ بڑا پردہ ہے۔ میں ’سوداگر‘ جیسی فلم کو ایک مختصر مائیکرو ڈرامے کی شکل میں نہیں بنا سکتا۔ اسی لیے سوچ بڑی ہونی چاہیے، فریم بڑے ہونے چاہئیں، مقامات وسیع ہونے چاہئیں اور کرداروں میں ایک غیر معمولی عظمت ہونی چاہیے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK